ghazalKuch Alfaaz

زما لگ ا سے لیے لہجہ بدل رہا ہے دوست ہمارا سمے ذرا پیچھے چل رہا دوست ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسکرا رہا ہوں تیری رخصتی پہ ا گر تو مجھ ہے وہ ہے وہ کون ہے جو ہاتھ مل رہا ہے دوست لگ مل سکی مری حصے کی روشنی بھی مجھے میرا چراغ کہی اور جل رہا ہے دوست پلید کر کے ہمارے وجود کی مٹی ہمارے نام کا سورج نکل رہا ہے دوست بتائیں کیا تجھے اب خستہ حالی دل راز شکستہ خواب کے ٹکڑوں پہ پل رہا ہے دوست

Ismail Raaz15 Likes

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

کیا غلط فہمی ہے وہ ہے وہ رہ جانے کا صدمہ کچھ نہیں حقیقت مجھے سمجھا تو سکتا تھا کہ ایسا کچھ نہيں عشق سے بچ کر بھی بندہ کچھ نہیں ہوتا مغر یہ بھی سچ ہے عشق ہے وہ ہے وہ بندے کا اختیار کچھ نہیں جانے کیسے راز سینے ہے وہ ہے وہ لیے بیٹھا ہے حقیقت زہر کھا لیتا ہے پر منا سے اگلتا کچھ نہیں شکر ہے کہ ا سے نے مجھ سے کہ دیا کہ کچھ تو ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے کہنے ہی والا تھا کہ اچھا کچھ نہیں

Tehzeeb Hafi

105 likes

More from Ismail Raaz

رو برو تری بے حد دیر بٹھایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ وجد ہے وہ ہے وہ آیا نہیں وجد ہے وہ ہے وہ لایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلسلہ ختم لگ ہوگا یہ دل آزاری کا ا سے سے پہلے بھی کئی بار منایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ یوں لگا سب نے گواہی دی کہ تو میرا ہے جب تری نام سے بستی ہے وہ ہے وہ ستایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب جب اسرار مری ذات کے کھلنے سے رہے چھیڑ کر ذکر ترا وجد ہے وہ ہے وہ لایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ سے رستے ہے وہ ہے وہ زنداں کی اذیت پوچھو ٹھوکریں مار کے رستے سے ہٹایا گیا تو ہے وہ ہے وہ

Ismail Raaz

9 likes

پڑی ہے رات کوئی غم شنا سے بھی نہیں ہے شراب خانے ہے وہ ہے وہ آدھا گلا سے بھی نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کو لے کر کہا نکلوں اتنی رات گئے مکان ا سے کا کہی آ سے پا سے بھی نہیں ہے ی ہاں تو لڑکیاں اچھا سا گھر بھی چاہتی ہے ہمارے پا سے تو اچھا لبا سے بھی نہیں ہے

Ismail Raaz

19 likes

ٹھوکروں ہے وہ ہے وہ اثر نہیں آیا دل ابھی راہ پر نہیں آیا خود ہے وہ ہے وہ دیکھا جو جھانک کر تری بعد مجھ کو ہے وہ ہے وہ بھی نظر نہیں آیا مدتوں سے سکوت چیختا ہے لیکن اب تک اثر نہیں آیا چاند ک سے تمکنت سے نکلےگا تو ا گر بام پر نہیں آیا کب سے گھر چھوڑ کر گیا تو ہوا ہوں کب سے ہے وہ ہے وہ لوٹ کر نہیں آیا

Ismail Raaz

10 likes

زندگی تو نے سلوک ایسے کیے ساتھ مری حقیقت تو اچھا ہے کہ باندھے ہوئے ہیں ہاتھ مری روز ہے وہ ہے وہ لوٹتا ہوں خود ہے وہ ہے وہ ندامت کے ساتھ روز مجھ کو کہی پھینک آتے ہیں جذبات مری مجھ کو سنیے نظر انداز لگ کیجے صاحب مری حالات سے اچھے ہے خیالات مری

Ismail Raaz

15 likes

اب ا سے بھرم ہے وہ ہے وہ ہر ایک رات کاٹنی ہے مجھے کے آنے والی تری ساتھ کاٹنی ہیں مجھے تجھے دلانا ہے احسا سے اپنے ا سے دکھ کا تو کچھ تو بول تیری بات کاٹنی ہے مجھے مجھے طلوع سحر کی تسلیاں مت دے ابھی تو یہ شب میسج کاٹنی ہیں مجھے

Ismail Raaz

24 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ismail Raaz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ismail Raaz's ghazal.