ghazalKuch Alfaaz

ذرا سی بات پہ ہر رسم توڑ آیا تھا دل تباہ نے بھی کیا مزاج پایا تھا گزر گیا تو ہے کوئی لمحہ شرر کی طرح ابھی تو ہے وہ ہے وہ اسے پہچان بھی نہ پایا تھا معاف کر نہ سکی میری زندگی مجھ کو حقیقت ایک لمحہ کہ ہے وہ ہے وہ تجھ سے تنگ آیا تھا شگفتہ پھول سمٹ کر کلی بنے چنو کچھ ای سے کمال سے تو نے بدن چرایا تھا پتا نہیں کہ مری بعد ان پہ کیا گزری ہے وہ ہے وہ ہے وہ چند خواب زمانے ہے وہ ہے وہ چھوڑ آیا تھا

Related Ghazal

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

ج سے طرح سمے گزرنے کے لیے ہوتا ہے آدمی شکل پہ مرنے کے لیے ہوتا ہے تیری آنکھوں سے ملاقات ہوئی تب یہ کھلا ڈوبنے والا ابھرنے کے لیے ہوتا ہے عشق کیوں پیچھے ہٹا بات نبھانے سے میاں حسن تو خیر مکرنے کے لیے ہوتا ہے آنکھ ہوتی ہے کسی راہ کو تکنے کے لیے دل کسی پاؤں پہ دھرنے کے لیے ہوتا ہے دل کی دہلی کا چناؤ ہی ا پیش ہے صاحب جب بھی ہوتا ہے یہ ہَرنے کے لیے ہوتا ہے کوئی بستی ہوں اجڑنے کے لیے بستی ہے کوئی مجمع ہوں گزرا کے لیے ہوتا ہے

Ali Zaryoun

61 likes

تیرا چپ رہنا مری ذہن ہے وہ ہے وہ کیا بیٹھ گیا تو اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلہ بیٹھ گیا تو یوں نہیں ہے کہ فقط ہے وہ ہے وہ ہی اسے چاہتا ہوں جو بھی ا سے پیڑ کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ گیا تو بیٹھ گیا تو اتنا میٹھا تھا حقیقت نبھائیے بھرا لہجہ مت پوچھ ا سے نے ج سے کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا تو اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیں چیختی جاناں رہی اور میرا گلہ بیٹھ گیا تو ا سے کی مرضی حقیقت جسے پا سے بٹھا لے اپنے ا سے پہ کیا لڑنا شہر خاموشاں مری جگہ بیٹھ گیا تو بات دریاؤں کی سورج کی لگ تیری ہے ی ہاں دو قدم جو بھی مری ساتھ چلا بیٹھ گیا تو بزم جاناں ہے وہ ہے وہ نشستیں نہیں ہوتیں مخصوص جو بھی اک بار ج ہاں بیٹھ گیا تو بیٹھ گیا تو

Tehzeeb Hafi

203 likes

More from Jaan Nisar Akhtar

تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہا یہ کم نہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جینے کا حوصلہ تو رہا گزر ہی آئی کسی طرح تری دیوانے قدم قدم پہ کوئی سخت مرحلہ تو رہا چلو لگ عشق ہی جیتا لگ عقل ہار سکی تمام سمے مزے کا مقابلہ تو رہا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری ذات ہے وہ ہے وہ گم ہوں سکا لگ تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد قریب تھے ہم پھروں بھی فاصلہ تو رہا یہ اور بات کہ ہر چھیڑ لا ابالی تھی تری نظر کا دلوں سے معاملہ تو رہا

