ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے منزل ہستی نہیں ہے دل لگانے کے لیے کیا مجھے خوش آئی یہ حیرت سرا بے ثبات ہوش اڑنے کے لیے ہے جان جانے کے لیے دل نے دیکھا ہے بسات قوت ادراک کو کیا بڑھے اس کا بزم ہے وہ ہے وہ آنکھیں اٹھانے کے لیے خوب امیدیں بندھیں لیکن ہوئیں حرماں نصیب بدلیاں اٹھیں مگر بجلی گرانے کے لیے سانس کی ترکیب پر مٹی کو پیار آ ہی گیا تو خود ہوئی قید اس کا کو سینے سے لگانے کے لیے جب کہا ہے وہ ہے وہ نے بھلا دو غیر کو ہنس کر کہا یاد پھروں مجھ کو دلانا بھول جانے کے لیے دیدہ بازی حقیقت کہاں آنکھیں رہا کرتی ہیں بند جان ہی باقی نہیں اب دل لگانے کے لیے مجھ کو خوش آئی ہے مستی شیخ جی کو فربہی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں پینے کے لیے اور حقیقت ہیں خانے کے لیے اللہ اللہ کے سوا آخر رہا کچھ بھی نہ یاد جو کیا تھا یاد سب تھا بھول جانے کے لیے سر کہاں کے ساز کیسا کیسی بزم سامعین جوش دل کافی ہے یاد خدا تان اڑانے کے لیے
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے
Tehzeeb Hafi
262 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
بلاتی ہے م گر جانے کا نہیں یہ دنیا ہے ادھر جانے کا نہیں مری بیٹے کسی سے عشق کر م گر حد سے گزر جانے کا نہیں ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی سر پہ رکھنی ہوں تو رکھو چلے ہوں تو ٹھہر جانے کا نہیں ستارے تم تم نوچ کر لے ن غموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خالی ہاتھ گھر جانے کا نہیں وبا پھیلی ہوئی ہے ہر طرف ابھی ماحول مر جانے کا نہیں حقیقت گردن ناپتا ہے ناپ لے م گر ظالم سے ڈر جانے کا نہیں
Rahat Indori
59 likes
More from Akbar Allahabadi
تری زلفوں ہے وہ ہے وہ دل الجھا ہوا ہے بلا کے پیچ ہے وہ ہے وہ آیا ہوا ہے لگ کیونکر بو خوں نامے سے آئی اسی جلاد کا لکھا ہوا ہے چلے دنیا سے ج سے کی یاد ہے وہ ہے وہ ہم غضب ہے حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھولا ہوا ہے ک ہوں کیا حال اگلی عشرتوں کا حقیقت تھا اک خواب جو بھولا ہوا ہے کہوں ہوں یا وفا ہم سب ہے وہ ہے وہ خوش ہیں کریں کیا اب تو دل اٹکا ہوا ہے ہوئی ہے عشق ہی سے حسن کی دودمان ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے آپ کا اشہدو ان لا الہ ہوا ہے بتوں پر رہتی ہے مائل ہمیشہ طبیعت کو خدایا کیا ہوا ہے پریشاں رہتے ہوں دن رات یاد خدا یہ ک سے کی زلف کا سودا ہوا ہے
Akbar Allahabadi
0 likes
ہنگامہ ہے کیا برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے مباحثے تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے نا غضب کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں ا سے رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے ا سے مے سے نہیں زار دل ج سے سے ہے بیگا لگ مقصود ہے ا سے مے سے دل ہی ہے وہ ہے وہ جو کھینچتی ہے واں دل ہے وہ ہے وہ کہ صدمے دو یاں جی ہے وہ ہے وہ کہ سب سہ لو ان کا بھی غضب دل ہے میرا بھی غضب جی ہے ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الہی سے ہر سان سے یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے سورج ہے وہ ہے وہ لگے دھبہ فطرت کے کرشمے ہیں بت ہم کو کہی کافر اللہ کی مرضی ہے سچ کہتے ہیں شیخ یاد خدا ہے طاعت حق لازم ہاں ترک مے و شاہد یہ ان کی بزرگی ہے
Akbar Allahabadi
1 likes
ضد ہے ا نہیں پورا میرا ارمان لگ کریںگے منا سے جو نہیں نکلی ہے اب ہاں لگ کریںگے کیوں زلف کا بوسہ مجھے لینے نہیں دیتے کہتے ہیں کہ واللہ پریشاں لگ کریںگے ہے ذہن ہے وہ ہے وہ اک بات تمہارے متعلق خلوت ہے وہ ہے وہ جو پوچھوگے تو پن ہاں لگ کریںگے واعظ تو بناتے ہیں مسلمان کو کافر افسو سے یہ کافر کو مسلماناں لگ کریںگے کیوں شکر گزاری کا مجھے شوق ہے اتنا سنتا ہوں حقیقت مجھ پر کوئی احسان لگ کریںگے دیوا لگ لگ سمجھے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت سمجھے شرابی اب چاک کبھی جیب و گریباں لگ کریںگے حقیقت جانتے ہیں غیر مری گھر ہے وہ ہے وہ ہے مہمان آئیں گے تو مجھ پر کوئی احسان لگ کریںگے
Akbar Allahabadi
2 likes
ک ہاں لے جاؤں دل دونوں ج ہاں ہے وہ ہے وہ ا سے کی مشکل ہے ی ہاں پریوں کا حوروں ہے و ہاں کیسی کیسی کی محفل ہے الہی اندھیرا صورتیں تو نے بنائی ہیں ہر صورت کلیجے سے لگا لینے کے قابل ہے یہ دل لیتے ہی شیشے کی طرح پتھر پہ دے مارا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہتا رہ گیا تو ظالم میرا دل ہے میرا دل ہے جو دیکھا عک سے آئینے ہے وہ ہے وہ اپنا بولے جھنجھلاکر انتقامن تو کون ہے ہٹ سامنے سے کیوں مقابل ہے ہزاروں دل مثل کر پاؤں سے جھنجھلا کے فرمایا لو پہچانو تمہارا ان دلوں ہے وہ ہے وہ کون سا دل ہے
Akbar Allahabadi
2 likes
رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی واعظ کی بات رہ گئی ساقی کی چل گئی تیار تھے نماز پہ ہم سن کے ذکر حور جلوہ بتوں کا دیکھ کے نیت بدل گئی مچھلی نے ڈھیل پائی ہے لقمی پہ شاد ہے صیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی چمکا ترا جمال جو محفل ہے وہ ہے وہ سمے شام پروا لگ بے قرار ہوا شمع جل گئی عقبہ کی باز پر سے کا جاتا رہا خیال دنیا کی لذتوں ہے وہ ہے وہ طبیعت بہل گئی حسرت بے حد ترقی دختر کی تھی ا نہیں پردہ جو اٹھ گیا تو تو حقیقت آخر نکل گئی
Akbar Allahabadi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Akbar Allahabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Akbar Allahabadi's ghazal.







