ghazalKuch Alfaaz

یہ ک سے خلش نے پھروں ا سے دل ہے وہ ہے وہ آشیا لگ کیا پھروں آج ک سے نے سخن ہم سے غائبا لگ کیا غم ج ہاں ہوں رکھ یار ہوں کہ دست عدو سلوک ج سے سے کیا ہم نے عاشقا لگ کیا تھے جست و خیز بھی ہم لوگ قہر طوفان بھی سہا تو کیا لگ سہا اور کیا تو کیا لگ کیا خوشا کہ آج ہر اک مدعی کے لب پر ہے حقیقت راز ج سے نے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ راندا زما لگ کیا حقیقت حیلہ گر جو وفا جو بھی ہے کہوں خو بھی کیا بھی فیض تو ک سے بت سے دوستا لگ کیا

Related Ghazal

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

More from Faiz Ahmad Faiz

بات ب سے سے نکل چلی ہے دل کی حالت سنبھل چلی ہے اب جنوں حد سے بڑھ چلا ہے اب طبیعت بہل چلی ہے خوشی خوناب ہوں چلے ہیں غم کی رنگت بدل چلی ہے یا یوںہی بجھ رہی ہیں شمعیں یا شب ہجر ٹل چلی ہے لاکھ پیغام ہوں گئے ہیں جب صبا ایک پل چلی ہے جاؤ اب سو رہو ستارو درد کی رات ڈھل چلی ہے

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

دربار ہے وہ ہے وہ اب سطوت شاہی کی علامت دربان کا اسا ہے کہ مصنف کا ہے آوارہ ہے پھروں کوہ ندا پر جو ناروا تمہید مسرت ہے کہ طول شب غم ہے ج سے دھجی کو گلیوں ہے وہ ہے وہ لیے پھرتے ہیں طفلاں یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا الم ہے ج سے نور سے ہے شہر کی دیوار درخشاں یہ خون شہیداں ہے کہ زر خا لگ جم ہے حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یاروں کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

اب کے بر سے دستور ستم ہے وہ ہے وہ کیا کیا باب ایزاد ہوئے جو قاتل تھے مقتول ہوئے جو دام نا رسائی تھے اب صیاد ہوئے پہلے بھی اڑائے ہے وہ ہے وہ باغ اجڑے پر یوں نہیں چنو اب کے بر سے سارے بوٹے پتہ پتہ رویش رویش برباد ہوئے پہلے بھی طواف شم وفا تھی رسم محبت والوں کی ہم جاناں سے پہلے بھی ی ہاں منصور ہوئے فرہاد ہوئے اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن ہے وہ ہے وہ کوہرام مچا اک چہرہ کمھلا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے فیض لگ ہم یوسف لگ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے اپنی کیا کنعان ہے وہ ہے وہ رہے یا مصر ہے وہ ہے وہ جا آباد ہوئے

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

لگ اب رقیب لگ ناصح لگ غم گسار کوئی جاناں آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا جدا تھے ہم تو میسر تھیں رنگیں کتنی بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا پہنچ کے در پہ تری کتنے معتبر ٹھہرے اگرچہ رہ ہے وہ ہے وہ ہوئیں جگ ہنسائیاں کیا کیا ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز من گرا سے بتوں نے کی ہیں ج ہاں ہے وہ ہے وہ خدائیاں کیا کیا ستم پہ خوش کبھی لطف و کرم سے رنجیدہ سکھائیں جاناں نے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کج ادائیاں کیا کیا

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

عشق منت کش قرار نہیں حسن مجبور انتظار نہیں تیری رنجش کی انتہا معلوم حسرتوں کا مری شمار نہیں اپنی نظریں بکھیر دے ساقی مے ب اندازہ خمار نہیں زیر لب ہے ابھی تبسم دوست منتشر جلوہ بہار نہیں اپنی تکمیل کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ور لگ تجھ سے تو مجھ کو پیار نہیں چارہ انتظار کون کرے تیری خوبصورت بھی چارہ ساز نہیں فیض زندہ رہیں حقیقت ہیں تو صحیح کیا ہوا گر وفا شعار نہیں

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's ghazal.