کی ہے کوئی حسین غلطیاں ہر غلطیاں کے ساتھ تھوڑا سا پیار بھی مجھے دے دو سزا کے ساتھ گر ڈوبنا ہی اپنا مقدر ہے تو سنو ڈوبیں گے ہم ضرور م گر ناخدا کے ساتھ منزل سے حقیقت بھی دور تھا اور ہم بھی دور تھے ہم نے بھی دھول اڑائی بے حد رہنما کے ساتھ رقص صبا کے جشن ہے وہ ہے وہ ہم جاناں بھی ناچتے اے کاش جاناں بھی آ گئے ہوتے صبا کے ساتھ اکیسویں ص گرا کی طرف ہم چلے تو ہیں فتنے بھی جاگ اٹھے ہیں آواز پا کے ساتھ ایسا لگا غریبی کی ریکھا سے ہوں بلند پوچھا کسی نے حال کچھ ایسی ادا کے ساتھ
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
سفر ہے وہ ہے وہ دھوپ تو ہوں گی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ ہے وہ ہے وہ جاناں بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں ک ہاں بدلتی ہیں جاناں اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو ی ہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے ا گر جاناں سنبھل سکو تو چلو کہی نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہی کھلونوں سے جاناں بھی بہل سکو تو چلو
Nida Fazli
61 likes
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم اندھیرا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم خموشی سے ادا ہوں رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں وفا داری کا دعویٰ کیوں کریں ہم وفا اخلاص قربانی محبت اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم ہماری ہی تمنا کیوں کروں جاناں تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم کیا تھا عہد جب لمحوں ہے وہ ہے وہ ہم نے تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم نہیں دنیا کو جب پروا ہماری تو پھروں دنیا کی پروا کیوں کریں ہم یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی ی ہاں کار مسیحا کیوں کریں ہم
Jaun Elia
67 likes
More from Kaifi Azmi
لائی پھروں اک لغزش مستا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بنیں گی مسجدیں مے خا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج پھروں ٹوٹیں گی تری گھر کی چھوؤں گا اندھیرا آج پھروں دیکھا گیا تو دیوا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرم ہے تیری گلی سے سر جھکا کر لوٹنا کفر ہے پتھراؤ سے گھبرانا تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاہ نامے لکھے ہیں کھنڈرات کی ہر اینٹ پر ہر جگہ ہے دفن اک افسا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ کنیزیں جو حریم ناز ہے وہ ہے وہ ہیں بار یاب مانگتی ہیں جان و دل نذرا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ننگی سڑکوں پر بھٹک کر دیکھ جب مرتی ہے رات رینگتا ہے ہر طرف ویرا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ
Kaifi Azmi
0 likes
جاناں اتنا جو مسکرا رہے ہوں کیا غم ہے ج سے کو چھپا رہے ہوں آنکھوں ہے وہ ہے وہ نمی ہنسی لبوں پر کیا حال ہے کیا دکھا رہے ہوں بن جائیں گے زہر پیتے پیتے یہ خوشی جو پیتے جا رہے ہوں جن زخموں کو سمے بھر چلا ہے جاناں کیوں ا نہیں چھیڑے جا رہے ہوں ریکھاؤں کا کھیل ہے مقدر ریکھاؤں سے مات کھا رہے ہوں
Kaifi Azmi
4 likes
جو حقیقت مری لگ رہے ہے وہ ہے وہ بھی کب کسی کا رہا بچھڑ کے ان سے سلیقہ لگ زندگی کا رہا لبوں سے اڑ گیا تو جگنو کی طرح نام ا سے کا سہارا اب مری گھر ہے وہ ہے وہ لگ روشنی کا رہا گزرنے کو تو ہزاروں ہی بندھو گزرے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ نقش قدم ب سے کسی کسی کا رہا
Kaifi Azmi
4 likes
ہاتھ آ کر لگا گیا تو کوئی میرا چھپر اٹھا گیا تو کوئی لگ گیا تو اک قید ہستی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی شہر ہے وہ ہے وہ لے کے آ گیا تو کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھڑا تھا کہ پیٹھ پر میری اشتہار اک لگا گیا تو کوئی یہ صدی دھوپ کو مشین ہے چنو سورج کو کھا گیا تو کوئی ایسی ترستی ہے کہ چہرہ بھی بیچ کے اپنا کھا گیا تو کوئی اب حقیقت ارمان ہیں نہ حقیقت سپنے سب کبوتر قسمیں گیا تو کوئی حقیقت گئے جب سے ایسا لگتا ہے چھوٹا مہنگائی خدا گیا تو کوئی میرا بچپن بھی ساتھ لے آیا گاؤں سے جب بھی آ گیا تو کوئی
Kaifi Azmi
6 likes
خار و خ سے تو بے خبرو راستہ تو چلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر تھک گیا تو قافلہ تو چلے چاند سورج بزرگوں کے نقش قدم خیر بجھنے دو ان کو ہوا تو چلے حاکم شہر یہ بھی کوئی شہر ہے مسجدیں بند ہیں مے کدہ تو چلے ا سے کو مذہب کہو یا سیاست کہو خود کشی کا ہنر جاناں سکھا تو چلے اتنی لاشیں ہے وہ ہے وہ کیسے اٹھا پاؤں گا آپ اینٹوں کی حرمت بچا تو چلے بیلچے لاؤ کھولو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی تہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں دفن ہوں کچھ پتا تو چلے
Kaifi Azmi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Kaifi Azmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Kaifi Azmi's ghazal.







