ہر ایک روح ہے وہ ہے وہ اک غم چھپا لگے ہے مجھے یہ زندگی تو کوئی بد دعا لگے ہے مجھے پسند خاطر اہل وفا ہے مدت سے یہ دل کا داغ جو خود بھی بھلا لگے ہے مجھے جو آنسوؤں ہے وہ ہے وہ کبھی رات بھیگ جاتی ہے بے حد قریب حقیقت آواز پا لگے ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سو بھی جاؤں تو کیا مری بند آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمام رات کوئی جھانکتا لگے ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب بھی ا سے کے خیالوں ہے وہ ہے وہ کھو سا جاتا ہوں حقیقت خود بھی بات کرے تو برا لگے ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوچتا تھا کہ لوٹوں گا اجنبی کی طرح یہ میرا گاؤں تو پہچانتا لگے ہے مجھے لگ جانے سمے کی رفتار کیا مہ لقا ہے کبھی کبھی تو بڑا خوف سا لگے ہے مجھے بکھر گیا تو ہے کچھ ا سے طرح آدمی کا وجود ہر ایک فرد کوئی سانحہ لگے ہے مجھے اب ایک آدھ قدم کا حساب کیا رکھیے ابھی تلک تو وہی فاصلہ لگے ہے مجھے حکایت غم دل کچھ کشش تو رکھتی ہے زما لگ غور سے سنتا ہوا لگے ہے مجھے
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
More from Jaan Nisar Akhtar
ہر ایک بے وجہ پریشان و در بدر سا لگے یہ شہر مجھ کو تو یاروں کوئی بھنور سا لگے اب ا سے کے طرز تجاہل کو کیا کہے کوئی حقیقت بے خبر تو نہیں پھروں بھی بے خبر سا لگے ہر ایک غم کو خوشی کی طرح برتنا ہے یہ دور حقیقت ہے کہ جینا بھی اک ہنر سا لگے نشاط صحبت رنداں بے حد غنیمت ہے کہ لمحہ لمحہ پرآشوب و پرخطر سا لگے کسے خبر ہے کہ دنیا کا حشر کیا ہوگا کبھی کبھی تو مجھے آدمی سے ڈر سا لگے حقیقت تند سمے کی رو ہے کہ پاؤں ٹک لگ سکیں ہر آدمی کوئی اکھڑا ہوا شجر سا لگے جہان نو کے مکمل سنگار کی خاطر ص گرا ص گرا کا زما لگ بھی بڑھوا سا لگے
Jaan Nisar Akhtar
0 likes
تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہا یہ کم نہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جینے کا حوصلہ تو رہا گزر ہی آئی کسی طرح تری دیوانے قدم قدم پہ کوئی سخت مرحلہ تو رہا چلو لگ عشق ہی جیتا لگ عقل ہار سکی تمام سمے مزے کا مقابلہ تو رہا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری ذات ہے وہ ہے وہ گم ہوں سکا لگ تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد قریب تھے ہم پھروں بھی فاصلہ تو رہا یہ اور بات کہ ہر چھیڑ لا ابالی تھی تری نظر کا دلوں سے معاملہ تو رہا
Jaan Nisar Akhtar
1 likes
زندگی تجھ کو بھلایا ہے بے حد دن ہم نے سمے خوابوں ہے وہ ہے وہ گنوایا ہے بے حد دن ہم نے اب یہ نیکی بھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرم نظر آتی ہے سب کے ایبوں کو چھپایا ہے بے حد دن ہم نے جاناں بھی ا سے دل کو دکھا لو تو کوئی بات نہیں اپنا دل آپ دکھایا ہے بے حد دن ہم نے مدتوں ترک تمنا پہ لہو رویا ہے عشق کا قرض چکایا ہے بے حد دن ہم نے کیا پتا ہوں بھی سکے ا سے کی تلافی کہ نہیں شاعری تجھ کو گنوایا ہے بے حد دن ہم نے
Jaan Nisar Akhtar
1 likes
हौसला खो न दिया तेरी नहीं से हम ने कितनी शिकनों को चुना तेरी जबीं से हम ने वो भी क्या दिन थे कि दीवाना बने फिरते थे सुन लिया था तिरे बारे में कहीं से हम ने जिस जगह पहले-पहल नाम तिरा आता है दास्ताँ अपनी सुनाई है वहीं से हम ने यूँँ तो एहसान हसीनों के उठाए हैं बहुत प्यार लेकिन जो किया है तो तुम्हीं से हम ने कुछ समझ कर ही ख़ुदा तुझ को कहा है वर्ना कौन सी बात कही इतने यक़ीं से हम ने
Jaan Nisar Akhtar
1 likes
مے کشی اب مری عادت کے سوا کچھ بھی نہیں یہ بھی اک تلخ حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں فت لگ عقل کے جویا مری دنیا سے گزر مری دنیا ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا کچھ بھی نہیں دل ہے وہ ہے وہ حقیقت شورش جذبات ک ہاں تری بغیر ایک خاموش خوشگوار کے سوا کچھ بھی نہیں مجھ کو خود اپنی جوانی کی قسم ہے کہ یہ عشقاک جوانی کی شرارت کے سوا کچھ بھی نہیں
Jaan Nisar Akhtar
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Jaan Nisar Akhtar.
Similar Moods
More moods that pair well with Jaan Nisar Akhtar's ghazal.







