falak se chand sitaron se jaam lena hai mujhe sahar se nai ek shaam lena hai kise khabar ki farishte ghhazal samajhte hain khuda ke samne kafir ka naam lena hai muamla hai tira badtarin dushman se mire aziiz mohabbat se kaam lena hai mahakti zulfon se khushbu chamakti aankh se dhuup shabon se jam-e-sahar ka salam lena hai tumhari chaal ki ahistagi ke lahje men sukhan se dil ko masalne ka kaam lena hai nahin main 'mir' ke dar par kabhi nahin jaata mujhe khuda se ghhazal ka kalam lena hai bade saliqe se noton men us ko tulva kar amir-e-shahr se ab intiqam lena hai falak se chand sitaron se jam lena hai mujhe sahar se nai ek sham lena hai kise khabar ki farishte ghazal samajhte hain khuda ke samne kafir ka nam lena hai muamla hai tera badtarin dushman se mere aziz mohabbat se kaam lena hai mahakti zulfon se khushbu chamakti aankh se dhup shabon se jam-e-sahar ka salam lena hai tumhaari chaal ki aahistagi ke lahje mein sukhan se dil ko masalne ka kaam lena hai nahin main 'mir' ke dar par kabhi nahin jata mujhe khuda se ghazal ka kalam lena hai bade saliqe se noton mein us ko tulwa kar amir-e-shahr se ab intiqam lena hai
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
More from Bashir Badr
مان موسم کا کہا چھائی گھٹا جام اٹھا آگ سے آگ بجھا پھول کھلا جام اٹھا پی مری یار تجھے اپنی قسم دیتا ہوں بھول جا شکوہ گلہ ہاتھ ملا جام اٹھا ہاتھ ہے وہ ہے وہ چاند ج ہاں آیا مقدر چمکا سب بدل جائےگا قسمت کا لکھا جام اٹھا ایک پل بھی کبھی ہوں جاتا ہے صدیوں جیسا دیر کیا کرنا ی ہاں ہاتھ بڑھا جام اٹھا پیار ہی پیار ہے سب لوگ برابر ہیں ی ہاں مختلف ہے وہ ہے وہ کوئی چھوٹا لگ بڑا جام اٹھا
Bashir Badr
1 likes
جب تک نگار دشت کا سینا دکھا لگ تھا صحرا ہے وہ ہے وہ کوئی لالا صحرا کھلا لگ تھا دو جھیلیں ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ لہرا کے سو گئیں ا سے سمے مری عمر کا دریا چڑھا لگ تھا جاگی لگ تھیں نسوں ہے وہ ہے وہ تمنا کی ناگنیں ا سے گندمی شراب کو جب تک چکھا لگ تھا ڈھونڈا کروں جہان تحیر ہے وہ ہے وہ عمر بھر حقیقت چلتی پھرتی چھاؤں ہے ہے وہ ہے وہ نے کہا لگ تھا اک بےوفا کے سامنے آنسو بہاتے ہم اتنا ہماری آنکھ کا پانی مرا لگ تھا حقیقت کالے ہونٹ جام سمجھ کر چڑھا گئے حقیقت لو ج سے سے ہے وہ ہے وہ نے وضو تک کیا لگ تھا سب لوگ اپنے اپنے خداؤں کو لائے تھے ایک ہم ایسے تھے کہ ہمارا خدا لگ تھا حقیقت کالی آنکھیں شہر ہے وہ ہے وہ مشہور تھیں بے حد تب ان پہ موتے شیشوں کا چشمہ چڑھا لگ تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ صاحب غزل تھا حسینوں کی بزم ہے وہ ہے وہ ہے وہ سر پر گھنیری بال تھے ماتھا کھلا لگ تھا
