فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں معرفت خالق کی عالم ہے وہ ہے وہ بے حد دشوار ہے شہر تن ہے وہ ہے وہ جب کہ خود اپنا پتا ملتا نہیں غافلوں کے لطف کو کافی ہے دنیاوی خوشی عاقلوں کو بے غم عقبى مزہ ملتا نہیں کشتی دل کی الہی بہر ہستی ہے وہ ہے وہ ہوں خیر ناخدا ملتے ہیں لیکن با خدا ملتا نہیں غافلوں کو کیا سناؤں داستان عشق یار سننے والے ملتے ہیں درد آشنا ملتا نہیں زندگانی کا مزہ ملتا تھا جن کی بزم ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان کی قبروں کا بھی اب مجھ کو پتا ملتا نہیں صرف ظاہر ہوں گیا تو سرمایہ زیب و صفا کیا ت غضب ہے جو باطن با صفا ملتا نہیں پختہ کوہساروں پر حوادث کا نہیں ہوتا اثر نشان نقش پا ہے وہ ہے وہ شیخ صاحب ملتا نہیں برتیں برہمن سے لاکھ بے بھجن دوستی شیریں ادا گائے تو مندیر سے ٹکا ملتا نہیں ج سے پہ دل آیا ہے حقیقت بد نامی ملتا نہیں زندگی ہے تلخ جینے کا مزہ ملتا نہیں لوگ کہتے ہیں کہ اہل ظاہر سے بچنا چاہیے کہ دو بے ا سے کے جوانی کا مزہ ملتا نہیں بحث و جدال ج
Related Ghazal
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
آنکھ کو آئی لگ سمجھتے ہوں جاناں بھی سب کی طرح سمجھتے ہوں دوست اب کیوں نہیں سمجھتے جاناں جاناں تو کہتے تھے نا سمجھتے ہوں اپنا غم جاناں کو کیسے سمجھاؤں سب سے ہارا ہوا سمجھتے ہوں مری دنیا اجڑ گئی ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں اسے حادثہ سمجھتے ہوں آخری راستہ تو باقی ہے آخری راستہ سمجھتے ہوں
Himanshi babra KATIB
76 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
More from Akbar Allahabadi
تری زلفوں ہے وہ ہے وہ دل الجھا ہوا ہے بلا کے پیچ ہے وہ ہے وہ آیا ہوا ہے لگ کیونکر بو خوں نامے سے آئی اسی جلاد کا لکھا ہوا ہے چلے دنیا سے ج سے کی یاد ہے وہ ہے وہ ہم غضب ہے حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھولا ہوا ہے ک ہوں کیا حال اگلی عشرتوں کا حقیقت تھا اک خواب جو بھولا ہوا ہے کہوں ہوں یا وفا ہم سب ہے وہ ہے وہ خوش ہیں کریں کیا اب تو دل اٹکا ہوا ہے ہوئی ہے عشق ہی سے حسن کی دودمان ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے آپ کا اشہدو ان لا الہ ہوا ہے بتوں پر رہتی ہے مائل ہمیشہ طبیعت کو خدایا کیا ہوا ہے پریشاں رہتے ہوں دن رات یاد خدا یہ ک سے کی زلف کا سودا ہوا ہے
Akbar Allahabadi
0 likes
اپنی گرہ سے کچھ لگ مجھے آپ دیجیے ذائقہ ہے وہ ہے وہ تو نام میرا چھاپ دیجیے دیکھو جسے حقیقت پائنیئر آف سے ہے وہ ہے وہ ہے ڈٹا بہر خدا مجھے بھی کہی چھاپ دیجیے چشم ج ہاں سے حالت اصلی چھپی نہیں ذائقہ ہے وہ ہے وہ جو چاہیے حقیقت چھاپ دیجیے دعویٰ بے حد بڑا ہے ریاضی ہے وہ ہے وہ آپ کو طول شب فراق کو تو ناپ دیجیے سنتے نہیں ہیں شیخ نئی روشنی کی بات انجن کی ان کے کان ہے وہ ہے وہ اب بھاپ دیجیے ا سے بت کے در پہ غیر سے یاد خدا نے کہ دیا زر ہی ہے وہ ہے وہ دینے لایا ہوں جان آپ دیجیے
Akbar Allahabadi
0 likes
ضد ہے ا نہیں پورا میرا ارمان لگ کریںگے منا سے جو نہیں نکلی ہے اب ہاں لگ کریںگے کیوں زلف کا بوسہ مجھے لینے نہیں دیتے کہتے ہیں کہ واللہ پریشاں لگ کریںگے ہے ذہن ہے وہ ہے وہ اک بات تمہارے متعلق خلوت ہے وہ ہے وہ جو پوچھوگے تو پن ہاں لگ کریںگے واعظ تو بناتے ہیں مسلمان کو کافر افسو سے یہ کافر کو مسلماناں لگ کریںگے کیوں شکر گزاری کا مجھے شوق ہے اتنا سنتا ہوں حقیقت مجھ پر کوئی احسان لگ کریںگے دیوا لگ لگ سمجھے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت سمجھے شرابی اب چاک کبھی جیب و گریباں لگ کریںگے حقیقت جانتے ہیں غیر مری گھر ہے وہ ہے وہ ہے مہمان آئیں گے تو مجھ پر کوئی احسان لگ کریںگے
Akbar Allahabadi
2 likes
ہنگامہ ہے کیا برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے مباحثے تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے نا غضب کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں ا سے رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے ا سے مے سے نہیں زار دل ج سے سے ہے بیگا لگ مقصود ہے ا سے مے سے دل ہی ہے وہ ہے وہ جو کھینچتی ہے واں دل ہے وہ ہے وہ کہ صدمے دو یاں جی ہے وہ ہے وہ کہ سب سہ لو ان کا بھی غضب دل ہے میرا بھی غضب جی ہے ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الہی سے ہر سان سے یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے سورج ہے وہ ہے وہ لگے دھبہ فطرت کے کرشمے ہیں بت ہم کو کہی کافر اللہ کی مرضی ہے سچ کہتے ہیں شیخ یاد خدا ہے طاعت حق لازم ہاں ترک مے و شاہد یہ ان کی بزرگی ہے
Akbar Allahabadi
1 likes
سان سے لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں یہ لگ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں بہر ہستی ہے وہ ہے وہ ہوں مثال حباب مٹ ہی جاتا ہوں جب ابھرتا ہوں اتنی آزا گرا بھی غنیمت ہے سان سے لیتا ہوں بات کرتا ہوں شیخ صاحب خدا سے ڈرتے ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو انگریزوں ہی سے ڈرتا ہوں آپ کیا پوچھتے ہیں میرا مزاج شکر اللہ کا ہے مرتا ہوں یہ بڑا عیب مجھ ہے وہ ہے وہ ہے یاد خدا دل ہے وہ ہے وہ جو آئی کہ گزرتا ہوں
Akbar Allahabadi
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Akbar Allahabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Akbar Allahabadi's ghazal.







