ghazalKuch Alfaaz

صبح کا جھرنا ہمیشہ ہنسنے والی عورتیں جھٹپٹے کی ندیاں خاموش گہری عورتیں موتدل کر دیتی ہیں یہ سرد موسم کا مزاج برف کے ٹیلو پہ چڑھتی دھوپ جیسی عورتیں سبز نارنجی سنہری کھٹی میٹھی لڑکیاں بھاری جسموں والی ٹپکے آم جیسی عورتیں سڑکوں بازاروں مکانوں دفترون ہے وہ ہے وہ رات دن یشودا نیلی سبز نیلی جلتی بجھتی عورتیں شہر ہے وہ ہے وہ اک باغ ہے اور باغ ہے وہ ہے وہ تالاب ہے چٹخے گی ہیں ای سے ہے وہ ہے وہ ساتوں رنگ والی عورتیں سیکڑوں ایسی دکانیں ہیں جہاں مل جائیں گی دھات کی پتھر کی شیشے کی ربڑ کی عورتیں منجمد ہیں برف ہے وہ ہے وہ کچھ آگ کے پیکر ابھی مقبرے کی چادریں ہیں پھول جیسی عورتیں ان کے اندر پک رہا ہے وقت کا غم جاں جن پہاڑوں کو ڈھکے ہیں برف جیسی عورتیں آنسوؤں کی طرح تارے گر رہے ہیں عرش سے رو رہی ہیں آسمانوں کی اکیلی عورتیں غور سے سورج نکلتے وقت دیکھو آسماں چومتی ہیں کہ سے کا ماتھا اجلی لمبی عورتیں سبز سونے کے پہاڑوں پر قطار اندر قطار سر سے سر جوڑے کھڑی ہیں لمبی سیدھی عورتیں واقعی دونوں ب

Related Ghazal

اب کے ملی شکست مری اور سے مجھے جتوا دیا گیا تو کسی کمزور سے مجھے الفاظ ڈھونے والی اک آواز تھا ہے وہ ہے وہ ب سے پھروں ا سے نے سنکے شعر کیا شور سے مجھے تجھ کو لگ پاکے خوش ہوں کہ کھونے کا ڈر نہیں غربت بچا رہی ہے ہر اک چور سے مجھے جو شاخ پر ہیں تری گزرنے کے باوجود حقیقت پھول چبھ رہے ہیں بے حد زور سے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا تھا اور کچھ اونچا ہوں آسمان قدرت نے پتھ سونپ دیے مور سے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے قبول کر لیا چپ چاپ حقیقت گلاب جو شاخ دے رہی تھی تیری اور سے مجھے ہلکے سے ا سے نے پوچھا کسے دوں ہے وہ ہے وہ اپنا دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ من ہی من ہے وہ ہے وہ چیخا بے حد زور سے مجھے

Charagh Sharma

21 likes

اب ا سے بھرم ہے وہ ہے وہ ہر ایک رات کاٹنی ہے مجھے کے آنے والی تری ساتھ کاٹنی ہیں مجھے تجھے دلانا ہے احسا سے اپنے ا سے دکھ کا تو کچھ تو بول تیری بات کاٹنی ہے مجھے مجھے طلوع سحر کی تسلیاں مت دے ابھی تو یہ شب میسج کاٹنی ہیں مجھے

Ismail Raaz

24 likes

ہم جی رہے ہیں کوئی بہانا کیے بغیر ا سے کے بغیر ا سے کی تمنا کیے بغیر امبار ا سے کا پردہ حرمت بنا میاں دیوار تک نہیں گری پردہ کیے بغیر یاراں حقیقت جو ہے میرا مسیحا جان و دل بے حد عزیز ہے مجھے اچھا کیے بغیر ہے وہ ہے وہ ہے وہ بستر خیال پہ ڈیوٹی ہوں ا سے کے پا سے صبح ازل سے کوئی تقاضا کیے بغیر ا سے کا ہے جو بھی کچھ ہے میرا اور ہے وہ ہے وہ م گر حقیقت مجھ کو چاہیے کوئی سودا کیے بغیر یہ زندگی جو ہے اسے معنی بھی چاہیے وعدہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ قبول ہے ایفا کیے بغیر اے قاتلوں کے شہر ب سے اتنی ہی عرض ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں لگ قتل کوئی تماشا کیے بغیر مرشد کے جھوٹ کی تو سزا بے حساب ہے جاناں چھوڑ یوں لگ شہر کو صحرا کیے بغیر ان آنگنوں ہے وہ ہے وہ کتنا سکون و سرور تھا آرائش نظر تری پروا کیے بغیر یاراں خوشا یہ روز و شب دل کہ اب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ ہے خوش گوار بے شرط کیے بغیر گریہ کناں کی فرد ہے وہ ہے وہ اپنا نہیں ہے نام ہم گریہ کن ازل کے ہیں گریہ کیے بغیر آخر ہیں کون لوگ جو بخشی

Jaun Elia

36 likes

پرائی آگ پہ روٹی نہیں بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھیگ جاؤں گا چھتری نہیں بناؤں گا ا گر خدا نے بنانے کا اختیار دیا الم بناؤں گا برچھی نہیں بناؤں گا فریب دے کے ترا جسم جیت لوں لیکن ہے وہ ہے وہ ہے وہ پیڑ کاٹ کے کشتی نہیں بناؤں گا گلی سے کوئی بھی گزرے تو چونک اٹھتا ہوں نئے مکان ہے وہ ہے وہ کھڑکی نہیں بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دشمنوں سے ا گر جنگ جیت بھی جاؤں تو ان کی عورتیں قی گرا نہیں بناؤں گا تمہیں پتا تو چلے بے زبان چیز کا دکھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب چراغ کی لو ہی نہیں بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک فلم بناؤں گا اپنے ثروت پر اور ا سے ہے وہ ہے وہ ریل کی پٹری نہیں بناؤں گا

