ghazalKuch Alfaaz

گرجتی ہے برستی ہے مناتی ہے وہی لڑکی پریشاں جب بھی ہوتا ہوں ہنساتی ہے وہی لڑکی شکایت کرتی ہے حقیقت بھی م گر انداز ایسا ہے لپٹتی ہے گلے ک سے کے لگاتی ہے وہی لڑکی ج ہاں ہے وہ ہے وہ جتنی خوبی ہیں مجھے سب ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دکھتی ہیں لگ کوئی اور مجھ کو صرف بھاتی ہے وہی لڑکی حقیقت کتنی خوبصورت ہے ہے وہ ہے وہ سب کو اب بتاؤں گا ہوا ہے یہ مری سپنوں ہے وہ ہے وہ آتی ہے وہی لڑکی ہنسی ہے وہ ہے وہ جب بھی کہتا ہوں ہے وہ ہے وہ جاناں کو بھول جاؤں گا رو رو کر یار تب غصہ مہ لقا ہے وہی لڑکی لگ جانے کیا کیا کہتی ہے مری بیمار ہونے پر مجھے سچ ہے وہ ہے وہ بے حد باتیں سناتی ہے وہی لڑکی

Related Ghazal

اذیت ہے کہ روز و شب گھٹن محسو سے ہوتی ہے بھلے ہوں پا سے مری سب گھٹن محسو سے ہوتی ہے گھٹن مری دیوانی ہے گھٹن کا ہے وہ ہے وہ دیوا لگ ہوں زمانے کو بنا زار گھٹن محسو سے ہوتی ہے مجھے تجھ پر نہیں خود پر بے حد افسو سے ہوتا ہے تری ہوتے ہوئے بھی جب گھٹن محسو سے ہوتی ہے وہی ج سے باغ ہے وہ ہے وہ سب لوگ تازہ سان سے لیتے ہیں مجھے ا سے باغ ہے وہ ہے وہ بھی اب گھٹن محسو سے ہوتی ہے

Ahmad Abdullah

26 likes

نہیں آتا کسی پر دل ہمارا وہی کشتی وہی ساحل ہمارا تری در پر کریںگے نوکری ہم تیری گلیاں ہیں مستقبل ہمارا کبھی ملتا تھا کوئی ہوٹلوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کبھی بھرتا تھا کوئی بل ہمارا

Tehzeeb Hafi

83 likes

حقیقت زما لگ گزر گیا تو کب کا تھا جو دیوا لگ مر گیا تو کب کا ڈھونڈتا تھا جو اک نئی دنیا لوٹ کے اپنے گھر گیا تو کب کا حقیقت جو لایا تھا ہم کو دریا تک پار اکیلے اتر گیا تو کب کا ا سے کا جو حال ہے وہی جانے اپنا تو زخم بھر گیا تو کب کا خواب در خواب تھا جو شیرازہ اب ک ہاں ہے بکھر گیا تو کب کا

Javed Akhtar

62 likes

مری اشعار سنہانا لگ سنہانے دینا جب ہے وہ ہے وہ دنیا سے چلا جاؤں تو جانے دینا ساتھ ان کے ہے بے حد خاک اڑائی ہے وہ ہے وہ نے ان ہواؤں کو مری خاک اڑانے دینا مت بتانا کہ بکھر جائیں تو کیا ہوتا ہے نئی جالے کو نئے خواب سجانے دینا سمے دنیا کو سنائے گا کہانی مری کہے دیتا ہوں میرا نام لگ آنے دینا ر ہوں خاموش تو خاموش ہی رکھنا مجھ کو اور ا گر شور مچاؤں تو مچانے دینا اب تو بارش ہے وہ ہے وہ بھی سکول کھلا کرتے ہیں و ہاں مت بھیجنا بچوں کو نہانے دینا جان لینا کہ نیا ہاتھ بلاتا ہے تمہیں گر کوئی ہاتھ چھڑائے تو چھڑانے دینا ہاں وہی بات جو معلوم ہے جاناں لوگوں کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی بات چھپاؤں گا چھپانے دینا مری جینے پہ ہنسے لوگ کوئی بات نہیں ہاں مری موت کا ماتم لگ منانے دینا

Ameer Imam

18 likes

بات ہے وہ ہے وہ بچھڑنا نہیں کرتا اور وضاحت کبھی نہیں کرتا ایک ہی بات مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اچھی ہے اور ہے وہ ہے وہ ب سے وہی نہیں کرتا مجھ کو کیسے ملے بھلا فرصت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی کام ہی نہیں کرتا آپ ہی لوگ مار دیتے ہیں کوئی بھی خود کشی نہیں کرتا ایک جگنو ہے تیری یادوں کا جو کبھی روشنی نہیں کرتا

Ammar Iqbal

37 likes

More from Prashant Sitapuri

अकेला ही चला था मैं अकेले ही सफ़र में हूँ मगर मैं कार - आमद हूँ दुआ में हूँ असर में हूँ ख़ता हो कोई मुझ सेे और लोगों को मिले मौक़ा' संभल कर पैर रखता हूँ ज़माने की नज़र में हूँ ज़हर के हूबहू बातें निकलने का यही कारन ज़हर ही मुझ में है या तो रगो - पै मैं ज़हर में हूँ तू आली है तू ने ही रंक को राजा बनाया है ख़ुदा तू मेरी सुन ले मैं हमेशा से सिफ़र में हूँ कभी सोंचो कि मैं हर बात पर हर बार क्यूँँ राजी मेरी उल्फ़त तुझे खोने से डरता हूँ तो डर में हूँ जो अच्छे दिल के हैं यारों वही गुमनाम रहते हैं मैं झूठा हूँ फ़रेबी हूँ मगर जानाँ ख़बर में हूँ मेरा तो ख़ूब मन करता कि उस के घर को जाऊँ मैं मगर वो ये नहीं कहता चले आओ मैं घर में हूँ

Prashant Sitapuri

3 likes

मैं बुरा हूँ और हूँ मजबूऱ आदत के लिए दूर रहिए आप भी अपनी शराफत के लिए है अगर मुझ सेे गिला तो आज़मा के देख ले तू कहे तो जान हाज़िर है मुहब्बत के लिए तेरे आगे ख़ूब-सूरत चाँद भी फीका पड़े और क्या तारीफ़ तेरी यार सूरत के लिए आदतों से यार गर तासीर मिलती है यहाँ ख़ुद को भी बर्बाद कर लूँ मैं भी आदत के लिए मर के ही तो आदमी बनता बड़ा है आज , सो हम भी देखो मर रहे हैं थोड़ी इज़्ज़त के लिए बे-वफ़ा हैं, आप फिर भी दिल लगाया आपसे मिल रही है इस लिए भी दाद हिम्मत के लिए घर में कुछ भी बोल कर चल जाएगा तो काम पर भीड़ में क्या बोलना है सीख गैरत के लिए ये शिकायत मुझ को है क्यूँँ दोहरापन है यहाँ इस जहाँ में क़ायदे क्यूँँ सिर्फ़ औरत के लिए

Prashant Sitapuri

13 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Prashant Sitapuri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Prashant Sitapuri's ghazal.