ghazalKuch Alfaaz

کیا جانے ک سے کی پیا سے بجھانے کدھر گئیں ا سے سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گزر گئیں دیوا لگ پوچھتا ہے یہ لہروں سے بار بار کچھ بستیاں ی ہاں تھیں بتاؤ کدھر گئیں اب ج سے طرف سے چاہے گزر جائے کارواں ویرانیاں تو سب مری دل ہے وہ ہے وہ اتر گئیں پیما لگ ٹوٹنے کا کوئی غم نہیں مجھے غم ہے تو یہ کہ چاندنی راتیں بکھر گئیں پایا بھی ان کو کھو بھی دیا چپ بھی ہوں رہے اک بڑھوا سی رات ہے وہ ہے وہ صدیاں گزر گئیں

Kaifi Azmi0 Likes

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

More from Kaifi Azmi

لائی پھروں اک لغزش مستا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بنیں گی مسجدیں مے خا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج پھروں ٹوٹیں گی تری گھر کی چھوؤں گا اندھیرا آج پھروں دیکھا گیا تو دیوا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرم ہے تیری گلی سے سر جھکا کر لوٹنا کفر ہے پتھراؤ سے گھبرانا تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاہ نامے لکھے ہیں کھنڈرات کی ہر اینٹ پر ہر جگہ ہے دفن اک افسا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ کنیزیں جو حریم ناز ہے وہ ہے وہ ہیں بار یاب مانگتی ہیں جان و دل نذرا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ننگی سڑکوں پر بھٹک کر دیکھ جب مرتی ہے رات رینگتا ہے ہر طرف ویرا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ

Kaifi Azmi

0 likes

جو حقیقت مری لگ رہے ہے وہ ہے وہ بھی کب کسی کا رہا بچھڑ کے ان سے سلیقہ لگ زندگی کا رہا لبوں سے اڑ گیا تو جگنو کی طرح نام ا سے کا سہارا اب مری گھر ہے وہ ہے وہ لگ روشنی کا رہا گزرنے کو تو ہزاروں ہی بندھو گزرے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ نقش قدم ب سے کسی کسی کا رہا

Kaifi Azmi

4 likes

خار و خ سے تو بے خبرو راستہ تو چلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر تھک گیا تو قافلہ تو چلے چاند سورج بزرگوں کے نقش قدم خیر بجھنے دو ان کو ہوا تو چلے حاکم شہر یہ بھی کوئی شہر ہے مسجدیں بند ہیں مے کدہ تو چلے ا سے کو مذہب کہو یا سیاست کہو خود کشی کا ہنر جاناں سکھا تو چلے اتنی لاشیں ہے وہ ہے وہ کیسے اٹھا پاؤں گا آپ اینٹوں کی حرمت بچا تو چلے بیلچے لاؤ کھولو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی تہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں دفن ہوں کچھ پتا تو چلے

Kaifi Azmi

0 likes

ہاتھ آ کر لگا گیا تو کوئی میرا چھپر اٹھا گیا تو کوئی لگ گیا تو اک قید ہستی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی شہر ہے وہ ہے وہ لے کے آ گیا تو کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھڑا تھا کہ پیٹھ پر میری اشتہار اک لگا گیا تو کوئی یہ صدی دھوپ کو مشین ہے چنو سورج کو کھا گیا تو کوئی ایسی ترستی ہے کہ چہرہ بھی بیچ کے اپنا کھا گیا تو کوئی اب حقیقت ارمان ہیں نہ حقیقت سپنے سب کبوتر قسمیں گیا تو کوئی حقیقت گئے جب سے ایسا لگتا ہے چھوٹا مہنگائی خدا گیا تو کوئی میرا بچپن بھی ساتھ لے آیا گاؤں سے جب بھی آ گیا تو کوئی

Kaifi Azmi

6 likes

جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں دبا دبا سا صحیح دل ہے وہ ہے وہ پیار ہے کہ نہیں تو اپنے دل کی جواں دھڑکنوں کو گن کے بتا مری طرح ترا دل بے قرار ہے کہ نہیں حقیقت پل کہ ج سے ہے وہ ہے وہ محبت جوان ہوتی ہے ا سے ایک پل کا تجھے انتظار ہے کہ نہیں تری امید پہ ٹھکرا رہا ہوں دنیا کو تجھے بھی اپنے پہ یہ اعتبار ہے کہ نہیں

Kaifi Azmi

33 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kaifi Azmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kaifi Azmi's ghazal.