ghazalKuch Alfaaz

hamare shahr men elan-e-id ho gaya hai tire na hone ka ghham aur shadid ho gaya hai hamari ruuh badan tod kar nikal sakti hamara dard kuchh itna shadid ho gaya hai hamare andar ik achchha sharif insan tha hamare saath men rah kar palid ho gaya hai faqat dimaghh hi rakhta hai ab hamara khayal hamara dil to kisi ka murid ho gaya hai hamare shahr mein elan-e-id ho gaya hai tere na hone ka gham aur shadid ho gaya hai hamari ruh badan tod kar nikal sakti hamara dard kuchh itna shadid ho gaya hai hamare andar ek achchha sharif insan tha hamare sath mein rah kar palid ho gaya hai faqat dimagh hi rakhta hai ab hamara khayal hamara dil to kisi ka murid ho gaya hai

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

More from Ismail Raaz

ٹھوکروں ہے وہ ہے وہ اثر نہیں آیا دل ابھی راہ پر نہیں آیا خود ہے وہ ہے وہ دیکھا جو جھانک کر تری بعد مجھ کو ہے وہ ہے وہ بھی نظر نہیں آیا مدتوں سے سکوت چیختا ہے لیکن اب تک اثر نہیں آیا چاند ک سے تمکنت سے نکلےگا تو ا گر بام پر نہیں آیا کب سے گھر چھوڑ کر گیا تو ہوا ہوں کب سے ہے وہ ہے وہ لوٹ کر نہیں آیا

Ismail Raaz

10 likes

رو برو تری بے حد دیر بٹھایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ وجد ہے وہ ہے وہ آیا نہیں وجد ہے وہ ہے وہ لایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلسلہ ختم لگ ہوگا یہ دل آزاری کا ا سے سے پہلے بھی کئی بار منایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ یوں لگا سب نے گواہی دی کہ تو میرا ہے جب تری نام سے بستی ہے وہ ہے وہ ستایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب جب اسرار مری ذات کے کھلنے سے رہے چھیڑ کر ذکر ترا وجد ہے وہ ہے وہ لایا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ سے رستے ہے وہ ہے وہ زنداں کی اذیت پوچھو ٹھوکریں مار کے رستے سے ہٹایا گیا تو ہے وہ ہے وہ

Ismail Raaz

9 likes

پڑی ہے رات کوئی غم شنا سے بھی نہیں ہے شراب خانے ہے وہ ہے وہ آدھا گلا سے بھی نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کو لے کر کہا نکلوں اتنی رات گئے مکان ا سے کا کہی آ سے پا سے بھی نہیں ہے ی ہاں تو لڑکیاں اچھا سا گھر بھی چاہتی ہے ہمارے پا سے تو اچھا لبا سے بھی نہیں ہے

Ismail Raaz

19 likes

زندگی تو نے سلوک ایسے کیے ساتھ مری حقیقت تو اچھا ہے کہ باندھے ہوئے ہیں ہاتھ مری روز ہے وہ ہے وہ لوٹتا ہوں خود ہے وہ ہے وہ ندامت کے ساتھ روز مجھ کو کہی پھینک آتے ہیں جذبات مری مجھ کو سنیے نظر انداز لگ کیجے صاحب مری حالات سے اچھے ہے خیالات مری

Ismail Raaz

15 likes

تیری گلی کو چھوڑ کے پاگل نہیں گیا تو رسی تو جل گئی ہے مگر بل نہیں گیا تو مجنوں کی طرح چھوڑا نہیں ہے وہ ہے وہ نے شہر کو زبان ہے وہ ہے وہ ہجر کاٹنے جنگل نہیں گیا تو اس کا کا کو نظر اٹھا کے ذرا دیکھنے تو دے پھروں کہنا میرا جادو اگر چل نہیں گیا تو ہاں یہ حقیقت آنکھیں ٹاٹ کو تکتے ہی بجھ گئیں ہاں یہ حقیقت دل کہ جانب مخمل نہیں گیا تو تیرے مکان کے بعد قدم ہی نہیں اٹھے تیرے مکان سے آگے ہے وہ ہے وہ پیدل نہیں گیا تو

Ismail Raaz

11 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ismail Raaz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ismail Raaz's ghazal.