دل میرا ج سے سے بہلتا کوئی ایسا لگ ملا بت کے بندے ملے اللہ کا بندہ لگ ملا پھری سے باد بہاری آمادہ سودا مایو سے ایک سر بھی اسے خوا ہاں لگ ملا گل کے عطر فروش تو نظر آئی بے حد طالب زمزمہ بلبل شیدا کلیسا لگ ملا واہ کیا راہ دکھائی ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مرشد نے کر دیا کعبے کو گم اور کالج لگ ملا رنگ چہرے کا تو قائم نے بھی رکھا قائم سید ہے وہ ہے وہ م گر باپ سے بیٹا لگ ملا گزٹ اٹھے جو ہوشیاروں لے کے تو لاکھوں لائے شیخ ہوشیاروں دکھاتے پھیرے بڑھانے لگ ملا معنی ہے وہ ہے وہ تو اک اک سے سوا ہیں یاد خدا مجھ کو دیوانوں ہے وہ ہے وہ لیکن کوئی تجھ سا لگ ملا
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
More from Akbar Allahabadi
ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے منزل ہستی نہیں ہے دل لگانے کے لیے کیا مجھے خوش آئی یہ حیرت سرا بے ثبات ہوش اڑنے کے لیے ہے جان جانے کے لیے دل نے دیکھا ہے بسات قوت ادراک کو کیا بڑھے اس کا بزم ہے وہ ہے وہ آنکھیں اٹھانے کے لیے خوب امیدیں بندھیں لیکن ہوئیں حرماں نصیب بدلیاں اٹھیں مگر بجلی گرانے کے لیے سانس کی ترکیب پر مٹی کو پیار آ ہی گیا تو خود ہوئی قید اس کا کو سینے سے لگانے کے لیے جب کہا ہے وہ ہے وہ نے بھلا دو غیر کو ہنس کر کہا یاد پھروں مجھ کو دلانا بھول جانے کے لیے دیدہ بازی حقیقت کہاں آنکھیں رہا کرتی ہیں بند جان ہی باقی نہیں اب دل لگانے کے لیے مجھ کو خوش آئی ہے مستی شیخ جی کو فربہی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں پینے کے لیے اور حقیقت ہیں خانے کے لیے اللہ اللہ کے سوا آخر رہا کچھ بھی نہ یاد جو کیا تھا یاد سب تھا بھول جانے کے لیے سر کہاں کے ساز کیسا کیسی بزم سامعین جوش دل کافی ہے یاد خدا تان اڑانے کے لیے
Akbar Allahabadi
2 likes
ہنگامہ ہے کیا برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے مباحثے تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے نا غضب کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں ا سے رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے ا سے مے سے نہیں زار دل ج سے سے ہے بیگا لگ مقصود ہے ا سے مے سے دل ہی ہے وہ ہے وہ جو کھینچتی ہے واں دل ہے وہ ہے وہ کہ صدمے دو یاں جی ہے وہ ہے وہ کہ سب سہ لو ان کا بھی غضب دل ہے میرا بھی غضب جی ہے ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الہی سے ہر سان سے یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے سورج ہے وہ ہے وہ لگے دھبہ فطرت کے کرشمے ہیں بت ہم کو کہی کافر اللہ کی مرضی ہے سچ کہتے ہیں شیخ یاد خدا ہے طاعت حق لازم ہاں ترک مے و شاہد یہ ان کی بزرگی ہے
Akbar Allahabadi
1 likes
پھروں گئی آپ کی دو دن ہے وہ ہے وہ طبیعت کیسی یہ وفا کیسی تھی صاحب یہ مروت کیسی دوست احباب سے ہن سے بول کے کٹ جائے گی رات رند آزاد ہیں ہم کو شب فرقت کیسی ج سے حسین سے ہوئی الفت وہی معشوق اپنا عشق ک سے چیز کو کہتے ہیں طبیعت کیسی ہے جو قسمت ہے وہ ہے وہ وہی ہوگا لگ کچھ کم لگ سوا آرزو کہتے ہیں ک سے چیز کو حسرت کیسی حال کھلتا نہیں کچھ دل کے دھڑکنے کا مجھے آج رہ رہ کے بھر آتی ہے طبیعت کیسی کوچہ یار ہے وہ ہے وہ جاتا تو نظارہ کرتا قی سے آوارہ ہے جنگل ہے وہ ہے وہ یہ وحشت کیسی
Akbar Allahabadi
1 likes
اپنی گرہ سے کچھ لگ مجھے آپ دیجیے ذائقہ ہے وہ ہے وہ تو نام میرا چھاپ دیجیے دیکھو جسے حقیقت پائنیئر آف سے ہے وہ ہے وہ ہے ڈٹا بہر خدا مجھے بھی کہی چھاپ دیجیے چشم ج ہاں سے حالت اصلی چھپی نہیں ذائقہ ہے وہ ہے وہ جو چاہیے حقیقت چھاپ دیجیے دعویٰ بے حد بڑا ہے ریاضی ہے وہ ہے وہ آپ کو طول شب فراق کو تو ناپ دیجیے سنتے نہیں ہیں شیخ نئی روشنی کی بات انجن کی ان کے کان ہے وہ ہے وہ اب بھاپ دیجیے ا سے بت کے در پہ غیر سے یاد خدا نے کہ دیا زر ہی ہے وہ ہے وہ دینے لایا ہوں جان آپ دیجیے
Akbar Allahabadi
0 likes
تری زلفوں ہے وہ ہے وہ دل الجھا ہوا ہے بلا کے پیچ ہے وہ ہے وہ آیا ہوا ہے لگ کیونکر بو خوں نامے سے آئی اسی جلاد کا لکھا ہوا ہے چلے دنیا سے ج سے کی یاد ہے وہ ہے وہ ہم غضب ہے حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھولا ہوا ہے ک ہوں کیا حال اگلی عشرتوں کا حقیقت تھا اک خواب جو بھولا ہوا ہے کہوں ہوں یا وفا ہم سب ہے وہ ہے وہ خوش ہیں کریں کیا اب تو دل اٹکا ہوا ہے ہوئی ہے عشق ہی سے حسن کی دودمان ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے آپ کا اشہدو ان لا الہ ہوا ہے بتوں پر رہتی ہے مائل ہمیشہ طبیعت کو خدایا کیا ہوا ہے پریشاں رہتے ہوں دن رات یاد خدا یہ ک سے کی زلف کا سودا ہوا ہے
Akbar Allahabadi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Akbar Allahabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Akbar Allahabadi's ghazal.







