ghazalKuch Alfaaz

ہونٹوں پہ محبت کے فسانے نہیں آتے ساحل پہ سمندر کے خزانے نہیں آتے پلکیں بھی چمک اٹھتی ہیں سونے ہے وہ ہے وہ ہماری آنکھوں کو ابھی خواب چھپانے نہیں آتے دل اجڑی ہوئی ایک سرائے کی طرح ہے اب لوگ ی ہاں رات جگانے نہیں آتے یاروں نئے موسم نے یہ احسان کیے ہیں اب یاد مجھے درد پرانی نہیں آتے اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے ا سے شہر کے بادل تری زلفوں کی طرح ہیں یہ آگ لگاتے ہیں بجھانے نہیں آتے احباب بھی غیروں کی ادا سیکھ گئے ہیں آتے ہیں م گر دل کو دکھانے نہیں آتے

Related Ghazal

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

More from Bashir Badr

فلک سے چاند ستاروں سے جام لینا ہے مجھے سحر سے نئی ایک شام لینا ہے کسے خبر کہ فرشتے غزل سمجھتے ہیں خدا کے سامنے کافر کا نام لینا ہے معاملہ ہے ترا بدترین دشمن سے مری عزیز محبت سے کام لینا ہے مہکتی زلفوں سے خوشبو چمکتی ہوئی آنکھ سے دھوپ شبوں سے جام سحر کا سلام بخیر لینا ہے تمہاری چال کی آہستگی کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سخن سے دل کو مسلنے کا کام لینا ہے نہیں ہے وہ ہے وہ میر کے در پر کبھی نہیں جاتا مجھے خدا سے غزل کا چھوؤں گا لینا ہے بڑے سلیقے سے نوٹوں ہے وہ ہے وہ ا سے کو تلوہ کر امیر شہر سے اب انتقام لینا ہے

Bashir Badr

1 likes

مری نظر ہے وہ ہے وہ خاک تری آئینے پہ گرد ہے یہ چاند کتنا زرد ہے یہ رات کتنی سرد ہے کبھی کبھی تو یوں لگا کہ ہم سبھی قید ہستی ہیں تمام شہر ہے وہ ہے وہ لگ کوئی زن لگ کوئی مرد ہے خدا کی نظموں کی کتاب ساری کائنات ہے غزل کے شعر کی طرح ہر ایک فرد فرد ہے حیات آج بھی کنیز ہے حضور جبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو زندگی کو جیت لے حقیقت زندگی کا مرد ہے اسے تبرک حیات کہ کے پلکوں پر رکھوں ا گر مجھے یقین ہوں یہ راستے کی گرد ہے حقیقت جن کے ذکر سے رگوں ہے وہ ہے وہ دوڑتی تھیں بجلیاں انہی کا ہاتھ ہم نے چھو کے دیکھا کتنا سرد ہے

Bashir Badr

2 likes

ख़ून पत्तों पे जमा हो जैसे फूल का रंग हरा हो जैसे बारहा ये हमें महसूस हुआ दर्द सीने का ख़ुदा हो जैसे यूँँ तरस खा के न पूछो अहवाल तीर सीने पे लगा हो जैसे फूल की आँख में शबनम क्यूँँ है सब हमारी ही ख़ता हो जैसे किर्चें चुभती हैं बहुत सीने में आइना टूट गया हो जैसे सब हमें देखने आते हैं मगर नींद आँखों से ख़फ़ा हो जैसे अब चराग़ों की ज़रूरत भी नहीं चाँद इस दिल में छुपा हो जैसे

Bashir Badr

1 likes

دل ہے وہ ہے وہ اک تصویر چھپی تھی آن بسی ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ہم نے آج غزل سی بات لکھی ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چنو اک ہریجن لڑکی مندیر کے دروازے پر شام دیوں کی تھال سجائے جھانک رہی ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے رومال کو کام ہے وہ ہے وہ لاؤ اپنی پلکیں صاف کروں میلا میلا چاند نہیں ہے دھول جمی ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پڑھتا جا یہ منظر نامہ زرد عظیم پہاڑوں کا دھوپ کھیلی پلکوں کے اوپر برف جمی ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اک ناول لکھا ہے آنے والی صبح کے نام کتنی راتوں کا جاگا ہوں نیند بھری ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ

Bashir Badr

6 likes

چائے کی پیالی ہے وہ ہے وہ نیلی ٹیبلٹ گھولی سے ہمیں سے ہمیں ہاتھوں نے اک کتاب پھروں کھولی دائرے اندھیروں کے روشنی کے پورو نے کوٹ کے بٹن کھولے ٹائی کی گرہ کھولی شیشے کی سلائی ہے وہ ہے وہ کالے بھوت کا چڑھنا بام کاٹھ کا گھوڑا نیم کانچ کی گولی برف ہے وہ ہے وہ دبا مکھن موت ریل اور رکشہ زندگی خوشی رکشہ ریل مو ٹرین ڈولی اک کتاب چاند اور پیڑ سب کے کالے کالر پر ذہن ٹیپ کی گردش منا ہے وہ ہے وہ توتوں کی بولی حقیقت نہیں ملی ہم کو حک بٹن سرکتی زین زپ کے دانت کھلتے ہی آنکھ سے گری چولی

Bashir Badr

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Bashir Badr.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Bashir Badr's ghazal.