ghazalKuch Alfaaz

گو سب کو بہم میک اپ و بادہ تو نہیں تھا یہ شہر ادا سے اتنا زیادہ تو نہیں تھا گلیوں ہے وہ ہے وہ پھرا کرتے تھے دو چار دیوانے ہر بے وجہ کا سد چاک لبادہ تو نہیں تھا منزل کو لگ فنا فی ال عشق رہ عشق کا راہی نادان ہی صحیح ایسا بھی سادہ تو نہیں تھا تھک کر یوںہی پل بھر کے لیے آنکھ لگی تھی سو کر ہی لگ اٹھیں یہ ارادہ تو نہیں تھا واعظ سے رہ و رسم رہی رند سے صحبت فرق ان ہے وہ ہے وہ کوئی اتنا زیادہ تو نہیں تھا

Related Ghazal

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Faiz Ahmad Faiz

اب کے بر سے دستور ستم ہے وہ ہے وہ کیا کیا باب ایزاد ہوئے جو قاتل تھے مقتول ہوئے جو دام نا رسائی تھے اب صیاد ہوئے پہلے بھی اڑائے ہے وہ ہے وہ باغ اجڑے پر یوں نہیں چنو اب کے بر سے سارے بوٹے پتہ پتہ رویش رویش برباد ہوئے پہلے بھی طواف شم وفا تھی رسم محبت والوں کی ہم جاناں سے پہلے بھی ی ہاں منصور ہوئے فرہاد ہوئے اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن ہے وہ ہے وہ کوہرام مچا اک چہرہ کمھلا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے فیض لگ ہم یوسف لگ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے اپنی کیا کنعان ہے وہ ہے وہ رہے یا مصر ہے وہ ہے وہ جا آباد ہوئے

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

وفا وعدہ نہیں وعدہ د گر بھی نہیں حقیقت مجھ سے روٹھے تو تھے لیکن ا سے دودمان بھی نہیں بر سے رہی ہے حریم ہوں سے ہے وہ ہے وہ دولت حسن گدا عشق کے کاسے ہے وہ ہے وہ اک نظر بھی نہیں لگ جانے ک سے لیے امیدوار بیٹھا ہوں اک ایسی راہ پہ جو تیری رہگزر بھی نہیں نگاہ شوق سر بزم بے حجاب لگ ہوں حقیقت بے خبر ہی صحیح اتنے بے خبر بھی نہیں یہ عہد ترک محبت ہے ک سے لیے آخر سکون قلب ادھر بھی نہیں ادھر بھی نہیں

Faiz Ahmad Faiz

2 likes

پھروں حریف بہار ہوں بیٹھے جانے ک سے ک سے کو آج رو بیٹھے تھی م گر اتنی رائےگاں بھی لگ تھی آج کچھ زندگی سے کھو بیٹھے تری در تک پہنچ کے لوٹ آئی عشق کی رکھ ڈبو بیٹھے ساری دنیا سے دور ہوں جائے جو ذرا تری پا سے ہوں بیٹھے لگ گئی تیری بے رکھ لگ گئی ہم تری آرزو بھی کھو بیٹھے فیض ہوتا رہے جو ہونا ہے شعر لکھتے رہا کروں بیٹھے

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

یہ ک سے خلش نے پھروں ا سے دل ہے وہ ہے وہ آشیا لگ کیا پھروں آج ک سے نے سخن ہم سے غائبا لگ کیا غم ج ہاں ہوں رکھ یار ہوں کہ دست عدو سلوک ج سے سے کیا ہم نے عاشقا لگ کیا تھے جست و خیز بھی ہم لوگ قہر طوفان بھی سہا تو کیا لگ سہا اور کیا تو کیا لگ کیا خوشا کہ آج ہر اک مدعی کے لب پر ہے حقیقت راز ج سے نے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ راندا زما لگ کیا حقیقت حیلہ گر جو وفا جو بھی ہے کہوں خو بھی کیا بھی فیض تو ک سے بت سے دوستا لگ کیا

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

تری امید ترا انتظار جب سے ہے لگ شب کو دن سے شکایت لگ دن کو شب سے ہے کسی کا درد ہوں کرتے ہیں تری نام رقم گلہ ہے جو بھی کسی سے تری سبب سے ہے ہوا ہے جب سے دل نا صبور بے قابو چھوؤں گا تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے ا گر شرر ہے تو بھڑکے جو پھول ہے تو کھلے طرح طرح کی طلب تری رنگ لب سے ہے ک ہاں گئے شب فرقت کے جاگنے والے ستارہ سحری ہم کلام کب سے ہے

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's ghazal.