جو مری آرزو نہیں کرتا ا سے کی ہے وہ ہے وہ جستجو نہیں کرتا ہجر جاناں ہے وہ ہے وہ اپنے اشکوں سے کون ہے جو وضو نہیں کرتا حقیقت تو تیرا کلیم تھا ور لگ سب سے تو گفتگو نہیں کرتا سید الانبیاء تھے حقیقت ور لگ سب کو تو رو برو نہیں کرتا تیری نسبت ملی مجھے جب سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی آرزو نہیں کرتا ہر گھڑی ج سے کی بات کرتا ہوں مجھ سے حقیقت گفتگو نہیں کرتا در بدر یوں نہیں اطراف ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو فراموش تو نہیں کرتا ہوں نہیں پاتی شاعری افضل نذر جب تک لہو نہیں کرتا
Related Ghazal
غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی
Zubair Ali Tabish
80 likes
تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
Dagh Dehlvi
84 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
More from Afzal Allahabadi
غزل کا حسن ہے اور گیت کا شباب ہے حقیقت نشہ ہے ج سے ہے وہ ہے وہ سخن کا وہی شراب ہے حقیقت اسے لگ دیکھ مہکتا ہوا گلاب ہے حقیقت لگ جانے کتنی نگا ہوں کا انتخاب ہے حقیقت مثال مل لگ سکی کائنات ہے وہ ہے وہ ا سے کی جواب ا سے کا نہیں کوئی لا جواب ہے حقیقت مری ان آنکھوں کو تعبیر مل نہیں پاتی جسے ہے وہ ہے وہ دیکھتا رہتا ہوں ایسا خواب ہے حقیقت لگ جانے کتنے حجابوں ہے وہ ہے وہ حقیقت چھپا ہے م گر نگاہ دل سے جو دیکھوں تو بے حجاب ہے حقیقت اجالے اپنے لٹا کر حقیقت ڈوب جائےگا حسین صبح کا رخشندہ آفتاب ہے حقیقت حقیقت مجھ سے پوچھنے آیا ہے میرا حال افضل جسے بتا لگ سکون دل ہے وہ ہے وہ اضطراب ہے حقیقت
Afzal Allahabadi
1 likes
اب تو ہر ایک اداکار سے ڈر لگتا ہے مجھ کو دشمن سے نہیں یار سے ڈر لگتا ہے کیسے دشمن کے مقابل حقیقت ٹھہر پائے گا ج سے کو ٹوٹی ہوئی تلوار سے ڈر لگتا ہے حقیقت جو پازیب کی دکھےگی کا شیدائی ہوں ا سے کو تلوار کی دکھےگی سے ڈر لگتا ہے مجھ کو بالوں کی سفی گرا نے خبر دار کیا زندگی اب تری رفتار سے ڈر لگتا ہے کر دیں مسلوب ا نہیں لاکھ زمانے والے حق پرستوں کو ک ہاں دار سے ڈر لگتا ہے حقیقت کسی طرح بھی تیرک نہیں ہوں سکتا دور سے ہی جسے منجھدار سے ڈر لگتا ہے مری آنگن ہے وہ ہے وہ ہے وحشت کا بسیرہ افضل مجھ کو گھر کے در و دیوار سے ڈر لگتا ہے
Afzal Allahabadi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Afzal Allahabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Afzal Allahabadi's ghazal.