Bashir Badr
3 likes
صبح کا جھرنا ہمیشہ ہنسنے والی عورتیں جھٹپٹے کی ندیاں خاموش گہری عورتیں موتدل کر دیتی ہیں یہ سرد موسم کا مزاج برف کے ٹیلو پہ چڑھتی دھوپ جیسی عورتیں سبز نارنجی سنہری کھٹی میٹھی لڑکیاں بھاری جسموں والی ٹپکے آم جیسی عورتیں سڑکوں بازاروں مکانوں دفترون ہے وہ ہے وہ رات دن یشودا نیلی سبز نیلی جلتی بجھتی عورتیں شہر ہے وہ ہے وہ اک باغ ہے اور باغ ہے وہ ہے وہ تالاب ہے چٹخے گی ہیں ای سے ہے وہ ہے وہ ساتوں رنگ والی عورتیں سیکڑوں ایسی دکانیں ہیں جہاں مل جائیں گی دھات کی پتھر کی شیشے کی ربڑ کی عورتیں منجمد ہیں برف ہے وہ ہے وہ کچھ آگ کے پیکر ابھی مقبرے کی چادریں ہیں پھول جیسی عورتیں ان کے اندر پک رہا ہے وقت کا غم جاں جن پہاڑوں کو ڈھکے ہیں برف جیسی عورتیں آنسوؤں کی طرح تارے گر رہے ہیں عرش سے رو رہی ہیں آسمانوں کی اکیلی عورتیں غور سے سورج نکلتے وقت دیکھو آسماں چومتی ہیں کہ سے کا ماتھا اجلی لمبی عورتیں سبز سونے کے پہاڑوں پر قطار اندر قطار سر سے سر جوڑے کھڑی ہیں لمبی سیدھی عورتیں واقعی دونوں ب
Bashir Badr
5 likes
پھول برسے کہی شبنم کہی گوہر برسے اور ا سے دل کی طرف برسے تو پتھر برسے کوئی بادل ہوں تو تھم جائے م گر خوشی مری ایک رفتار سے دن رات برابر برسے برف کے پھولوں سے روشن ہوئی تاریک ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ رات کی شاخ سے چنو مہ و اندھیرا برسے پیار کا گیت اندھیروں پہ اجالوں کی فوار اور خوبصورت کی صدا شیشے پہ پتھر برسے بارشیں چھت پہ کھلی آبرو پہ ہوتی ہیں م گر غم حقیقت ساون ہے جو ان کمروں کے اندر برسے
Bashir Badr
4 likes
پتھر کے ج گر والو غم ہے وہ ہے وہ حقیقت روانی ہے خود راہ بنا لےگا بہتا ہوا پانی ہے اک ذہن پریشاں ہے وہ ہے وہ خواب غزلستاں ہے پتھر کی حفاظت ہے وہ ہے وہ شیشے کی جوانی ہے دل سے جو چھٹے بادل تو آنکھ ہے وہ ہے وہ ساون ہے ٹھہرا ہوا دریا ہے بہتا ہوا پانی ہے ہم رنگ دل پر خوں ہر لالہ صحرائی گیسو کی طرح مضطر اب رات کی رانی ہے ج سے سنگ پہ نظریں کیں خورشید حقیقت ہے ج سے چاند سے منا موڑا پتھر کی کہانی ہے اے پیر خرد مند دل کی بھی ضرورت ہے یہ شہر غزالاں ہے یہ ملک جوانی ہے غم وجہ فگار دل غم وجہ قرار دل آنسو کبھی شیشہ ہے آنسو کبھی پانی ہے ا سے حوصلہ دل پر ہم نے بھی کفن پہنا ہنسکر کوئی پوچھےگا کیا جان گنوائی ہے دن تلخ حقائق کے صحراؤں کا سورج ہے شب گیسو افسا لگ یادوں کی کہانی ہے حقیقت حسن جسے ہم نے رسوا کیا دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نادیدہ حقیقت ہے نا گفتہ کہانی ہے حقیقت مصرع آوارہ دیوانوں پہ بھاری ہے ج سے ہے وہ ہے وہ تری گیسو کی بے ربط کہانی ہے ہم خوشبو آوارہ ہم نور پریشاں ہیں اے بدر مقدر ہے وہ ہے
Bashir Badr
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Bashir Badr.
Similar Moods
More moods that pair well with Bashir Badr's ghazal.







