ghazalKuch Alfaaz

ہاں یہ سچ ہے کہ محبت نہیں کی دوست ب سے مری طبیعت نہیں کی ا سے لیے گاؤں ہے وہ ہے وہ سیلاب آیا ہم نے دریاو کی عزت نہیں کی جسم تک ا سے نے مجھے سونپ دیا دل نے ا سے پر بھی کنایت نہیں کی مری اعزاز ہے وہ ہے وہ رکھی گئی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ج سے بزم ہے وہ ہے وہ شراکت نہیں کی یاد بھی یاد سے رکھا اس کا کو بھول جانے ہے وہ ہے وہ بھی غفلت نہیں کی اس کا کا کو دیکھا تھا غضب حالت ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں کبھی ا سے کی حفاظت نہیں کی ہم ا گر فتح ہوئے ہے تو کیا عشق نے ک سے پہ حکومت نہیں کی

Tehzeeb Hafi74 Likes

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

More from Tehzeeb Hafi

عجیب خواب تھا ا سے کے بدن ہے وہ ہے وہ کائی تھی حقیقت اک پری جو مجھے سبز کرنے آئی تھی حقیقت اک چراغ کدا ج سے ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں تھا میرا حقیقت جل رہی تھی حقیقت قندیل بھی پرائی تھی لگ جانے کتنے پرندوں نے ا سے ہے وہ ہے وہ شراکت کی کل ایک پیڑ کی ترکیب رو نمائی تھی ہواؤں آؤ مری گاؤں کی طرف دیکھو ج ہاں یہ ریت ہے پہلے ی ہاں ترائی تھی کسی سپاہ نے خیمے لگا دیے ہیں و ہاں ج ہاں یہ ہے وہ ہے وہ نے نشانی تری دبائی تھی گلے ملا تھا کبھی دکھ بھرے دسمبر سے مری وجود کے اندر بھی دھند چھائی تھی

Tehzeeb Hafi

15 likes

رات کو دیپ کی لو کم نہیں رکھی جاتی دھند ہے وہ ہے وہ روشنی مدھیم نہیں رکھی جاتی کیسے دریا کی حفاظت تری ذمہ ٹھہراؤ تجھ سے اک آنکھ ا گر نمہ نہیں رکھی جاتی ا سے لیے چھوڑ کر جانے لگے سب چارا گر زخم سے عزت مرہم نہیں رکھی جاتی ایسے کیسے ہے وہ ہے وہ تجھے چاہنے لگ جاؤں بھلا گھر کی بنیاد تو یکدم نہیں رکھی جاتی

Tehzeeb Hafi

25 likes

چیختے ہیں در و دیوار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھ کھلنے پہ بھی منجملہ و اسباب ماتم نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خواب کرنا ہوں سفر کرنا ہوں یا رونا ہوں مجھ ہے وہ ہے وہ خوبی ہے بیزار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب بھلا اپنے لیے بننا سنورنا کیسا خود سے ملنا ہوں تو تیار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون آئےگا بھلا میری عیادت کے لیے بس اسی خوف سے بیمار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ منزل عشق پہ نکلا تو کہا رستے نے ہر کسی کے لیے خوددار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری تصویر سے تسکین نہیں ہوتی مجھے تیری آواز سے مخمور نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لوگ کہتے ہیں ہے وہ ہے وہ بارش کی طرح ہوں حافی 9 اوقات لگاتار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ

Tehzeeb Hafi

35 likes

اک حویلی ہوں اس کا کا در بھی ہوں خود ہی آنگن خود ہی شجر بھی ہوں اپنی مستی ہے وہ ہے وہ بہتا دریا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کنارہ بھی ہوں بھنور بھی ہوں آسماں اور زمیں کی وسعت دیکھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ادھر بھی ہوں اور ادھر بھی ہوں خود ہی ہے وہ ہے وہ خود کو لکھ رہا ہوں خط اور ہے وہ ہے وہ اپنا نامہ بر بھی ہوں داستان ہوں ہے وہ ہے وہ اک طویل مگر تو جو سن لے تو بڑھوا بھی ہوں ایک فردار پیڑ ہوں لیکن وقت آنے پہ بے ثمر بھی ہوں

Tehzeeb Hafi

19 likes

چہرہ دیکھیں تیرے ہونٹ اور پلکیں دیکھیں دل پہ آنکھیں رکھیں تیری سانسیں دیکھیں سرخ لبوں سے سبز دعائیں فوٹی ہیں پیلے پھولوں جاناں کو نیلی آنکھیں دیکھیں سال ہونے کو آیا ہے حقیقت کب لوٹےگا آؤ کھیت کی سیر کو نکلیں کوجیں دیکھیں تھوڑی دیر ہے وہ ہے وہ جنگل ہم کو آق کرےگا برگد دیکھیں یا برگد کی شاخے دیکھیں میرے مالک آپ تو سب کچھ کر سکتے ہیں ساتھ چلیں ہم اور دنیا کی آنکھیں دیکھیں ہم تیرے ہونٹو کی دھیمے دھیمے کب بھولے ہیں پانی ہے وہ ہے وہ پتھر پھینکے اور لہریں دیکھیں

Tehzeeb Hafi

21 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's ghazal.