اب ا سے بھرم ہے وہ ہے وہ ہر ایک رات کاٹنی ہے مجھے کے آنے والی تری ساتھ کاٹنی ہیں مجھے تجھے دلانا ہے احسا سے اپنے ا سے دکھ کا تو کچھ تو بول تیری بات کاٹنی ہے مجھے مجھے طلوع سحر کی تسلیاں مت دے ابھی تو یہ شب میسج کاٹنی ہیں مجھے
Related Ghazal
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
Jaun Elia
113 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
More from Ismail Raaz
ٹھوکروں ہے وہ ہے وہ اثر نہیں آیا دل ابھی راہ پر نہیں آیا خود ہے وہ ہے وہ دیکھا جو جھانک کر تری بعد مجھ کو ہے وہ ہے وہ بھی نظر نہیں آیا مدتوں سے سکوت چیختا ہے لیکن اب تک اثر نہیں آیا چاند ک سے تمکنت سے نکلےگا تو ا گر بام پر نہیں آیا کب سے گھر چھوڑ کر گیا تو ہوا ہوں کب سے ہے وہ ہے وہ لوٹ کر نہیں آیا
Ismail Raaz
10 likes
رو برو تری بے حد دیر بٹھایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ وجد ہے وہ ہے وہ آیا نہیں وجد ہے وہ ہے وہ لایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلسلہ ختم لگ ہوگا یہ دل آزاری کا ا سے سے پہلے بھی کئی بار منایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ یوں لگا سب نے گواہی دی کہ تو میرا ہے جب تری نام سے بستی ہے وہ ہے وہ ستایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب جب اسرار مری ذات کے کھلنے سے رہے چھیڑ کر ذکر ترا وجد ہے وہ ہے وہ لایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ سے رستے ہے وہ ہے وہ زنداں کی اذیت پوچھو ٹھوکریں مار کے رستے سے ہٹایا گیا تو ہے وہ ہے وہ
Ismail Raaz
9 likes
پڑی ہے رات کوئی غم شنا سے بھی نہیں ہے شراب خانے ہے وہ ہے وہ آدھا گلا سے بھی نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کو لے کر کہا نکلوں اتنی رات گئے مکان ا سے کا کہی آ سے پا سے بھی نہیں ہے ی ہاں تو لڑکیاں اچھا سا گھر بھی چاہتی ہے ہمارے پا سے تو اچھا لبا سے بھی نہیں ہے
Ismail Raaz
19 likes
زندگی تو نے سلوک ایسے کیے ساتھ مری حقیقت تو اچھا ہے کہ باندھے ہوئے ہیں ہاتھ مری روز ہے وہ ہے وہ لوٹتا ہوں خود ہے وہ ہے وہ ندامت کے ساتھ روز مجھ کو کہی پھینک آتے ہیں جذبات مری مجھ کو سنیے نظر انداز لگ کیجے صاحب مری حالات سے اچھے ہے خیالات مری
Ismail Raaz
15 likes
تیری گلی کو چھوڑ کے پاگل نہیں گیا تو رسی تو جل گئی ہے مگر بل نہیں گیا تو مجنوں کی طرح چھوڑا نہیں ہے وہ ہے وہ نے شہر کو زبان ہے وہ ہے وہ ہجر کاٹنے جنگل نہیں گیا تو اس کا کا کو نظر اٹھا کے ذرا دیکھنے تو دے پھروں کہنا میرا جادو اگر چل نہیں گیا تو ہاں یہ حقیقت آنکھیں ٹاٹ کو تکتے ہی بجھ گئیں ہاں یہ حقیقت دل کہ جانب مخمل نہیں گیا تو تیرے مکان کے بعد قدم ہی نہیں اٹھے تیرے مکان سے آگے ہے وہ ہے وہ پیدل نہیں گیا تو
Ismail Raaz
11 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ismail Raaz.
Similar Moods
More moods that pair well with Ismail Raaz's ghazal.







