ghazalKuch Alfaaz

عشق والی غم زدہ یا دوستی والی کریں ہم ہیں بتاؤ شاعری کیسی کریں بچ گئے تو زندگی لاچار کر دےگی تمہیں اس لیے مرنے سے پہلے موت کو رازی کریں میرا دل مری شکایت مری دکھ مری سزا آپ کو کیا ہی پڑی ہے آپ ب سے جی جی کریں باد رسوائی کوئی غم ہی نہیں رسوائی کا جی ہے وہ ہے وہ آتا ہے کی اب رسوا ہر اک ہستی کریں اے محبت تجھ سے کیوں بھرتا نہیں آخر یہ دل کتنا دل کو درد دیں اور کتنا دل اڑھائی کریں ہجر کی دیوار پر تصویر ہے اک ہجر کی سوچتے ہیں بارہا سیدھی کریں الٹی کریں حقیقت جن ہوں نے خواہشیں پہ خواہشیں تسلیم کی زندگی اچھی کٹےگی خواہشیں چھوٹی کریں ہم کو اب ہم سے نکلنے ہے وہ ہے وہ لگے گا سمے کچھ چھوڑ دیں ہم کو ہمارے حال ب سے اتنی کریں دل دکھا کر بولتے ہیں کتنے دل جوں لوگ ہیں جانے والے اب تمہاری فکر بھی کتنی کریں درد ہی ب سے درد اور ا سے کے علاوہ کچھ نہیں اب کریں تو کیا کریں کیا درد کی کھیتی کریں دھیرے دھیرے جل رہا ہے کچھ تمام آزی کہی ا سے سے پہلے خاک ہوں جائیں شفا جل گرا کریں

Related Ghazal

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے

Tehzeeb Hafi

262 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

بغیر اس کا کو بتائے نبھانا پڑتا ہے یہ عشق راز ہے اس کا کو چھپانا پڑتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ذہن کی ضد سے بے حد پریشاں ہوں تری خیال کی چوکھٹ پہ آنا پڑتا ہے تری بغیر ہی اچھے تھے کیا مصیبت ہے یہ کیسا پیار ہے ہر دن جتانا پڑتا ہے

Mehshar Afridi

73 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ajeetendra Aazi Tamaam.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ajeetendra Aazi Tamaam's ghazal.