رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی واعظ کی بات رہ گئی ساقی کی چل گئی تیار تھے نماز پہ ہم سن کے ذکر حور جلوہ بتوں کا دیکھ کے نیت بدل گئی مچھلی نے ڈھیل پائی ہے لقمی پہ شاد ہے صیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی چمکا ترا جمال جو محفل ہے وہ ہے وہ سمے شام پروا لگ بے قرار ہوا شمع جل گئی عقبہ کی باز پر سے کا جاتا رہا خیال دنیا کی لذتوں ہے وہ ہے وہ طبیعت بہل گئی حسرت بے حد ترقی دختر کی تھی ا نہیں پردہ جو اٹھ گیا تو تو حقیقت آخر نکل گئی
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
More from Akbar Allahabadi
تری زلفوں ہے وہ ہے وہ دل الجھا ہوا ہے بلا کے پیچ ہے وہ ہے وہ آیا ہوا ہے لگ کیونکر بو خوں نامے سے آئی اسی جلاد کا لکھا ہوا ہے چلے دنیا سے ج سے کی یاد ہے وہ ہے وہ ہم غضب ہے حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھولا ہوا ہے ک ہوں کیا حال اگلی عشرتوں کا حقیقت تھا اک خواب جو بھولا ہوا ہے کہوں ہوں یا وفا ہم سب ہے وہ ہے وہ خوش ہیں کریں کیا اب تو دل اٹکا ہوا ہے ہوئی ہے عشق ہی سے حسن کی دودمان ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے آپ کا اشہدو ان لا الہ ہوا ہے بتوں پر رہتی ہے مائل ہمیشہ طبیعت کو خدایا کیا ہوا ہے پریشاں رہتے ہوں دن رات یاد خدا یہ ک سے کی زلف کا سودا ہوا ہے
Akbar Allahabadi
0 likes
اپنی گرہ سے کچھ لگ مجھے آپ دیجیے ذائقہ ہے وہ ہے وہ تو نام میرا چھاپ دیجیے دیکھو جسے حقیقت پائنیئر آف سے ہے وہ ہے وہ ہے ڈٹا بہر خدا مجھے بھی کہی چھاپ دیجیے چشم ج ہاں سے حالت اصلی چھپی نہیں ذائقہ ہے وہ ہے وہ جو چاہیے حقیقت چھاپ دیجیے دعویٰ بے حد بڑا ہے ریاضی ہے وہ ہے وہ آپ کو طول شب فراق کو تو ناپ دیجیے سنتے نہیں ہیں شیخ نئی روشنی کی بات انجن کی ان کے کان ہے وہ ہے وہ اب بھاپ دیجیے ا سے بت کے در پہ غیر سے یاد خدا نے کہ دیا زر ہی ہے وہ ہے وہ دینے لایا ہوں جان آپ دیجیے
Akbar Allahabadi
0 likes
ہنگامہ ہے کیا برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے مباحثے تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے نا غضب کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں ا سے رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے ا سے مے سے نہیں زار دل ج سے سے ہے بیگا لگ مقصود ہے ا سے مے سے دل ہی ہے وہ ہے وہ جو کھینچتی ہے واں دل ہے وہ ہے وہ کہ صدمے دو یاں جی ہے وہ ہے وہ کہ سب سہ لو ان کا بھی غضب دل ہے میرا بھی غضب جی ہے ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الہی سے ہر سان سے یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے سورج ہے وہ ہے وہ لگے دھبہ فطرت کے کرشمے ہیں بت ہم کو کہی کافر اللہ کی مرضی ہے سچ کہتے ہیں شیخ یاد خدا ہے طاعت حق لازم ہاں ترک مے و شاہد یہ ان کی بزرگی ہے
Akbar Allahabadi
1 likes
ضد ہے ا نہیں پورا میرا ارمان لگ کریںگے منا سے جو نہیں نکلی ہے اب ہاں لگ کریںگے کیوں زلف کا بوسہ مجھے لینے نہیں دیتے کہتے ہیں کہ واللہ پریشاں لگ کریںگے ہے ذہن ہے وہ ہے وہ اک بات تمہارے متعلق خلوت ہے وہ ہے وہ جو پوچھوگے تو پن ہاں لگ کریںگے واعظ تو بناتے ہیں مسلمان کو کافر افسو سے یہ کافر کو مسلماناں لگ کریںگے کیوں شکر گزاری کا مجھے شوق ہے اتنا سنتا ہوں حقیقت مجھ پر کوئی احسان لگ کریںگے دیوا لگ لگ سمجھے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت سمجھے شرابی اب چاک کبھی جیب و گریباں لگ کریںگے حقیقت جانتے ہیں غیر مری گھر ہے وہ ہے وہ ہے مہمان آئیں گے تو مجھ پر کوئی احسان لگ کریںگے
Akbar Allahabadi
2 likes
دل میرا ج سے سے بہلتا کوئی ایسا لگ ملا بت کے بندے ملے اللہ کا بندہ لگ ملا پھری سے باد بہاری آمادہ سودا مایو سے ایک سر بھی اسے خوا ہاں لگ ملا گل کے عطر فروش تو نظر آئی بے حد طالب زمزمہ بلبل شیدا کلیسا لگ ملا واہ کیا راہ دکھائی ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مرشد نے کر دیا کعبے کو گم اور کالج لگ ملا رنگ چہرے کا تو قائم نے بھی رکھا قائم سید ہے وہ ہے وہ م گر باپ سے بیٹا لگ ملا گزٹ اٹھے جو ہوشیاروں لے کے تو لاکھوں لائے شیخ ہوشیاروں دکھاتے پھیرے بڑھانے لگ ملا معنی ہے وہ ہے وہ تو اک اک سے سوا ہیں یاد خدا مجھ کو دیوانوں ہے وہ ہے وہ لیکن کوئی تجھ سا لگ ملا
Akbar Allahabadi
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Akbar Allahabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Akbar Allahabadi's ghazal.







