گرمی شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو گل کھلے جاتے ہیں حقیقت سایہ تر تو دیکھو ایسے نادان بھی لگ تھے جاں سے گزرنے والے ناصحوں پند گرو گھبرائیے تو دیکھو حقیقت تو حقیقت ہے تمہیں ہوں جائے گی الفت مجھ سے اک نظر جاناں میرا محبوب نظر تو دیکھو حقیقت جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں دیکھنے والو کبھی ان کا ج گر تو دیکھو دامن درد کو دل ناشاد بنا رکھا ہے آؤ اک دن دل پر خوں کا ہنر تو دیکھو صبح کی طرح جھمکتا ہے شب غم کا پیام عشقفیض تابندگی دیدہ تر تو دیکھو
Related Ghazal
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
بات مقدر کی ہے ساری سمے کا لکھا مارتا ہے کچھ سجدوں ہے وہ ہے وہ مر جاتے ہیں کچھ کو سجدہ مارتا ہے صرف ہم ہی ہیں جو تجھ پر ملائے گا کے ملائے گا مرتے ہیں ورنا کسی کو تیری آنکھیں کسی کو لہجہ مارتا ہے دل والے ایک دوجے کی امداد کو خود مر جاتے ہیں دنیا دار کو جب بھی مارے دنیا والا مارتا ہے شہر ہے وہ ہے وہ ایک نئے قاتل کے حسن سخن کے بلوے ہیں ا سے سے بچ کے رہنا شعر سنا کے بندہ مارتا ہے
Ali Zaryoun
43 likes
یہ پیار تیری بھول ہے قبول ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سنگ ہوں تو پھول ہے قبول ہے دغا بھی دوں گا پیار ہے وہ ہے وہ کبھی کبھی کہ یہ میرا اصول ہے قبول ہے تجھے ج ہاں عزیز ہے تو چھوڑ جا مجھے یہ اجازت فضول ہے قبول ہے تو روٹھے گی تو ہے وہ ہے وہ مناؤںگا نہیں جو رول ہے حقیقت رول ہے قبول ہے لپٹ اے شاخے گل م گر یہ سوچ کر میرا بدن ببول ہے قبول ہے یہی ہے گر تری رضا تو بول پھروں قبول ہے قبول ہے قبول ہے
Varun Anand
42 likes
اب مزید ا سے سے یہ رشتہ نہیں رکھا جاتا ج سے سے اک بے وجہ کا پردہ نہیں رکھا جاتا ایک تو ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں تجھ سے محبت لگ کروں اور پھروں ہاتھ بھی ہلکا نہیں رکھا جاتا پڑھنے جاتا ہوں تو تسمے نہیں باندے جاتے گھر پلٹتا ہوں تو بستہ نہیں رکھا جاتا در و دیوار پہ جنگل کا گماں ہوتا ہے مجھ سے اب گھر ہے وہ ہے وہ پرندہ نہیں رکھا جاتا
Tehzeeb Hafi
69 likes
More from Faiz Ahmad Faiz
اب کے بر سے دستور ستم ہے وہ ہے وہ کیا کیا باب ایزاد ہوئے جو قاتل تھے مقتول ہوئے جو دام نا رسائی تھے اب صیاد ہوئے پہلے بھی اڑائے ہے وہ ہے وہ باغ اجڑے پر یوں نہیں چنو اب کے بر سے سارے بوٹے پتہ پتہ رویش رویش برباد ہوئے پہلے بھی طواف شم وفا تھی رسم محبت والوں کی ہم جاناں سے پہلے بھی ی ہاں منصور ہوئے فرہاد ہوئے اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن ہے وہ ہے وہ کوہرام مچا اک چہرہ کمھلا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے فیض لگ ہم یوسف لگ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے اپنی کیا کنعان ہے وہ ہے وہ رہے یا مصر ہے وہ ہے وہ جا آباد ہوئے
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
دربار ہے وہ ہے وہ اب سطوت شاہی کی علامت دربان کا اسا ہے کہ مصنف کا ہے آوارہ ہے پھروں کوہ ندا پر جو ناروا تمہید مسرت ہے کہ طول شب غم ہے ج سے دھجی کو گلیوں ہے وہ ہے وہ لیے پھرتے ہیں طفلاں یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا الم ہے ج سے نور سے ہے شہر کی دیوار درخشاں یہ خون شہیداں ہے کہ زر خا لگ جم ہے حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یاروں کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیں کبھی صحبتیں کبھی فرقتیں کبھی دوریاں کبھی رنگیں یہ سخن جو ہم نے رقم کیے یہ ہیں سب ورق تری یاد کے کوئی لمحہ حساب آرز کا کوئی شام ہجر کی مدتیں جو تمہاری مان لیں ناصحا تو رہے گا دامن دل ہے وہ ہے وہ کیا لگ کسی عدو کی عداوتیں لگ کسی صنم کی مروتیں چلو آؤ جاناں کو دکھائیں ہم جو بچا ہے مقتل شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ مزار اہل صفا کے ہیں یہ ہیں اہل صدق کی تربتیں مری جان آج کا غم لگ کر کہ لگ جانے کاتب سمے نے کسی اپنے کل ہے وہ ہے وہ بھی بھول کر کہی لکھ رکھی ہوں مسرتیں
Faiz Ahmad Faiz
1 likes
قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم سب کچھ نثار راہ وفا کر چکے ہیں ہم کچھ امتحاں دست کہوں کر چکے ہیں ہم کچھ ان کی دسترسی کا پتا کر چکے ہیں ہم اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہی قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم دیکھیں ہے کون کون ضرورت نہیں رہی کوئے ستم ہے وہ ہے وہ سب کو خفا کر چکے ہیں ہم اب اپنا اختیار ہے چاہے ج ہاں چلیں رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم ان کی نظر ہے وہ ہے وہ کیا کریں فیکا ہے اب بھی رنگ جتنا لہو تھا صرف قبا کر چکے ہیں ہم کچھ اپنے دل کی پربھاکر کا بھی شکرا لگ چاہیے سو بار ان کی پربھاکر کا گلہ کر چکے ہیں ہم
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
شام فراق اب لگ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی دل تھا کہ پھروں بہل گیا تو جاں تھی کہ پھروں سنبھل گئی بزم خیال ہے وہ ہے وہ تری حسن کی شمع جل گئی درد کا چاند بجھ گیا تو ہجر کی رات ڈھل گئی جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھی جب ترا غم جگا لیا رات مچل مچل گئی دل سے تو ہر معاملہ کر کے چلے تھے صاف ہم کہنے ہے وہ ہے وہ ان کے سامنے بات بدل بدل گئی آخر شب کے ہم سفر فیض لگ جانے کیا ہوئے رہ گئی ک سے جگہ صبا صبح کدھر نکل گئی
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.
Similar Moods
More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's ghazal.







