ghazalKuch Alfaaz

ب سے اک نگاہ ناز کو دراڑیں ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ حالانکہ شہر شہر ہے وہ ہے وہ پھیلا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مدت کے بعد آئی لگ دیکھا تو رو پڑا ک سے بہترین دوست سے روٹھا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہنا جو رین کوٹ تو بارش نہیں ہوئی لوٹا جو گھر تو شرم سے بھیگا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلے بھی دی گئی تھی مجھے بزم کی دعا پہلے بھی ا سے دعا پہ اکیلا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی عجیب بات ہے نا تو ہی آ گیا تو تری ہی انتظار ہے وہ ہے وہ بیٹھا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

More from Zubair Ali Tabish

تمہارے غم سے توبہ کر رہا ہوں ت غضب ہے ہے وہ ہے وہ ایسا کر رہا ہوں ہے اپنے ہاتھ ہے وہ ہے وہ اپنا گریبان لگ جانے ک سے سے جھگڑا کر رہا ہوں بے حد سے بند تالے کھل رہے ہیں تری سب خط اکٹھا کر رہا ہوں کوئی تتلی نشانے پر نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے رنگوں کا پیچھا کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رسمًا کہ رہا ہوں پھروں ملیںگے یہ مت سمجھو کہ وعدہ کر رہا ہوں مری احباب سارے شہر ہے وہ ہے وہ ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گاؤں ہے وہ ہے وہ کیا کر رہا ہوں مری ہر اک غزل اصلی ہے صاحب کئی برسوں سے دھندا کر رہا ہوں

Zubair Ali Tabish

38 likes

چل خواہش کی بات کریںگے خالی ڈش کی بات کریںگے پہلے پیاسے تو بن جاؤ پھروں بارش کی بات کریںگے آنا ٹوٹا رشتہ لے کر گنجائش کی بات کریںگے بندے اک دو سجدے کر کے فرمائش کی بات کریںگے جاناں اوروں کے شعر سناؤ ہم تابش کی بات کریںگے

Zubair Ali Tabish

37 likes

ایک پہنچا ہوا مسافر ہے دل بھٹکنے ہے وہ ہے وہ پھروں بھی ماہر ہے کون لایا ہے عشق پر ایمان ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی کافر ہوں تو بھی کافر ہے درد کا حقیقت جو حرف اول تھا درد کا حقیقت ہی حرف آخر ہے کام ادھورا پڑا ہے خوابوں کا آج پھروں نیند غیر حاضر ہے لاج رکھ لی تری سماعت نے ور لگ تابش بھی کوئی شاعر ہے

Zubair Ali Tabish

18 likes

پہلے مفت ہے وہ ہے وہ پیا سے بٹےگی بعد ہے وہ ہے وہ اک اک بوند بکےگی کتنے حسین ہوں ماشا اللہ جاناں پہ محبت خوب جچےگی ظالم ب سے اتنا بتلا دے کیا رونے کی چھوٹ ملےگی آج تو پتھر باندھ لیا ہے لیکن کل پھروں بھوک لگےگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی پاگل تو بھی پاگل ہم دونوں کی خوب جمےگی یار نے پانی پھیر دیا ہے خاک ہماری خاک اڑےگی دنیا کو ایسے بھولوںگا دنیا مجھ کو یاد کرے گی

Zubair Ali Tabish

30 likes

چاند کو دامن ہے وہ ہے وہ لا کر رکھ دیا ا سے نے مری گود ہے وہ ہے وہ سر رکھ دیا آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو ہے ک سے کے نام کے ک سے نے کشتی ہے وہ ہے وہ سمندر رکھ دیا حقیقت بتانے لگ گیا تو مجبوریاں اور پھروں ہم نے ریسیور رکھ دیا

Zubair Ali Tabish

31 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Zubair Ali Tabish.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Zubair Ali Tabish's ghazal.