ghazalKuch Alfaaz

تیری گلی کو چھوڑ کے پاگل نہیں گیا تو رسی تو جل گئی ہے مگر بل نہیں گیا تو مجنوں کی طرح چھوڑا نہیں ہے وہ ہے وہ نے شہر کو زبان ہے وہ ہے وہ ہجر کاٹنے جنگل نہیں گیا تو اس کا کا کو نظر اٹھا کے ذرا دیکھنے تو دے پھروں کہنا میرا جادو اگر چل نہیں گیا تو ہاں یہ حقیقت آنکھیں ٹاٹ کو تکتے ہی بجھ گئیں ہاں یہ حقیقت دل کہ جانب مخمل نہیں گیا تو تیرے مکان کے بعد قدم ہی نہیں اٹھے تیرے مکان سے آگے ہے وہ ہے وہ پیدل نہیں گیا تو

Ismail Raaz11 Likes

Related Ghazal

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

More from Ismail Raaz

رو برو تری بے حد دیر بٹھایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ وجد ہے وہ ہے وہ آیا نہیں وجد ہے وہ ہے وہ لایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلسلہ ختم لگ ہوگا یہ دل آزاری کا ا سے سے پہلے بھی کئی بار منایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ یوں لگا سب نے گواہی دی کہ تو میرا ہے جب تری نام سے بستی ہے وہ ہے وہ ستایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب جب اسرار مری ذات کے کھلنے سے رہے چھیڑ کر ذکر ترا وجد ہے وہ ہے وہ لایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ سے رستے ہے وہ ہے وہ زنداں کی اذیت پوچھو ٹھوکریں مار کے رستے سے ہٹایا گیا تو ہے وہ ہے وہ

Ismail Raaz

9 likes

پڑی ہے رات کوئی غم شنا سے بھی نہیں ہے شراب خانے ہے وہ ہے وہ آدھا گلا سے بھی نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کو لے کر کہا نکلوں اتنی رات گئے مکان ا سے کا کہی آ سے پا سے بھی نہیں ہے ی ہاں تو لڑکیاں اچھا سا گھر بھی چاہتی ہے ہمارے پا سے تو اچھا لبا سے بھی نہیں ہے

Ismail Raaz

19 likes

زما لگ ا سے لیے لہجہ بدل رہا ہے دوست ہمارا سمے ذرا پیچھے چل رہا دوست ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسکرا رہا ہوں تیری رخصتی پہ ا گر تو مجھ ہے وہ ہے وہ کون ہے جو ہاتھ مل رہا ہے دوست لگ مل سکی مری حصے کی روشنی بھی مجھے میرا چراغ کہی اور جل رہا ہے دوست پلید کر کے ہمارے وجود کی مٹی ہمارے نام کا سورج نکل رہا ہے دوست بتائیں کیا تجھے اب خستہ حالی دل راز شکستہ خواب کے ٹکڑوں پہ پل رہا ہے دوست

Ismail Raaz

15 likes

ٹھوکروں ہے وہ ہے وہ اثر نہیں آیا دل ابھی راہ پر نہیں آیا خود ہے وہ ہے وہ دیکھا جو جھانک کر تری بعد مجھ کو ہے وہ ہے وہ بھی نظر نہیں آیا مدتوں سے سکوت چیختا ہے لیکن اب تک اثر نہیں آیا چاند ک سے تمکنت سے نکلےگا تو ا گر بام پر نہیں آیا کب سے گھر چھوڑ کر گیا تو ہوا ہوں کب سے ہے وہ ہے وہ لوٹ کر نہیں آیا

Ismail Raaz

10 likes

زندگی تو نے سلوک ایسے کیے ساتھ مری حقیقت تو اچھا ہے کہ باندھے ہوئے ہیں ہاتھ مری روز ہے وہ ہے وہ لوٹتا ہوں خود ہے وہ ہے وہ ندامت کے ساتھ روز مجھ کو کہی پھینک آتے ہیں جذبات مری مجھ کو سنیے نظر انداز لگ کیجے صاحب مری حالات سے اچھے ہے خیالات مری

Ismail Raaz

15 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ismail Raaz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ismail Raaz's ghazal.