ghazalKuch Alfaaz

ہمارے دل نے پکارا ہے اب چلے آؤ زبان پہ نام تمہارا ہے اب چلے آؤ فضا ہے وہ ہے وہ درد کا منظر ہے رات کالی ہے عجیب حال ہمارا ہے اب چلے آؤ ہمارے پا سے بھلا اور ہے ہی کیا سوچو ب سے ایک ہی تو سہارا ہے اب چلے آؤ تمہارے بعد تمہاری حسین یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر ایک لمحہ گزارا ہے اب چلے آؤ خراب حال یہ کشتی ہے ڈوب جائے گی تمہارا ساتھ کنارہ ہے اب چلے آؤ

Related Ghazal

حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے

Umair Najmi

81 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

More from Ajeetendra Aazi Tamaam

عشق والی غم زدہ یا دوستی والی کریں ہم ہیں بتاؤ شاعری کیسی کریں بچ گئے تو زندگی لاچار کر دےگی تمہیں اس لیے مرنے سے پہلے موت کو رازی کریں میرا دل مری شکایت مری دکھ مری سزا آپ کو کیا ہی پڑی ہے آپ ب سے جی جی کریں باد رسوائی کوئی غم ہی نہیں رسوائی کا جی ہے وہ ہے وہ آتا ہے کی اب رسوا ہر اک ہستی کریں اے محبت تجھ سے کیوں بھرتا نہیں آخر یہ دل کتنا دل کو درد دیں اور کتنا دل اڑھائی کریں ہجر کی دیوار پر تصویر ہے اک ہجر کی سوچتے ہیں بارہا سیدھی کریں الٹی کریں حقیقت جن ہوں نے خواہشیں پہ خواہشیں تسلیم کی زندگی اچھی کٹےگی خواہشیں چھوٹی کریں ہم کو اب ہم سے نکلنے ہے وہ ہے وہ لگے گا سمے کچھ چھوڑ دیں ہم کو ہمارے حال ب سے اتنی کریں دل دکھا کر بولتے ہیں کتنے دل جوں لوگ ہیں جانے والے اب تمہاری فکر بھی کتنی کریں درد ہی ب سے درد اور ا سے کے علاوہ کچھ نہیں اب کریں تو کیا کریں کیا درد کی کھیتی کریں دھیرے دھیرے جل رہا ہے کچھ تمام آزی کہی ا سے سے پہلے خاک ہوں جائیں شفا جل گرا کریں

Ajeetendra Aazi Tamaam

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ajeetendra Aazi Tamaam.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ajeetendra Aazi Tamaam's ghazal.