فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سو میں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا رات بھر پچھلی سی آہٹ کان میں آتی رہی جھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھا میں تری صورت لیے سارے زمانے میں پھرا ساری دنیا میں مگر کوئی ترے جیسا نہ تھا آج ملنے کی خوشی میں صرف میں جاگا نہیں تیری آنکھوں سے بھی لگتا ہے کہ تو سویا نہ تھا یہ سبھی ویرانیاں اس کے جدا ہونے سے تھیں آنکھ دھندلائی ہوئی تھی شہر دھندلایا نہ تھا سینکڑوں طوفان لفظوں میں دبے تھے زیر لب ایک پتھر تھا خموشی کا کہ جو ہٹتا نہ تھا یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیمؔ بھول جانے کے سوا اب کوئی بھی چارا نہ تھا مصلحت نے اجنبی ہم کو بنایا تھا عدیمؔ ورنہ کب اک دوسرے کو ہم نے پہچانا نہ تھا
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
ہے وہ ہے وہ نے تو ب سے مزاق ہے وہ ہے وہ پوچھا خراب ہے حقیقت پیر ہاتھ دیکھ کے بولا خراب ہے ہر دن اسے دکھایا کہ کتنے غنیم ہیں ہر رات ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ سوچا خراب ہے یہ عشق ہوں چکا ہے ترپ چال تاش کی آگے غلام کے میرا اکا خراب ہے آزاد لڑ کیوں سے بھلی قید عورتیں زار کہ جھیل ٹھیک ہے دریا خراب ہے ہم ج سے خدا کی آ سے ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہیں رات دن حقیقت جا چکا ہے بول کے دنیا خراب ہے زیادہ کسی کی موت پہ رونا نہیں صحیح اور جنم دن پہ شور شرابا خراب ہے آدھا بھی ا سے کے جتنا ہے وہ ہے وہ روشن نہیں ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دیے کو بول رہا تھا خراب ہے
Kushal Dauneria
35 likes
پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں
Ali Zaryoun
158 likes
More from Adeem Hashmi
کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتا مجھے گھر کاغذی پھولوں سے مہکانا نہیں آتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو کچھ ہوں وہی کچھ ہوں جو ظاہر ہے حقیقت باطن ہے مجھے جھوٹے در و دیوار شیوہ ارباب فن نہیں آتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دریا ہوں م گر بہتا ہوں ہے وہ ہے وہ کوہسار کی جانب مجھے دنیا کی پستی ہے وہ ہے وہ اتر جانا نہیں آتا زر و مال و جواہر لے بھی اور ٹھکرا بھی سکتا ہوں کوئی دل پیش کرتا ہوں تو ٹھکرانا نہیں آتا پرندہ جانب دانا ہمیشہ اڑ کے آتا ہے پرندے کی طرف اڑ کر کبھی دا لگ نہیں آتا ا گر صحرا ہے وہ ہے وہ ہیں تو آپ خود آئی ہیں صحرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کے گھر تو چل کر کوئی ویرا لگ نہیں آتا ہوا ہے جو صدا ا سے کو نصیبوں کا لکھا سمجھا عدیم اپنے کیے پر مجھ کو پچھتانا نہیں آتا
Adeem Hashmi
2 likes
تری لیے چلے تھے ہم تری لیے ٹھہر گئے تو نے کہا تو جی اٹھے تو نے کہا تو مر گئے کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے تری بھی دن گزر گئے مری بھی دن گزر گئے تو بھی کچھ اور اور ہے ہم بھی کچھ اور اور ہیں جانے حقیقت تو کدھر گیا تو جانے حقیقت ہم کدھر گئے را ہوں ہے وہ ہے وہ ہی ملے تھے ہم راہیں نصیب بن گئیں حقیقت بھی لگ اپنے گھر گیا تو ہم بھی لگ اپنے گھر گئے سمے ہی جدائی کا اتنا طویل ہوں گیا تو دل ہے وہ ہے وہ تری وصال کے جتنے تھے زخم بھر گئے ہوتا رہا مقابلہ پانی کا اور پیا سے کا صحرا امڈ امڈ پڑے دریا بفر بفر گئے حقیقت بھی غبار خواب تھا ہم بھی غبار خواب تھے حقیقت بھی کہی بکھر گیا تو ہم بھی کہی بکھر گئے کوئی کنار آبجو بیٹھا ہوا ہے سر نگوں کشتی کدھر چلی گئی جانے کدھر بھنور گئے آج بھی انتظار کا سمے حنوط ہوں گیا تو ایسا لگا کہ حشر تک سارے ہی پل ٹھہر گئے بارش وصل حقیقت ہوئی سارا غمدیدہ دھل گیا تو حقیقت بھی نکھر نکھر گیا تو ہم بھی نکھر نکھر گئے آب محیط عشق کا بہر عجیب بہر ہے تری تو غرق ہوں گئے ڈوبے
Adeem Hashmi
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Adeem Hashmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Adeem Hashmi's ghazal.







