ghazalKuch Alfaaz

ہر ایک بے وجہ پریشان و در بدر سا لگے یہ شہر مجھ کو تو یاروں کوئی بھنور سا لگے اب ا سے کے طرز تجاہل کو کیا کہے کوئی حقیقت بے خبر تو نہیں پھروں بھی بے خبر سا لگے ہر ایک غم کو خوشی کی طرح برتنا ہے یہ دور حقیقت ہے کہ جینا بھی اک ہنر سا لگے نشاط صحبت رنداں بے حد غنیمت ہے کہ لمحہ لمحہ پرآشوب و پرخطر سا لگے کسے خبر ہے کہ دنیا کا حشر کیا ہوگا کبھی کبھی تو مجھے آدمی سے ڈر سا لگے حقیقت تند سمے کی رو ہے کہ پاؤں ٹک لگ سکیں ہر آدمی کوئی اکھڑا ہوا شجر سا لگے جہان نو کے مکمل سنگار کی خاطر ص گرا ص گرا کا زما لگ بھی بڑھوا سا لگے

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

More from Jaan Nisar Akhtar

تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہا یہ کم نہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جینے کا حوصلہ تو رہا گزر ہی آئی کسی طرح تری دیوانے قدم قدم پہ کوئی سخت مرحلہ تو رہا چلو لگ عشق ہی جیتا لگ عقل ہار سکی تمام سمے مزے کا مقابلہ تو رہا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری ذات ہے وہ ہے وہ گم ہوں سکا لگ تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد قریب تھے ہم پھروں بھی فاصلہ تو رہا یہ اور بات کہ ہر چھیڑ لا ابالی تھی تری نظر کا دلوں سے معاملہ تو رہا

Jaan Nisar Akhtar

1 likes

ذرا سی بات پہ ہر رسم توڑ آیا تھا دل تباہ نے بھی کیا مزاج پایا تھا گزر گیا تو ہے کوئی لمحہ شرر کی طرح ابھی تو ہے وہ ہے وہ اسے پہچان بھی نہ پایا تھا معاف کر نہ سکی میری زندگی مجھ کو حقیقت ایک لمحہ کہ ہے وہ ہے وہ تجھ سے تنگ آیا تھا شگفتہ پھول سمٹ کر کلی بنے چنو کچھ ای سے کمال سے تو نے بدن چرایا تھا پتا نہیں کہ مری بعد ان پہ کیا گزری ہے وہ ہے وہ ہے وہ چند خواب زمانے ہے وہ ہے وہ چھوڑ آیا تھا

Jaan Nisar Akhtar

2 likes

زندگی تجھ کو بھلایا ہے بے حد دن ہم نے سمے خوابوں ہے وہ ہے وہ گنوایا ہے بے حد دن ہم نے اب یہ نیکی بھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرم نظر آتی ہے سب کے ایبوں کو چھپایا ہے بے حد دن ہم نے جاناں بھی ا سے دل کو دکھا لو تو کوئی بات نہیں اپنا دل آپ دکھایا ہے بے حد دن ہم نے مدتوں ترک تمنا پہ لہو رویا ہے عشق کا قرض چکایا ہے بے حد دن ہم نے کیا پتا ہوں بھی سکے ا سے کی تلافی کہ نہیں شاعری تجھ کو گنوایا ہے بے حد دن ہم نے

Jaan Nisar Akhtar

1 likes

ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں گی کسی قاتل کا داماں ہم لگ کہتے تھے اکارت جائےگا خون شہیداں ہم لگ کہتے تھے علاج چاک پیرہن ہوا تو ا سے طرح ہوگا سیا جائےگا کانٹوں سے گریباں ہم لگ کہتے تھے ترانے کچھ دیے لفظوں ہے وہ ہے وہ خود کو قید کر لیںگے غضب انداز سے پھیلےگا زندان ہم لگ کہتے تھے کوئی اتنا لگ ہوگا لاش بھی لے جا کے دفنا دے انہی سڑکوں پہ مر جائےگا انساں ہم لگ کہتے تھے نظر لپٹی ہے شعلوں ہے وہ ہے وہ لہو تپتا ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اٹھا ہی چاہتا ہے کوئی طوفاں ہم لگ کہتے تھے چھلکتے جام ہے وہ ہے وہ بھیگی ہوئی آنکھیں اتر آئیں ستائےگی کسی دن یاد یاراں ہم لگ کہتے تھے نئی برزخ کیسے چھوڑنا کو را سے آوےگی عشق دل اجڑ جائےگا یہ شہر غزالاں ہم لگ کہتے تھے

Jaan Nisar Akhtar

0 likes

वो लोग ही हर दौर में महबूब रहे हैं जो इश्क़ में तालिब नहीं मतलूब रहे हैं तूफ़ान की आवाज़ तो आती नहीं लेकिन लगता है सफ़ीने से कहीं डूब रहे हैं उन को न पुकारो ग़म-ए-दौराँ के लक़ब से जो दर्द किसी नाम से मंसूब रहे हैं हम भी तिरी सूरत के परस्तार हैं लेकिन कुछ और भी चेहरे हमें मर्ग़ूब रहे हैं अल्फ़ाज़ में इज़हार-ए-मोहब्बत के तरीक़े ख़ुद इश्क़ की नज़रों में भी मायूब रहे हैं इस अहद-ए-बसीरत में भी नक़्क़ाद हमारे हर एक बड़े नाम से मरऊब रहे हैं इतना भी न घबराओ नई तर्ज़-ए-अदास हर दौर में बदले हुए उस्लूब रहे हैं

Jaan Nisar Akhtar

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jaan Nisar Akhtar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jaan Nisar Akhtar's ghazal.