لائی پھروں اک لغزش مستا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بنیں گی مسجدیں مے خا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج پھروں ٹوٹیں گی تری گھر کی چھوؤں گا اندھیرا آج پھروں دیکھا گیا تو دیوا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرم ہے تیری گلی سے سر جھکا کر لوٹنا کفر ہے پتھراؤ سے گھبرانا تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاہ نامے لکھے ہیں کھنڈرات کی ہر اینٹ پر ہر جگہ ہے دفن اک افسا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ کنیزیں جو حریم ناز ہے وہ ہے وہ ہیں بار یاب مانگتی ہیں جان و دل نذرا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ننگی سڑکوں پر بھٹک کر دیکھ جب مرتی ہے رات رینگتا ہے ہر طرف ویرا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ
Related Ghazal
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے
Tehzeeb Hafi
220 likes
More from Kaifi Azmi
पत्थर के ख़ुदा वहाँ भी पाए हम चाँद से आज लौट आए दीवारें तो हर तरफ़ खड़ी हैं क्या हो गए मेहरबान साए जंगल की हवाएँ आ रही हैं काग़ज़ का ये शहर उड़ न जाए लैला ने नया जनम लिया है है क़ैस कोई जो दिल लगाए है आज ज़मीं का ग़ुस्ल-ए-सेह्हत जिस दिल में हो जितना ख़ून लाए सहरा सहरा लहू के खे़ में फिर प्यासे लब-ए-फ़ुरात आए
Kaifi Azmi
0 likes
جو حقیقت مری لگ رہے ہے وہ ہے وہ بھی کب کسی کا رہا بچھڑ کے ان سے سلیقہ لگ زندگی کا رہا لبوں سے اڑ گیا تو جگنو کی طرح نام ا سے کا سہارا اب مری گھر ہے وہ ہے وہ لگ روشنی کا رہا گزرنے کو تو ہزاروں ہی بندھو گزرے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ نقش قدم ب سے کسی کسی کا رہا
Kaifi Azmi
4 likes
کی ہے کوئی حسین غلطیاں ہر غلطیاں کے ساتھ تھوڑا سا پیار بھی مجھے دے دو سزا کے ساتھ گر ڈوبنا ہی اپنا مقدر ہے تو سنو ڈوبیں گے ہم ضرور م گر ناخدا کے ساتھ منزل سے حقیقت بھی دور تھا اور ہم بھی دور تھے ہم نے بھی دھول اڑائی بے حد رہنما کے ساتھ رقص صبا کے جشن ہے وہ ہے وہ ہم جاناں بھی ناچتے اے کاش جاناں بھی آ گئے ہوتے صبا کے ساتھ اکیسویں ص گرا کی طرف ہم چلے تو ہیں فتنے بھی جاگ اٹھے ہیں آواز پا کے ساتھ ایسا لگا غریبی کی ریکھا سے ہوں بلند پوچھا کسی نے حال کچھ ایسی ادا کے ساتھ
Kaifi Azmi
0 likes
خار و خ سے تو بے خبرو راستہ تو چلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر تھک گیا تو قافلہ تو چلے چاند سورج بزرگوں کے نقش قدم خیر بجھنے دو ان کو ہوا تو چلے حاکم شہر یہ بھی کوئی شہر ہے مسجدیں بند ہیں مے کدہ تو چلے ا سے کو مذہب کہو یا سیاست کہو خود کشی کا ہنر جاناں سکھا تو چلے اتنی لاشیں ہے وہ ہے وہ کیسے اٹھا پاؤں گا آپ اینٹوں کی حرمت بچا تو چلے بیلچے لاؤ کھولو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی تہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں دفن ہوں کچھ پتا تو چلے
Kaifi Azmi
0 likes
کیا جانے ک سے کی پیا سے بجھانے کدھر گئیں ا سے سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گزر گئیں دیوا لگ پوچھتا ہے یہ لہروں سے بار بار کچھ بستیاں ی ہاں تھیں بتاؤ کدھر گئیں اب ج سے طرف سے چاہے گزر جائے کارواں ویرانیاں تو سب مری دل ہے وہ ہے وہ اتر گئیں پیما لگ ٹوٹنے کا کوئی غم نہیں مجھے غم ہے تو یہ کہ چاندنی راتیں بکھر گئیں پایا بھی ان کو کھو بھی دیا چپ بھی ہوں رہے اک بڑھوا سی رات ہے وہ ہے وہ صدیاں گزر گئیں
Kaifi Azmi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Kaifi Azmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Kaifi Azmi's ghazal.







