بات مقدر کی ہے ساری سمے کا لکھا مارتا ہے کچھ سجدوں ہے وہ ہے وہ مر جاتے ہیں کچھ کو سجدہ مارتا ہے صرف ہم ہی ہیں جو تجھ پر ملائے گا کے ملائے گا مرتے ہیں ورنا کسی کو تیری آنکھیں کسی کو لہجہ مارتا ہے دل والے ایک دوجے کی امداد کو خود مر جاتے ہیں دنیا دار کو جب بھی مارے دنیا والا مارتا ہے شہر ہے وہ ہے وہ ایک نئے قاتل کے حسن سخن کے بلوے ہیں ا سے سے بچ کے رہنا شعر سنا کے بندہ مارتا ہے
Related Ghazal
ہے وہ ہے وہ نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہوں لیکن اب ٹھان چکے ہوں تو چلو اچھا ہوں جاناں سے ناراض تو ہے وہ ہے وہ اور کسی بات پہ ہوں جاناں م گر اور کسی خیال و خواب سے شرمندہ ہوں اب کہی جا کے یہ معلوم ہوا ہے مجھ کو ٹھیک رہ جاتا ہے جو بے وجہ تری جیسا ہوں ایسے حالات ہے وہ ہے وہ ہوں بھی کوئی حسا سے تو کیا اور بے ح سے بھی ا گر ہوں تو کوئی کتنا ہوں تاکہ تو سمجھے کہ مردوں کے بھی دکھ ہوتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاہا بھی یہی تھا کہ تیرا بیٹا ہوں
Jawwad Sheikh
50 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
ج سے طرح سمے گزرنے کے لیے ہوتا ہے آدمی شکل پہ مرنے کے لیے ہوتا ہے تیری آنکھوں سے ملاقات ہوئی تب یہ کھلا ڈوبنے والا ابھرنے کے لیے ہوتا ہے عشق کیوں پیچھے ہٹا بات نبھانے سے میاں حسن تو خیر مکرنے کے لیے ہوتا ہے آنکھ ہوتی ہے کسی راہ کو تکنے کے لیے دل کسی پاؤں پہ دھرنے کے لیے ہوتا ہے دل کی دہلی کا چناؤ ہی ا پیش ہے صاحب جب بھی ہوتا ہے یہ ہَرنے کے لیے ہوتا ہے کوئی بستی ہوں اجڑنے کے لیے بستی ہے کوئی مجمع ہوں گزرا کے لیے ہوتا ہے
Ali Zaryoun
61 likes
تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے
Tehzeeb Hafi
262 likes
More from Ali Zaryoun
حالت اے ہجر ہے وہ ہے وہ ہوں یار مری سمت لگ دیکھ تو لگ ہوں جائے گرفتار مری سمت لگ دیکھ آستین ہے وہ ہے وہ جو چھو پہ سانپ ہیں ان کو تو نکال اپنے نقصان پر ہر بار مری سمت لگ دیکھ تجھ کو ج سے بات کا خدشہ ہے حقیقت ہوں سکتی ہے ایسے نہشے ہے وہ ہے وہ لگاتار مری سمت لگ دیکھ یا کوئی بات سنا یا مجھے سینے سے لگا ا سے طرح بیٹھ کر بیکار مری سمت لگ دیکھ تیرا یاروں سے نہیں جیب سے یارا لگ ہے اے محبت کے دکاندار مری سمت لگ دیکھ
Ali Zaryoun
7 likes
ا سے باندی کے سب گھروں کی خیر اور گھروں ہے وہ ہے وہ جلے دیوں کی خیر ماں ہے وہ ہے وہ قربان تری غصے پر بابا جانی کی جھڑ کیوں کی خیر تری ہم خواب دوستوں کے نثار تیری ہم نام لڑ کیوں کی خیر جو تری خدو خال پر ہوں گے تری بیٹوں کی بیٹیوں کی خیر جن کا سردار و پیشوا ہے وہ ہے وہ ہوں تری ہاتھوں پوچھے ہوؤں کی خیر ٹوٹی پھوٹی لکھائی کے صدقے پہلی پہلی محبتوں کی خیر دشمنوں کے لیے دعا زبان تیری جانب کے دوستوں کی خیر فی سے بک سے جو دور بیٹھے ہیں ان فقیروں کی بیٹھکوں کی خیر کار ہے وہ ہے وہ باغ کھیل گیا تو چنو احتساب تیری خوشبوؤں کی خیر حقیقت جو سینوں پہ ڈ سے کے ہنستی ہے ان ہوسناک ناگنوں کی خیر
Ali Zaryoun
6 likes
چپ چاپ کیوں گلزار جناں ہوں کوئی بات تو کروں حل بھی نکالتے ہیں ملاقات تو کروں خالی ہوا ہے وہ ہے وہ اڑنا فقیری نہیں میاں دل جوڑ کے دکھاؤ کرامات تو کروں کھیتوں کو کھا گئی ہے یہ شہریلی بستیاں صاحب علاج رنج مضافات تو کروں
Ali Zaryoun
15 likes
چراغاہیں نئی آباد ہوں گی م گر جو بستیاں برباد ہوں گی خدا مٹی کو پھروں سے حکم دےگا کئی شکلیں نئی ایجاد ہوں گی ابھی ممکن نہیں لیکن یہ ہوگا کتابیں فالتو ہوں گی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان آنکھوں کو پڑھکر سوچتا ہوں یہ نظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے طرح سے یاد ہوں گی یہ پریاں پھروں نہیں آوےگی عشق دل ملنے یہ غزلیں پھروں نہیں ارشاد ہوں گی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ڈرتا ہوں علی ان عادتوں سے کے جو مجھ کو تمہارے بعد ہوں گی
Ali Zaryoun
21 likes
ہوں جسے یار سے تصدیق نہیں کر سکتا حقیقت کسی شعر کی تضحیک نہیں کر سکتا پر کشش دوست مری ہجر کی مجبوری سمجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے دور سے نزدیک نہیں کر سکتا مجھ پہ تنقید سے رہتے ہیں اجالے جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان دکانوں کو ہے وہ ہے وہ تاریک نہیں کر سکتا کون سے غم سے نکلنا ہے کسے رکھنا ہے مسئلہ یہ ہے ہے وہ ہے وہ تفریق نہیں کر سکتا پیڑ کو گالیاں بکنے کے علاوہ ذریعون کیا کریں حقیقت کے جو تخلیق نہیں کر سکتا شعر تو خیر ہے وہ ہے وہ تنہائی ہے وہ ہے وہ کہ لوگا علی اپنی حالت تو ہے وہ ہے وہ خود ٹھیک نہیں کر سکتا ہجر سے گزرے بنا عشق بتانے والا بحث کر سکتا ہے تحقیق نہیں کر سکتا
Ali Zaryoun
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ali Zaryoun.
Similar Moods
More moods that pair well with Ali Zaryoun's ghazal.







