ghazalKuch Alfaaz

خیال ہے وہ ہے وہ بھی اسے بے ردا نہیں کیا ہے یہ ظلم مجھ سے نہیں ہوں سکا نہیں کیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک بے وجہ کو ایمان جانتا ہوں تو کیا خدا کے نام پر لوگوں نے کیا نہیں کیا ہے اسی لیے تو ہے وہ ہے وہ رویا نہیں بچھڑتے سمے تجھے روا لگ کیا ہے جدا نہیں کیا ہے یہ بدتمیز ا گر تجھ سے ڈر رہے ہیں تو پھروں تجھے بگاڑ کر ہے وہ ہے وہ نے برا نہیں کیا ہے

Ali Zaryoun48 Likes

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

More from Ali Zaryoun

حالت اے ہجر ہے وہ ہے وہ ہوں یار مری سمت لگ دیکھ تو لگ ہوں جائے گرفتار مری سمت لگ دیکھ آستین ہے وہ ہے وہ جو چھو پہ سانپ ہیں ان کو تو نکال اپنے نقصان پر ہر بار مری سمت لگ دیکھ تجھ کو ج سے بات کا خدشہ ہے حقیقت ہوں سکتی ہے ایسے نہشے ہے وہ ہے وہ لگاتار مری سمت لگ دیکھ یا کوئی بات سنا یا مجھے سینے سے لگا ا سے طرح بیٹھ کر بیکار مری سمت لگ دیکھ تیرا یاروں سے نہیں جیب سے یارا لگ ہے اے محبت کے دکاندار مری سمت لگ دیکھ

Ali Zaryoun

7 likes

ادا عشق ہوں پوری انا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود اپنے ساتھ ہوں زبان خدا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجاوران ہوں سے تنگ ہیں کہ یوں کیسے بغیر شرم و حیا بھی حیا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سفر شروع تو ہونے دے اپنے ساتھ میرا تو خود کہےگا یہ کیسی بلا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھو گیا تو تو ترا رنگ کاٹ ڈالوں گا سو اپنے آپ سے تجھ کو بچا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ درود بر دل وحشی سلام بر تب عشق خود اپنی حمد خود اپنی ثنا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہی تو فرق ہے مری اور ان کے حل کے بیچ شکایتیں ہیں ا نہیں اور رضا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اولین کی عزت ہے وہ ہے وہ آخریں کا نور حقیقت انتہا ہوں کہ ہر ابتدا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دکھائی دوں بھی تو کیسے سنائی دوں بھی تو کیوں ورا نقش و نوا ہوں فنا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بحکم یار لویں قبض کرنے آتی ہے بجھا رہی ہے بجھائے ہوا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ صابریں محبت یہ کاشفین جنوں انہی کے سن

Ali Zaryoun

5 likes

ہوں جسے یار سے تصدیق نہیں کر سکتا حقیقت کسی شعر کی تضحیک نہیں کر سکتا پر کشش دوست مری ہجر کی مجبوری سمجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے دور سے نزدیک نہیں کر سکتا مجھ پہ تنقید سے رہتے ہیں اجالے جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان دکانوں کو ہے وہ ہے وہ تاریک نہیں کر سکتا کون سے غم سے نکلنا ہے کسے رکھنا ہے مسئلہ یہ ہے ہے وہ ہے وہ تفریق نہیں کر سکتا پیڑ کو گالیاں بکنے کے علاوہ ذریعون کیا کریں حقیقت کے جو تخلیق نہیں کر سکتا شعر تو خیر ہے وہ ہے وہ تنہائی ہے وہ ہے وہ کہ لوگا علی اپنی حالت تو ہے وہ ہے وہ خود ٹھیک نہیں کر سکتا ہجر سے گزرے بنا عشق بتانے والا بحث کر سکتا ہے تحقیق نہیں کر سکتا

Ali Zaryoun

5 likes

تور سینا ہے سر کروگے میاں اپنے اندر سفر کروگے میاں جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ روز یاد کرتے ہوں پھروں تو جاناں عمر بھر کروگے میاں حقیقت جو اک لفظ مر گیا تو ہے اس کا کا کو کس کی خبر کروگے میاں اور دل درویش ایک مدی لگ ہے جاناں مدینے ہے وہ ہے وہ سیر کروگے میاں

Ali Zaryoun

6 likes

چپ چاپ کیوں گلزار جناں ہوں کوئی بات تو کروں حل بھی نکالتے ہیں ملاقات تو کروں خالی ہوا ہے وہ ہے وہ اڑنا فقیری نہیں میاں دل جوڑ کے دکھاؤ کرامات تو کروں کھیتوں کو کھا گئی ہے یہ شہریلی بستیاں صاحب علاج رنج مضافات تو کروں

Ali Zaryoun

15 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ali Zaryoun.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ali Zaryoun's ghazal.