ghazalKuch Alfaaz

ہنگامہ ہے کیا برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے مباحثے تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے نا غضب کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں ا سے رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے ا سے مے سے نہیں زار دل ج سے سے ہے بیگا لگ مقصود ہے ا سے مے سے دل ہی ہے وہ ہے وہ جو کھینچتی ہے واں دل ہے وہ ہے وہ کہ صدمے دو یاں جی ہے وہ ہے وہ کہ سب سہ لو ان کا بھی غضب دل ہے میرا بھی غضب جی ہے ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الہی سے ہر سان سے یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے سورج ہے وہ ہے وہ لگے دھبہ فطرت کے کرشمے ہیں بت ہم کو کہی کافر اللہ کی مرضی ہے سچ کہتے ہیں شیخ یاد خدا ہے طاعت حق لازم ہاں ترک مے و شاہد یہ ان کی بزرگی ہے

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

More from Akbar Allahabadi

پھروں گئی آپ کی دو دن ہے وہ ہے وہ طبیعت کیسی یہ وفا کیسی تھی صاحب یہ مروت کیسی دوست احباب سے ہن سے بول کے کٹ جائے گی رات رند آزاد ہیں ہم کو شب فرقت کیسی ج سے حسین سے ہوئی الفت وہی معشوق اپنا عشق ک سے چیز کو کہتے ہیں طبیعت کیسی ہے جو قسمت ہے وہ ہے وہ وہی ہوگا لگ کچھ کم لگ سوا آرزو کہتے ہیں ک سے چیز کو حسرت کیسی حال کھلتا نہیں کچھ دل کے دھڑکنے کا مجھے آج رہ رہ کے بھر آتی ہے طبیعت کیسی کوچہ یار ہے وہ ہے وہ جاتا تو نظارہ کرتا قی سے آوارہ ہے جنگل ہے وہ ہے وہ یہ وحشت کیسی

Akbar Allahabadi

1 likes

فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں معرفت خالق کی عالم ہے وہ ہے وہ بے حد دشوار ہے شہر تن ہے وہ ہے وہ جب کہ خود اپنا پتا ملتا نہیں غافلوں کے لطف کو کافی ہے دنیاوی خوشی عاقلوں کو بے غم عقبى مزہ ملتا نہیں کشتی دل کی الہی بہر ہستی ہے وہ ہے وہ ہوں خیر ناخدا ملتے ہیں لیکن با خدا ملتا نہیں غافلوں کو کیا سناؤں داستان عشق یار سننے والے ملتے ہیں درد آشنا ملتا نہیں زندگانی کا مزہ ملتا تھا جن کی بزم ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان کی قبروں کا بھی اب مجھ کو پتا ملتا نہیں صرف ظاہر ہوں گیا تو سرمایہ زیب و صفا کیا ت غضب ہے جو باطن با صفا ملتا نہیں پختہ کوہساروں پر حوادث کا نہیں ہوتا اثر نشان نقش پا ہے وہ ہے وہ شیخ صاحب ملتا نہیں برتیں برہمن سے لاکھ بے بھجن دوستی شیریں ادا گائے تو مندیر سے ٹکا ملتا نہیں ج سے پہ دل آیا ہے حقیقت بد نامی ملتا نہیں زندگی ہے تلخ جینے کا مزہ ملتا نہیں لوگ کہتے ہیں کہ اہل ظاہر سے بچنا چاہیے کہ دو بے ا سے کے جوانی کا مزہ ملتا نہیں بحث و جدال ج

Akbar Allahabadi

0 likes

اپنی گرہ سے کچھ لگ مجھے آپ دیجیے ذائقہ ہے وہ ہے وہ تو نام میرا چھاپ دیجیے دیکھو جسے حقیقت پائنیئر آف سے ہے وہ ہے وہ ہے ڈٹا بہر خدا مجھے بھی کہی چھاپ دیجیے چشم ج ہاں سے حالت اصلی چھپی نہیں ذائقہ ہے وہ ہے وہ جو چاہیے حقیقت چھاپ دیجیے دعویٰ بے حد بڑا ہے ریاضی ہے وہ ہے وہ آپ کو طول شب فراق کو تو ناپ دیجیے سنتے نہیں ہیں شیخ نئی روشنی کی بات انجن کی ان کے کان ہے وہ ہے وہ اب بھاپ دیجیے ا سے بت کے در پہ غیر سے یاد خدا نے کہ دیا زر ہی ہے وہ ہے وہ دینے لایا ہوں جان آپ دیجیے

Akbar Allahabadi

0 likes

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارہ نہیں ہوتا آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا جلوہ لگ ہوں معنی کا تو صورت کا اثر کیا بلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا اللہ بچائے مرض عشق سے دل کو سنتے ہیں کہ یہ آرزا اچھا نہیں ہوتا تشبیہ تری چہرے کو کیا دوں گل تر سے ہوتا ہے شگفتہ م گر اتنا نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نزع ہے وہ ہے وہ ہوں آئیں تو احسان ہے ان کا لیکن یہ سمجھ لیں کہ تماشا نہیں ہوتا ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوں جاتے ہیں بدنام حقیقت قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

Akbar Allahabadi

1 likes

تری زلفوں ہے وہ ہے وہ دل الجھا ہوا ہے بلا کے پیچ ہے وہ ہے وہ آیا ہوا ہے لگ کیونکر بو خوں نامے سے آئی اسی جلاد کا لکھا ہوا ہے چلے دنیا سے ج سے کی یاد ہے وہ ہے وہ ہم غضب ہے حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھولا ہوا ہے ک ہوں کیا حال اگلی عشرتوں کا حقیقت تھا اک خواب جو بھولا ہوا ہے کہوں ہوں یا وفا ہم سب ہے وہ ہے وہ خوش ہیں کریں کیا اب تو دل اٹکا ہوا ہے ہوئی ہے عشق ہی سے حسن کی دودمان ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے آپ کا اشہدو ان لا الہ ہوا ہے بتوں پر رہتی ہے مائل ہمیشہ طبیعت کو خدایا کیا ہوا ہے پریشاں رہتے ہوں دن رات یاد خدا یہ ک سے کی زلف کا سودا ہوا ہے

Akbar Allahabadi

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Akbar Allahabadi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Akbar Allahabadi's ghazal.