Jaan Nisar Akhtar

1 likes

ہر ایک بے وجہ پریشان و در بدر سا لگے یہ شہر مجھ کو تو یاروں کوئی بھنور سا لگے اب ا سے کے طرز تجاہل کو کیا کہے کوئی حقیقت بے خبر تو نہیں پھروں بھی بے خبر سا لگے ہر ایک غم کو خوشی کی طرح برتنا ہے یہ دور حقیقت ہے کہ جینا بھی اک ہنر سا لگے نشاط صحبت رنداں بے حد غنیمت ہے کہ لمحہ لمحہ پرآشوب و پرخطر سا لگے کسے خبر ہے کہ دنیا کا حشر کیا ہوگا کبھی کبھی تو مجھے آدمی سے ڈر سا لگے حقیقت تند سمے کی رو ہے کہ پاؤں ٹک لگ سکیں ہر آدمی کوئی اکھڑا ہوا شجر سا لگے جہان نو کے مکمل سنگار کی خاطر ص گرا ص گرا کا زما لگ بھی بڑھوا سا لگے

Jaan Nisar Akhtar

0 likes

جاناں پہ کیا بیت گئی کچھ تو بتاؤ یاروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی غیر نہیں ہوں کہ گلشن زیبا یاروں ان اندھیروں سے نکلنے کی کوئی راہ کروں خون دل سے کوئی مشعل ہی جلاؤ یاروں ایک بھی خواب لگ ہوں جن ہے وہ ہے وہ حقیقت آنکھیں کیا ہیں اک لگ اک خواب تو آنکھوں ہے وہ ہے وہ بساؤ یاروں بوجھ دنیا کا اٹھاوں گا اکیلا کب تک ہوں سکے جاناں سے تو کچھ ہاتھ بٹاؤ یاروں زندگی یوں تو لگ بان ہوں ہے وہ ہے وہ چلی آوےگی عشق دل غم دوراں کے ذرا ناز اٹھاؤ یاروں عمر بھر قتل ہوا ہوں ہے وہ ہے وہ تمہاری خاطر آخری سمے تو سولی لگ چڑھاؤ یاروں اور کچھ دیر تمہیں دیکھ کے جی لوں ٹھہرو مری بالیں سے ابھی اٹھ کے لگ جاؤ یاروں

Jaan Nisar Akhtar

3 likes

اے درد عشق تجھ سے مکرنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ کو سنبھال حد سے گزرنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلے اوی سے ہی سے زار تھا اور اب ایک آدھ بات فرض بھی کرنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر آن ٹوٹتے یہ عقیدوں کے سلسلے لگتا ہے چنو آج گزرا لگا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اے چشم یار میرا سدھرنا محال تھا تیرا غصہ ہے کہ سُدھرنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ مہر و ماہ عرض و سما مجھ ہے وہ ہے وہ کھو گئے اک کائنات بن کے ابھرنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اتنوں کا پیار مجھ سے سنبھالا لگ جائےگا لوگوں تمہارے پیار سے ڈر لگ لگا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دہلی ک ہاں گئیں تری کوچوں کی رونقیں گلیوں سے سر جھکا کے گزرنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ

Jaan Nisar Akhtar

0 likes

زلفیں سینا نافر کمر تراش ایک ندی ہے وہ ہے وہ کتنے بھنور صدیوں صدیوں میرا سفر منزل منزل گھبرائیے کتنا مشکل کتنا کٹھن جینے سے جینے کا ہنر گاؤں ہے وہ ہے وہ آ کر شہر بسے گاؤں بیچارے جائیں کدھر پھونکنے والے سوچا بھی پھیلےگی یہ آگ کدھر لاکھ طرح سے نام ترا بیٹھا لکھوں کاغذ پر چھوٹے چھوٹے ذہن کے لوگ ہم سے ان کی بات نہ کر پیٹ پہ پتھر باندھ نہ لے ہاتھ ہے وہ ہے وہ سجتے ہیں پتھر رات کے پیچھے رات چلے خواب ہوا ہر خواب سحر شب بھر تو آوارہ پھیرے لوٹ چلیں اب اپنے گھر

Jaan Nisar Akhtar

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jaan Nisar Akhtar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jaan Nisar Akhtar's ghazal.