ghazalKuch Alfaaz

لگ اب رقیب لگ ناصح لگ غم گسار کوئی جاناں آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا جدا تھے ہم تو میسر تھیں رنگیں کتنی بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا پہنچ کے در پہ تری کتنے معتبر ٹھہرے اگرچہ رہ ہے وہ ہے وہ ہوئیں جگ ہنسائیاں کیا کیا ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز من گرا سے بتوں نے کی ہیں ج ہاں ہے وہ ہے وہ خدائیاں کیا کیا ستم پہ خوش کبھی لطف و کرم سے رنجیدہ سکھائیں جاناں نے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کج ادائیاں کیا کیا

Related Ghazal

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے

Yasir Khan

92 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

More from Faiz Ahmad Faiz

گرمی شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو گل کھلے جاتے ہیں حقیقت سایہ تر تو دیکھو ایسے نادان بھی لگ تھے جاں سے گزرنے والے ناصحوں پند گرو گھبرائیے تو دیکھو حقیقت تو حقیقت ہے تمہیں ہوں جائے گی الفت مجھ سے اک نظر جاناں میرا محبوب نظر تو دیکھو حقیقت جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں دیکھنے والو کبھی ان کا ج گر تو دیکھو دامن درد کو دل ناشاد بنا رکھا ہے آؤ اک دن دل پر خوں کا ہنر تو دیکھو صبح کی طرح جھمکتا ہے شب غم کا پیام عشقفیض تابندگی دیدہ تر تو دیکھو

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

اب کے بر سے دستور ستم ہے وہ ہے وہ کیا کیا باب ایزاد ہوئے جو قاتل تھے مقتول ہوئے جو دام نا رسائی تھے اب صیاد ہوئے پہلے بھی اڑائے ہے وہ ہے وہ باغ اجڑے پر یوں نہیں چنو اب کے بر سے سارے بوٹے پتہ پتہ رویش رویش برباد ہوئے پہلے بھی طواف شم وفا تھی رسم محبت والوں کی ہم جاناں سے پہلے بھی ی ہاں منصور ہوئے فرہاد ہوئے اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن ہے وہ ہے وہ کوہرام مچا اک چہرہ کمھلا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے فیض لگ ہم یوسف لگ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے اپنی کیا کنعان ہے وہ ہے وہ رہے یا مصر ہے وہ ہے وہ جا آباد ہوئے

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

بات ب سے سے نکل چلی ہے دل کی حالت سنبھل چلی ہے اب جنوں حد سے بڑھ چلا ہے اب طبیعت بہل چلی ہے خوشی خوناب ہوں چلے ہیں غم کی رنگت بدل چلی ہے یا یوںہی بجھ رہی ہیں شمعیں یا شب ہجر ٹل چلی ہے لاکھ پیغام ہوں گئے ہیں جب صبا ایک پل چلی ہے جاؤ اب سو رہو ستارو درد کی رات ڈھل چلی ہے

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

حقیقت بتوں نے ڈالے ہیں رلا کہ دلوں سے خوف خدا گیا تو حقیقت پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیال روز جزا گیا تو جو نف سے تھا خار گلو بنا جو اٹھے تھے ہاتھ لہو ہوئے حقیقت نشاط آہ سحر گئی حقیقت وقار دست دعا گیا تو لگ حقیقت رنگ فصل بہار کا لگ رویش حقیقت ابر بہار کی ج سے ادا سے یار تھے آشنا حقیقت مزاج باد صبا گیا تو جو طلب پہ عہد وفا کیا تو حقیقت آبرو وفا گئی سر عام جب ہوئے مدعی تو ثواب صدق و صفا گیا تو ابھی بادبان کو تہ رکھو ابھی مضطرب ہے رکھ ہوا کسی راستے ہے وہ ہے وہ ہے منتظر حقیقت سکون جو آ کے چلا گیا تو

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

لگ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا مری چارہ گر کو گرد کارواں ہوں صف دشمنان کو خبر کروں جو حقیقت قرض رکھتے تھے جان پر حقیقت حساب آج چکا دیا کروں کج جبیں پہ سر کفن مری قاتلوں کو گماں لگ ہوں کہ غرور عشق کا بانکپن وصل یار ہم نے بھلا دیا ادھر ایک حرف کہ کشتنی ی ہاں لاکھ عذر تھا گفتنی جو کہا تو سن کے ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیا جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا جو گردشیں تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's ghazal.