Tehzeeb Hafi

92 likes

जो हम पे गुज़रे थे रंज सारे जो ख़ुद पे गुज़रे तो लोग समझे जब अपनी अपनी मोहब्बतों के अज़ाब झेले तो लोग समझे वो जिन दरख़्तों की छाँव में से मुसाफ़िरों को उठा दिया था उन्हीं दरख़्तों पे अगले मौसम जो फल न उतरे तो लोग समझे उस एक कच्ची सी उम्र वाली के फ़लसफ़े को कोई न समझा जब उस के कमरे से लाश निकली ख़ुतूत निकले तो लोग समझे वो ख़्वाब थे ही चँबेलियों से सो सब ने हाकिम की कर ली बै'अत फिर इक चँबेली की ओट में से जो साँप निकले तो लोग समझे वो गाँव का इक ज़ईफ़ दहक़ाँ सड़क के बनने पे क्यूँँ ख़फ़ा था जब उन के बच्चे जो शहर जा कर कभी न लौटे तो लोग समझे

Ahmad Salman

28 likes

More from Bashir Badr

مری نظر ہے وہ ہے وہ خاک تری آئینے پہ گرد ہے یہ چاند کتنا زرد ہے یہ رات کتنی سرد ہے کبھی کبھی تو یوں لگا کہ ہم سبھی قید ہستی ہیں تمام شہر ہے وہ ہے وہ لگ کوئی زن لگ کوئی مرد ہے خدا کی نظموں کی کتاب ساری کائنات ہے غزل کے شعر کی طرح ہر ایک فرد فرد ہے حیات آج بھی کنیز ہے حضور جبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو زندگی کو جیت لے حقیقت زندگی کا مرد ہے اسے تبرک حیات کہ کے پلکوں پر رکھوں ا گر مجھے یقین ہوں یہ راستے کی گرد ہے حقیقت جن کے ذکر سے رگوں ہے وہ ہے وہ دوڑتی تھیں بجلیاں انہی کا ہاتھ ہم نے چھو کے دیکھا کتنا سرد ہے

Bashir Badr

2 likes

ख़ून पत्तों पे जमा हो जैसे फूल का रंग हरा हो जैसे बारहा ये हमें महसूस हुआ दर्द सीने का ख़ुदा हो जैसे यूँँ तरस खा के न पूछो अहवाल तीर सीने पे लगा हो जैसे फूल की आँख में शबनम क्यूँँ है सब हमारी ही ख़ता हो जैसे किर्चें चुभती हैं बहुत सीने में आइना टूट गया हो जैसे सब हमें देखने आते हैं मगर नींद आँखों से ख़फ़ा हो जैसे अब चराग़ों की ज़रूरत भी नहीं चाँद इस दिल में छुपा हो जैसे

Bashir Badr

1 likes

چائے کی پیالی ہے وہ ہے وہ نیلی ٹیبلٹ گھولی سے ہمیں سے ہمیں ہاتھوں نے اک کتاب پھروں کھولی دائرے اندھیروں کے روشنی کے پورو نے کوٹ کے بٹن کھولے ٹائی کی گرہ کھولی شیشے کی سلائی ہے وہ ہے وہ کالے بھوت کا چڑھنا بام کاٹھ کا گھوڑا نیم کانچ کی گولی برف ہے وہ ہے وہ دبا مکھن موت ریل اور رکشہ زندگی خوشی رکشہ ریل مو ٹرین ڈولی اک کتاب چاند اور پیڑ سب کے کالے کالر پر ذہن ٹیپ کی گردش منا ہے وہ ہے وہ توتوں کی بولی حقیقت نہیں ملی ہم کو حک بٹن سرکتی زین زپ کے دانت کھلتے ہی آنکھ سے گری چولی

Bashir Badr

2 likes

حقیقت چاندنی کا بدن خوشبوؤں کا سایہ ہے بے حد عزیز ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے م گر پرایا ہے اتر بھی آؤ کبھی آ سماں کے زینے سے تمہیں خدا نے ہمارے لیے بنایا ہے ک ہاں سے آئی یہ خوشبو یہ گھر کی خوشبو ہے ا سے اجنبی کے اندھیرے ہے وہ ہے وہ کون آیا ہے مہک رہی ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاندنی کے پھولوں سے خدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے اسے کسی کی محبت کا اعتبار نہیں اسے زمانے نے شاید بے حد ستایا ہے تمام عمر میرا دل اسی دھوئیں ہے وہ ہے وہ گھٹا حقیقت اک چراغ تھا ہے وہ ہے وہ نے اسے بجھایا ہے

Bashir Badr

5 likes

ہونٹوں پہ محبت کے فسانے نہیں آتے ساحل پہ سمندر کے خزانے نہیں آتے پلکیں بھی چمک اٹھتی ہیں سونے ہے وہ ہے وہ ہماری آنکھوں کو ابھی خواب چھپانے نہیں آتے دل اجڑی ہوئی ایک سرائے کی طرح ہے اب لوگ ی ہاں رات جگانے نہیں آتے یاروں نئے موسم نے یہ احسان کیے ہیں اب یاد مجھے درد پرانی نہیں آتے اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے ا سے شہر کے بادل تری زلفوں کی طرح ہیں یہ آگ لگاتے ہیں بجھانے نہیں آتے احباب بھی غیروں کی ادا سیکھ گئے ہیں آتے ہیں م گر دل کو دکھانے نہیں آتے

Bashir Badr

7 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Bashir Badr.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Bashir Badr's ghazal.