ghazalKuch Alfaaz

ہاتھ آ کر لگا گیا تو کوئی میرا چھپر اٹھا گیا تو کوئی لگ گیا تو اک قید ہستی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی شہر ہے وہ ہے وہ لے کے آ گیا تو کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھڑا تھا کہ پیٹھ پر میری اشتہار اک لگا گیا تو کوئی یہ صدی دھوپ کو مشین ہے چنو سورج کو کھا گیا تو کوئی ایسی ترستی ہے کہ چہرہ بھی بیچ کے اپنا کھا گیا تو کوئی اب حقیقت ارمان ہیں نہ حقیقت سپنے سب کبوتر قسمیں گیا تو کوئی حقیقت گئے جب سے ایسا لگتا ہے چھوٹا مہنگائی خدا گیا تو کوئی میرا بچپن بھی ساتھ لے آیا گاؤں سے جب بھی آ گیا تو کوئی

Kaifi Azmi6 Likes

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

اپنی آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھر کر لے جانے ہیں مجھ کو ا سے کے آنسو کام ہے وہ ہے وہ لانے ہے دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں ہم جاناں اک دوجے کی سیڑھی ہے جاناں باقی دنیا تو سانپوں کے خانے ہیں پاکیزہ چیزوں کو پاکیزہ لکھو مت لکھو ا سے کی آنکھیں مے خانے ہیں

Varun Anand

63 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

More from Kaifi Azmi

لائی پھروں اک لغزش مستا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بنیں گی مسجدیں مے خا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج پھروں ٹوٹیں گی تری گھر کی چھوؤں گا اندھیرا آج پھروں دیکھا گیا تو دیوا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرم ہے تیری گلی سے سر جھکا کر لوٹنا کفر ہے پتھراؤ سے گھبرانا تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاہ نامے لکھے ہیں کھنڈرات کی ہر اینٹ پر ہر جگہ ہے دفن اک افسا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ کنیزیں جو حریم ناز ہے وہ ہے وہ ہیں بار یاب مانگتی ہیں جان و دل نذرا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ننگی سڑکوں پر بھٹک کر دیکھ جب مرتی ہے رات رینگتا ہے ہر طرف ویرا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ

Kaifi Azmi

0 likes

جو حقیقت مری لگ رہے ہے وہ ہے وہ بھی کب کسی کا رہا بچھڑ کے ان سے سلیقہ لگ زندگی کا رہا لبوں سے اڑ گیا تو جگنو کی طرح نام ا سے کا سہارا اب مری گھر ہے وہ ہے وہ لگ روشنی کا رہا گزرنے کو تو ہزاروں ہی بندھو گزرے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ نقش قدم ب سے کسی کسی کا رہا

Kaifi Azmi

4 likes

ہاتھ آ کر لگا گیا تو کوئی میرا چھپر اٹھا گیا تو کوئی لگ گیا تو اک قید ہستی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی شہر ہے وہ ہے وہ لے کے آ گیا تو کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھڑا تھا کہ پیٹھ پر میری اشتہار اک لگا گیا تو کوئی یہ صدی دھوپ کو مشین ہے چنو سورج کو کھا گیا تو کوئی ایسی ترستی ہے کہ چہرہ بھی بیچ کے اپنا کھا گیا تو کوئی اب حقیقت ارمان ہیں نہ حقیقت سپنے سب کبوتر قسمیں گیا تو کوئی حقیقت گئے جب سے ایسا لگتا ہے چھوٹا مہنگائی خدا گیا تو کوئی میرا بچپن بھی ساتھ لے آیا گاؤں سے جب بھی آ گیا تو کوئی

Kaifi Azmi

6 likes

خار و خ سے تو بے خبرو راستہ تو چلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر تھک گیا تو قافلہ تو چلے چاند سورج بزرگوں کے نقش قدم خیر بجھنے دو ان کو ہوا تو چلے حاکم شہر یہ بھی کوئی شہر ہے مسجدیں بند ہیں مے کدہ تو چلے ا سے کو مذہب کہو یا سیاست کہو خود کشی کا ہنر جاناں سکھا تو چلے اتنی لاشیں ہے وہ ہے وہ کیسے اٹھا پاؤں گا آپ اینٹوں کی حرمت بچا تو چلے بیلچے لاؤ کھولو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی تہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں دفن ہوں کچھ پتا تو چلے

Kaifi Azmi

0 likes

آج سوچا تو آنسو بھر آئی مدتیں ہوں گئیں مسکرائے ہر قدم پر ادھر مڑ کے دیکھا ان کی محفل سے ہم اٹھ تو آئی رہ گئی زندگی درد بن کے غزلوں ہے وہ ہے وہ چھپائے چھپائے دل کی چھوؤں گا رگیں ٹوٹتی ہیں یاد اتنا بھی کوئی لگ آئی

Kaifi Azmi

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kaifi Azmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kaifi Azmi's ghazal.