ghazalKuch Alfaaz

ہر آن تمہارے چھپنے سے ایسا ہی ا گر دکھ پائیں گے ہم تو ہار کے اک دن ا سے کی بھی تلخی تقریر کوئی ٹھہرائیں گے ہم بیزار کریںگے خاطر کو پہلے تو تمہاری چاہت سے پھروں دل کو بھی کچھ منت سے کچھ ہیبت سے سمجھائیں گے ہم گر کہنا دل نے مان لیا اور رک بیٹھا تو بہتر ہے اور چین لگ لینے دےوے گا تو بھی سے بدل کر آئیں گے ہم اول تو نہیں پہچانو گے اور لوگے بھی پہچان تو پھروں ہر طور سے چھپ کر سر و ساماں اور دل کو خوش کر جائیں گے ہم گر چھپنا بھی کھل جاوے گا تو مل کر افسون سازوں سے کچھ اور ہی لٹکا سحر بھرا ا سے سمے بہم پہنچائیں گے ہم جب حقیقت بھی پیش لگ جاوے گا اور شہرت ہووے گی پھروں تو ج سے صورت سے بن آوے گا تصویر کھنچا منگوايںگے ہم موقوف کروگے چھپنے کو تو بہتر ور لگ نذیر آسا جو حرف زبان پر لائیں گے پھروں حقیقت ہی کر دکھ لائیں گے ہم

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

خیال ہے وہ ہے وہ بھی اسے بے ردا نہیں کیا ہے یہ ظلم مجھ سے نہیں ہوں سکا نہیں کیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک بے وجہ کو ایمان جانتا ہوں تو کیا خدا کے نام پر لوگوں نے کیا نہیں کیا ہے اسی لیے تو ہے وہ ہے وہ رویا نہیں بچھڑتے سمے تجھے روا لگ کیا ہے جدا نہیں کیا ہے یہ بدتمیز ا گر تجھ سے ڈر رہے ہیں تو پھروں تجھے بگاڑ کر ہے وہ ہے وہ نے برا نہیں کیا ہے

Ali Zaryoun

48 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Nazeer Akbarabadi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Nazeer Akbarabadi's ghazal.