ghazalKuch Alfaaz

ہر بار ہوا ہے جو وہی تو نہیں ہوگا ڈر ج سے کا ستاتا ہے ابھی تو نہیں ہوگا دنیا کو چلو پرکھیں نئے دوست بنائیں ہر بے وجہ زمانے ہے وہ ہے وہ وہی تو نہیں ہوگا حقیقت بے وجہ بڑا ہے تو غلط ہوں نہیں سکتا دنیا کو بھروسا یہ ابھی تو نہیں ہوگا ہے ا سے کا اشارہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہوگا تو کبھی ہوگا ابھی تو نہیں ہوگا دو چار گڑے مردے اکھاڑیں گے سفلتہ کسی روز ہر بار نیا جھگڑا کبھی تو نہیں ہوگا کچھ اور بھی ہوں سکتا ہے تقریر کا زار جو آپ نے سمجھا ہے وہی تو نہیں ہوگا ہر بار زمانے کا ستم ہوگا مجھہی پر ہاں ہے وہ ہے وہ ہی بدل جاؤں کبھی تو نہیں ہوگا

Related Ghazal

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

More from Aalok Shrivastav

وہی آنگن وہی کھڑکی وہی در یاد آتا ہے اکیلا جب بھی ہوتا ہوں مجھے گھر یاد آتا ہے مری بے ساختہ ہچکی مجھے کھل کر بتاتی ہے تری اپنوں کو گاؤں ہے وہ ہے وہ تو 9 یاد آتا ہے جو اپنے پا سے ہوں ان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ہمارے بھائی کو ہی لو بچھڑ کر یاد آتا ہے مئی کے سفر ہے وہ ہے وہ تو کہاں فرصت کہ کچھ سوچیں مگر جب چوٹ لگتی ہے مقدر یاد آتا ہے جون اور نومبر کی گرمی بدن سے جب ٹپکتی ہے تیرتی یاد آتا ہے دسمبر یاد آتا ہے

Aalok Shrivastav

8 likes

हमेशा ज़िंदगी की हर कमी को जीते रहते हैं जिसे हम जी नहीं पाए उसी को जीते रहते हैं हमारे दुख की बारिश को कोई दामन नहीं मिलता हमारी आँख के बादल नमी को जीते रहते हैं किसी के साथ हैं रस्में किसी के साथ हैं क़स में किसी के साथ जीना है किसी को जीते रहते हैं हमें मालूम है इक दिन भरोसा टूट जाएगा मगर फिर भी सराबों में नदी को जीते रहते हैं हमारे साथ चलती है तुम्हारे प्यार की ख़ुशबू लगाई थी जो तुम ने उस लगी को जीते रहते हैं चहकते घर महकते खेत और वो गाँव की गलियाँ जिन्हें हम छोड़ आए उन सभी को जीते रहते है ख़ुदा के नाम-लेवा हम भी हैं तुम भी हो और वो भी मगर अफ़सोस सब अपनी ख़ुदी को जीते रहते हैं

Aalok Shrivastav

0 likes

ا گر سفر ہے وہ ہے وہ مری ساتھ میرا یار چلے بے پیرہن کرتا ہوا موسم بہار چلے لگا کے سمے کو ٹھوکر جو خاکسار چلے یقین کے بندھو ہمراہ بے شمار چلے نوازنا ہے تو پھروں ا سے طرح نواز مجھے کہ مری بعد میرا ذکر بار بار چلے یہ جسم کیا ہے کوئی پیرہن ادھار کا ہے یہیں سنبھال کے پہنا یہیں اتار چلے یہ نڈھال سے بھرا آ سماں ج ہاں تک ہے و ہاں تلک تری دی کا اقتدار چلے یہی تو ایک تمنا ہے ا سے مسافر کی جو جاناں نہیں تو سفر ہے وہ ہے وہ تمہارا پیار چلے

Aalok Shrivastav

8 likes

تو وفا کر کے بھول جا مجھ کو اب ذرا یوں بھی آزما مجھ کو یہ زما لگ برا نہیں ہے م گر اپنی دی سے دیکھنا مجھ کو بے صدا کاغذوں ہے وہ ہے وہ آگ لگا آج کی رات گنگنا مجھ کو تجھ کو ک سے ک سے ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا آخر تو بھی ک سے ک سے سے مانگتا مجھ کو اب کسی اور کا پجاری ہے ج سے نے مانا تھا دیوتا مجھ کو

Aalok Shrivastav

3 likes

ठीक हुआ जो बिक गए सैनिक मुट्ठी भर दीनारों में वैसे भी तो ज़ंग लगा था पुश्तैनी हथियारों में सर्द नसों में चलते चलते गर्म लहू जब बर्फ़ हुआ चार पड़ोसी जिस्म उठा कर झोंक आए अंगारों में खेतों को मुट्ठी में भरना अब तक सीख नहीं पाया यूँँ तो मेरा जीवन बीता सामंती अय्यारों में कैसे उस के चाल-चलन में अंग्रेज़ी अंदाज़ न हो आख़िर उस ने साँसें लीं हैं पच्छिम के दरबारों में नज़दीकी अक्सर दूरी का कारन भी बन जाती है सोच-समझ कर घुलना-मिलना अपने रिश्ते-दारों में चाँद अगर पूरा चमके तो उस के दाग़ खटकते हैं एक न एक बुराई तय है सारे इज़्ज़त-दारों में

Aalok Shrivastav

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Aalok Shrivastav.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Aalok Shrivastav's ghazal.