ضد ہے ا نہیں پورا میرا ارمان لگ کریںگے منا سے جو نہیں نکلی ہے اب ہاں لگ کریںگے کیوں زلف کا بوسہ مجھے لینے نہیں دیتے کہتے ہیں کہ واللہ پریشاں لگ کریںگے ہے ذہن ہے وہ ہے وہ اک بات تمہارے متعلق خلوت ہے وہ ہے وہ جو پوچھوگے تو پن ہاں لگ کریںگے واعظ تو بناتے ہیں مسلمان کو کافر افسو سے یہ کافر کو مسلماناں لگ کریںگے کیوں شکر گزاری کا مجھے شوق ہے اتنا سنتا ہوں حقیقت مجھ پر کوئی احسان لگ کریںگے دیوا لگ لگ سمجھے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت سمجھے شرابی اب چاک کبھی جیب و گریباں لگ کریںگے حقیقت جانتے ہیں غیر مری گھر ہے وہ ہے وہ ہے مہمان آئیں گے تو مجھ پر کوئی احسان لگ کریںگے
Related Ghazal
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے
Jaun Elia
88 likes
ہے وہ ہے وہ بھی جاناں جیسا ہوں اپنے سے جدا مت سمجھو آدمی ہی مجھے رہنے دو خدا مت سمجھو یہ جو ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ رہتا نہیں جاناں سے مل کر یہ میرا عشق ہے جاناں اس کا کو نشہ مت سمجھو را سے آتا نہیں سب کو یہ محبت کا مرض مری بیماری کو جاناں اپنی دوا مت سمجھو
Shakeel Azmi
51 likes
روز تاروں کو نمائش ہے وہ ہے وہ خلل پڑتا ہے چاند پاگل ہے اندھیرے ہے وہ ہے وہ نکل پڑتا ہے ایک دیوا لگ مسافر ہے مری آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سر دہر ٹھہر جاتا ہے چل پڑتا ہے اپنی تعبیر کے چکر ہے وہ ہے وہ میرا جاگتا خواب روز سورج کی طرح گھر سے نکل پڑتا ہے روز پتھر کی حمایت ہے وہ ہے وہ غزل لکھتے ہیں روز شیشوں سے کوئی کام نکل پڑتا ہے ا سے کی یاد آئی ہے سانسوں ذرا آہستہ چلو دھڑکنوں سے بھی عبادت ہے وہ ہے وہ خلل پڑتا ہے
Rahat Indori
33 likes
نہیں آتا کسی پر دل ہمارا وہی کشتی وہی ساحل ہمارا تری در پر کریںگے نوکری ہم تیری گلیاں ہیں مستقبل ہمارا کبھی ملتا تھا کوئی ہوٹلوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کبھی بھرتا تھا کوئی بل ہمارا
Tehzeeb Hafi
83 likes
ہے وہ ہے وہ نے تو ب سے مزاق ہے وہ ہے وہ پوچھا خراب ہے حقیقت پیر ہاتھ دیکھ کے بولا خراب ہے ہر دن اسے دکھایا کہ کتنے غنیم ہیں ہر رات ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ سوچا خراب ہے یہ عشق ہوں چکا ہے ترپ چال تاش کی آگے غلام کے میرا اکا خراب ہے آزاد لڑ کیوں سے بھلی قید عورتیں زار کہ جھیل ٹھیک ہے دریا خراب ہے ہم ج سے خدا کی آ سے ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہیں رات دن حقیقت جا چکا ہے بول کے دنیا خراب ہے زیادہ کسی کی موت پہ رونا نہیں صحیح اور جنم دن پہ شور شرابا خراب ہے آدھا بھی ا سے کے جتنا ہے وہ ہے وہ روشن نہیں ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دیے کو بول رہا تھا خراب ہے
Kushal Dauneria
35 likes
More from Akbar Allahabadi
ہنگامہ ہے کیا برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے مباحثے تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے نا غضب کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں ا سے رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے ا سے مے سے نہیں زار دل ج سے سے ہے بیگا لگ مقصود ہے ا سے مے سے دل ہی ہے وہ ہے وہ جو کھینچتی ہے واں دل ہے وہ ہے وہ کہ صدمے دو یاں جی ہے وہ ہے وہ کہ سب سہ لو ان کا بھی غضب دل ہے میرا بھی غضب جی ہے ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الہی سے ہر سان سے یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے سورج ہے وہ ہے وہ لگے دھبہ فطرت کے کرشمے ہیں بت ہم کو کہی کافر اللہ کی مرضی ہے سچ کہتے ہیں شیخ یاد خدا ہے طاعت حق لازم ہاں ترک مے و شاہد یہ ان کی بزرگی ہے
