غزل کا حسن ہے اور گیت کا شباب ہے حقیقت نشہ ہے ج سے ہے وہ ہے وہ سخن کا وہی شراب ہے حقیقت اسے لگ دیکھ مہکتا ہوا گلاب ہے حقیقت لگ جانے کتنی نگا ہوں کا انتخاب ہے حقیقت مثال مل لگ سکی کائنات ہے وہ ہے وہ ا سے کی جواب ا سے کا نہیں کوئی لا جواب ہے حقیقت مری ان آنکھوں کو تعبیر مل نہیں پاتی جسے ہے وہ ہے وہ دیکھتا رہتا ہوں ایسا خواب ہے حقیقت لگ جانے کتنے حجابوں ہے وہ ہے وہ حقیقت چھپا ہے م گر نگاہ دل سے جو دیکھوں تو بے حجاب ہے حقیقت اجالے اپنے لٹا کر حقیقت ڈوب جائےگا حسین صبح کا رخشندہ آفتاب ہے حقیقت حقیقت مجھ سے پوچھنے آیا ہے میرا حال افضل جسے بتا لگ سکون دل ہے وہ ہے وہ اضطراب ہے حقیقت
Related Ghazal
تیرا چپ رہنا مری ذہن ہے وہ ہے وہ کیا بیٹھ گیا تو اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلہ بیٹھ گیا تو یوں نہیں ہے کہ فقط ہے وہ ہے وہ ہی اسے چاہتا ہوں جو بھی ا سے پیڑ کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ گیا تو بیٹھ گیا تو اتنا میٹھا تھا حقیقت نبھائیے بھرا لہجہ مت پوچھ ا سے نے ج سے کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا تو اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیں چیختی جاناں رہی اور میرا گلہ بیٹھ گیا تو ا سے کی مرضی حقیقت جسے پا سے بٹھا لے اپنے ا سے پہ کیا لڑنا شہر خاموشاں مری جگہ بیٹھ گیا تو بات دریاؤں کی سورج کی لگ تیری ہے ی ہاں دو قدم جو بھی مری ساتھ چلا بیٹھ گیا تو بزم جاناں ہے وہ ہے وہ نشستیں نہیں ہوتیں مخصوص جو بھی اک بار ج ہاں بیٹھ گیا تو بیٹھ گیا تو
Tehzeeb Hafi
203 likes
ا گر تو بےوفا ہے دھیان رکھنا مجھے سب کچھ پتا ہے دھیان رکھنا بچھڑتے سمے ہم نے کہ دیا تھا ہمارا دل دکھا ہے دھیان رکھنا خدا ج سے کی محبت ہے وہ ہے وہ بنی ہوں حقیقت کئیوں کا خدا ہے دھیان رکھنا جسے جاناں دوست کیول جانتی ہوں حقیقت جاناں کو چاہتا ہے دھیان رکھنا
Anand Raj Singh
54 likes
مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری
Ali Zaryoun
70 likes
سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی
Jaun Elia
77 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
More from Afzal Allahabadi
جو مری آرزو نہیں کرتا ا سے کی ہے وہ ہے وہ جستجو نہیں کرتا ہجر جاناں ہے وہ ہے وہ اپنے اشکوں سے کون ہے جو وضو نہیں کرتا حقیقت تو تیرا کلیم تھا ور لگ سب سے تو گفتگو نہیں کرتا سید الانبیاء تھے حقیقت ور لگ سب کو تو رو برو نہیں کرتا تیری نسبت ملی مجھے جب سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی آرزو نہیں کرتا ہر گھڑی ج سے کی بات کرتا ہوں مجھ سے حقیقت گفتگو نہیں کرتا در بدر یوں نہیں اطراف ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو فراموش تو نہیں کرتا ہوں نہیں پاتی شاعری افضل نذر جب تک لہو نہیں کرتا
Afzal Allahabadi
1 likes
اب تو ہر ایک اداکار سے ڈر لگتا ہے مجھ کو دشمن سے نہیں یار سے ڈر لگتا ہے کیسے دشمن کے مقابل حقیقت ٹھہر پائے گا ج سے کو ٹوٹی ہوئی تلوار سے ڈر لگتا ہے حقیقت جو پازیب کی دکھےگی کا شیدائی ہوں ا سے کو تلوار کی دکھےگی سے ڈر لگتا ہے مجھ کو بالوں کی سفی گرا نے خبر دار کیا زندگی اب تری رفتار سے ڈر لگتا ہے کر دیں مسلوب ا نہیں لاکھ زمانے والے حق پرستوں کو ک ہاں دار سے ڈر لگتا ہے حقیقت کسی طرح بھی تیرک نہیں ہوں سکتا دور سے ہی جسے منجھدار سے ڈر لگتا ہے مری آنگن ہے وہ ہے وہ ہے وحشت کا بسیرہ افضل مجھ کو گھر کے در و دیوار سے ڈر لگتا ہے
Afzal Allahabadi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Afzal Allahabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Afzal Allahabadi's ghazal.







