ghazalKuch Alfaaz

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے مباحثے تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے نا غضب کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں ا سے رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے ا سے مے سے نہیں زار دل ج سے سے ہے بیگا لگ مقصود ہے ا سے مے سے دل ہی ہے وہ ہے وہ جو کھینچتی ہے اے شوق وہی مے پی اے ہوش ذرا سو جا مہمان نظر ا سے دم ایک برق تجلی ہے واں دل ہے وہ ہے وہ کہ صدمے دو یاں جی ہے وہ ہے وہ کہ سب سہ لو ان کا بھی غضب دل ہے میرا بھی غضب جی ہے ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الہی سے ہر سان سے یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے سورج ہے وہ ہے وہ لگے دھبہ فطرت کے کرشمے ہیں بت ہم کو کہی کافر اللہ کی مرضی ہے تعلیم کا شور ایسا برزخ کا غل اتنا برکت جو نہیں ہوتی نیت کی خرابی ہے سچ کہتے ہیں شیخ یاد خدا ہے طاعت حق لازم ہاں ترک مے و شاہد یہ ان کی بزرگی ہے

Related Ghazal

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی

Zubair Ali Tabish

80 likes

More from Akbar Allahabadi

ہنگامہ ہے کیا برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے مباحثے تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے نا غضب کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں ا سے رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے ا سے مے سے نہیں زار دل ج سے سے ہے بیگا لگ مقصود ہے ا سے مے سے دل ہی ہے وہ ہے وہ جو کھینچتی ہے واں دل ہے وہ ہے وہ کہ صدمے دو یاں جی ہے وہ ہے وہ کہ سب سہ لو ان کا بھی غضب دل ہے میرا بھی غضب جی ہے ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الہی سے ہر سان سے یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے سورج ہے وہ ہے وہ لگے دھبہ فطرت کے کرشمے ہیں بت ہم کو کہی کافر اللہ کی مرضی ہے سچ کہتے ہیں شیخ یاد خدا ہے طاعت حق لازم ہاں ترک مے و شاہد یہ ان کی بزرگی ہے

Akbar Allahabadi

1 likes

امید ٹوٹی ہوئی ہے مری جو دل میرا تھا حقیقت مر چکا ہے جو زندگانی کو تلخ کر دے حقیقت سمے مجھ پر گزر چکا ہے اگرچہ سینے ہے وہ ہے وہ سان سے بھی ہے نہیں طبیعت ہے وہ ہے وہ جان باقی اجل کو ہے دیر اک نظر کی فلک تو کام اپنا کر چکا ہے غریب خانے کی یہ اداسی یہ نا درستی نہیں قدیمی چہل پہل بھی کبھی ی ہاں تھی کبھی یہ گھر بھی سنور چکا ہے یہ سینا ج سے ہے وہ ہے وہ یہ داغ ہے وہ ہے وہ اب مسرتوں کا کبھی تھا مخزن حقیقت دل جو ارمان سے بھرا تھا خوشی سے ا سے ہے وہ ہے وہ ٹھہر چکا ہے غریب یاد خدا کے گرد کیوں ہے وہ ہے وہ خیال واعظ سے کوئی کہ دے اسے ڈراتے ہوں موت سے کیا حقیقت زندگی ہی سے ڈر چکا ہے

Akbar Allahabadi

0 likes

رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی واعظ کی بات رہ گئی ساقی کی چل گئی تیار تھے نماز پہ ہم سن کے ذکر حور جلوہ بتوں کا دیکھ کے نیت بدل گئی مچھلی نے ڈھیل پائی ہے لقمی پہ شاد ہے صیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی چمکا ترا جمال جو محفل ہے وہ ہے وہ سمے شام پروا لگ بے قرار ہوا شمع جل گئی عقبہ کی باز پر سے کا جاتا رہا خیال دنیا کی لذتوں ہے وہ ہے وہ طبیعت بہل گئی حسرت بے حد ترقی دختر کی تھی ا نہیں پردہ جو اٹھ گیا تو تو حقیقت آخر نکل گئی

Akbar Allahabadi

0 likes

دنیا ہے وہ ہے وہ ہوں دنیا کا طلبگار نہیں ہوں بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں زندہ ہوں م گر آب و زیست کی لذت نہیں باقی ہر چند کہ ہوں ہوش ہے وہ ہے وہ ہوشیار نہیں ہوں ا سے خا لگ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوث سایہ ہوں فقط نقش ب دیوار نہیں ہوں افسردہ ہوں عبرت سے دوا کی نہیں حاجت غم کا مجھے یہ زوف ہے بیمار نہیں ہوں حقیقت گل ہوں اڑائے نے جسے برباد کیا ہے الجھوں کسی دامن سے ہے وہ ہے وہ حقیقت بچھاؤ نہیں ہوں یا رب مجھے ہری رکھ ا سے بت کے ستم سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی عنایت کا طلبگار نہیں ہوں گو دعوی تقوی نہیں درگاہ خدا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بت ج سے سے ہوں خوش ایسا گنہگار نہیں ہوں افسردگی و زوف کی کچھ حد نہیں یاد خدا کافر کے مقابل ہے وہ ہے وہ بھی دین دار نہیں ہوں

Akbar Allahabadi

0 likes

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارہ نہیں ہوتا آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا جلوہ لگ ہوں معنی کا تو صورت کا اثر کیا بلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا اللہ بچائے مرض عشق سے دل کو سنتے ہیں کہ یہ آرزا اچھا نہیں ہوتا تشبیہ تری چہرے کو کیا دوں گل تر سے ہوتا ہے شگفتہ م گر اتنا نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نزع ہے وہ ہے وہ ہوں آئیں تو احسان ہے ان کا لیکن یہ سمجھ لیں کہ تماشا نہیں ہوتا ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوں جاتے ہیں بدنام حقیقت قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

Akbar Allahabadi

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Akbar Allahabadi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Akbar Allahabadi's ghazal.