Akbar Allahabadi
1 likes
غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارہ نہیں ہوتا آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا جلوہ لگ ہوں معنی کا تو صورت کا اثر کیا بلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا اللہ بچائے مرض عشق سے دل کو سنتے ہیں کہ یہ آرزا اچھا نہیں ہوتا تشبیہ تری چہرے کو کیا دوں گل تر سے ہوتا ہے شگفتہ م گر اتنا نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نزع ہے وہ ہے وہ ہوں آئیں تو احسان ہے ان کا لیکن یہ سمجھ لیں کہ تماشا نہیں ہوتا ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوں جاتے ہیں بدنام حقیقت قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
Akbar Allahabadi
1 likes
تری زلفوں ہے وہ ہے وہ دل الجھا ہوا ہے بلا کے پیچ ہے وہ ہے وہ آیا ہوا ہے لگ کیونکر بو خوں نامے سے آئی اسی جلاد کا لکھا ہوا ہے چلے دنیا سے ج سے کی یاد ہے وہ ہے وہ ہم غضب ہے حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھولا ہوا ہے ک ہوں کیا حال اگلی عشرتوں کا حقیقت تھا اک خواب جو بھولا ہوا ہے کہوں ہوں یا وفا ہم سب ہے وہ ہے وہ خوش ہیں کریں کیا اب تو دل اٹکا ہوا ہے ہوئی ہے عشق ہی سے حسن کی دودمان ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے آپ کا اشہدو ان لا الہ ہوا ہے بتوں پر رہتی ہے مائل ہمیشہ طبیعت کو خدایا کیا ہوا ہے پریشاں رہتے ہوں دن رات یاد خدا یہ ک سے کی زلف کا سودا ہوا ہے
Akbar Allahabadi
0 likes
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے مباحثے تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے نا غضب کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں ا سے رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے ا سے مے سے نہیں زار دل ج سے سے ہے بیگا لگ مقصود ہے ا سے مے سے دل ہی ہے وہ ہے وہ جو کھینچتی ہے اے شوق وہی مے پی اے ہوش ذرا سو جا مہمان نظر ا سے دم ایک برق تجلی ہے واں دل ہے وہ ہے وہ کہ صدمے دو یاں جی ہے وہ ہے وہ کہ سب سہ لو ان کا بھی غضب دل ہے میرا بھی غضب جی ہے ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الہی سے ہر سان سے یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے سورج ہے وہ ہے وہ لگے دھبہ فطرت کے کرشمے ہیں بت ہم کو کہی کافر اللہ کی مرضی ہے تعلیم کا شور ایسا برزخ کا غل اتنا برکت جو نہیں ہوتی نیت کی خرابی ہے سچ کہتے ہیں شیخ یاد خدا ہے طاعت حق لازم ہاں ترک مے و شاہد یہ ان کی بزرگی ہے
Akbar Allahabadi
1 likes
پھروں گئی آپ کی دو دن ہے وہ ہے وہ طبیعت کیسی یہ وفا کیسی تھی صاحب یہ مروت کیسی دوست احباب سے ہن سے بول کے کٹ جائے گی رات رند آزاد ہیں ہم کو شب فرقت کیسی ج سے حسین سے ہوئی الفت وہی معشوق اپنا عشق ک سے چیز کو کہتے ہیں طبیعت کیسی ہے جو قسمت ہے وہ ہے وہ وہی ہوگا لگ کچھ کم لگ سوا آرزو کہتے ہیں ک سے چیز کو حسرت کیسی حال کھلتا نہیں کچھ دل کے دھڑکنے کا مجھے آج رہ رہ کے بھر آتی ہے طبیعت کیسی کوچہ یار ہے وہ ہے وہ جاتا تو نظارہ کرتا قی سے آوارہ ہے جنگل ہے وہ ہے وہ یہ وحشت کیسی
Akbar Allahabadi
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Akbar Allahabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Akbar Allahabadi's ghazal.







