ghazalKuch Alfaaz

جاناں پہ کیا بیت گئی کچھ تو بتاؤ یاروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی غیر نہیں ہوں کہ گلشن زیبا یاروں ان اندھیروں سے نکلنے کی کوئی راہ کروں خون دل سے کوئی مشعل ہی جلاؤ یاروں ایک بھی خواب لگ ہوں جن ہے وہ ہے وہ حقیقت آنکھیں کیا ہیں اک لگ اک خواب تو آنکھوں ہے وہ ہے وہ بساؤ یاروں بوجھ دنیا کا اٹھاوں گا اکیلا کب تک ہوں سکے جاناں سے تو کچھ ہاتھ بٹاؤ یاروں زندگی یوں تو لگ بان ہوں ہے وہ ہے وہ چلی آوےگی عشق دل غم دوراں کے ذرا ناز اٹھاؤ یاروں عمر بھر قتل ہوا ہوں ہے وہ ہے وہ تمہاری خاطر آخری سمے تو سولی لگ چڑھاؤ یاروں اور کچھ دیر تمہیں دیکھ کے جی لوں ٹھہرو مری بالیں سے ابھی اٹھ کے لگ جاؤ یاروں

Related Ghazal

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن

Varun Anand

81 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

More from Jaan Nisar Akhtar

ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں گی کسی قاتل کا داماں ہم لگ کہتے تھے اکارت جائےگا خون شہیداں ہم لگ کہتے تھے علاج چاک پیرہن ہوا تو ا سے طرح ہوگا سیا جائےگا کانٹوں سے گریباں ہم لگ کہتے تھے ترانے کچھ دیے لفظوں ہے وہ ہے وہ خود کو قید کر لیںگے غضب انداز سے پھیلےگا زندان ہم لگ کہتے تھے کوئی اتنا لگ ہوگا لاش بھی لے جا کے دفنا دے انہی سڑکوں پہ مر جائےگا انساں ہم لگ کہتے تھے نظر لپٹی ہے شعلوں ہے وہ ہے وہ لہو تپتا ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اٹھا ہی چاہتا ہے کوئی طوفاں ہم لگ کہتے تھے چھلکتے جام ہے وہ ہے وہ بھیگی ہوئی آنکھیں اتر آئیں ستائےگی کسی دن یاد یاراں ہم لگ کہتے تھے نئی برزخ کیسے چھوڑنا کو را سے آوےگی عشق دل اجڑ جائےگا یہ شہر غزالاں ہم لگ کہتے تھے

Jaan Nisar Akhtar

0 likes

زندگی تجھ کو بھلایا ہے بے حد دن ہم نے سمے خوابوں ہے وہ ہے وہ گنوایا ہے بے حد دن ہم نے اب یہ نیکی بھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرم نظر آتی ہے سب کے ایبوں کو چھپایا ہے بے حد دن ہم نے جاناں بھی ا سے دل کو دکھا لو تو کوئی بات نہیں اپنا دل آپ دکھایا ہے بے حد دن ہم نے مدتوں ترک تمنا پہ لہو رویا ہے عشق کا قرض چکایا ہے بے حد دن ہم نے کیا پتا ہوں بھی سکے ا سے کی تلافی کہ نہیں شاعری تجھ کو گنوایا ہے بے حد دن ہم نے

Jaan Nisar Akhtar

1 likes

ہر ایک بے وجہ پریشان و در بدر سا لگے یہ شہر مجھ کو تو یاروں کوئی بھنور سا لگے اب ا سے کے طرز تجاہل کو کیا کہے کوئی حقیقت بے خبر تو نہیں پھروں بھی بے خبر سا لگے ہر ایک غم کو خوشی کی طرح برتنا ہے یہ دور حقیقت ہے کہ جینا بھی اک ہنر سا لگے نشاط صحبت رنداں بے حد غنیمت ہے کہ لمحہ لمحہ پرآشوب و پرخطر سا لگے کسے خبر ہے کہ دنیا کا حشر کیا ہوگا کبھی کبھی تو مجھے آدمی سے ڈر سا لگے حقیقت تند سمے کی رو ہے کہ پاؤں ٹک لگ سکیں ہر آدمی کوئی اکھڑا ہوا شجر سا لگے جہان نو کے مکمل سنگار کی خاطر ص گرا ص گرا کا زما لگ بھی بڑھوا سا لگے

Jaan Nisar Akhtar

0 likes

ہر ایک روح ہے وہ ہے وہ اک غم چھپا لگے ہے مجھے یہ زندگی تو کوئی بد دعا لگے ہے مجھے پسند خاطر اہل وفا ہے مدت سے یہ دل کا داغ جو خود بھی بھلا لگے ہے مجھے جو آنسوؤں ہے وہ ہے وہ کبھی رات بھیگ جاتی ہے بے حد قریب حقیقت آواز پا لگے ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سو بھی جاؤں تو کیا مری بند آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمام رات کوئی جھانکتا لگے ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب بھی ا سے کے خیالوں ہے وہ ہے وہ کھو سا جاتا ہوں حقیقت خود بھی بات کرے تو برا لگے ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوچتا تھا کہ لوٹوں گا اجنبی کی طرح یہ میرا گاؤں تو پہچانتا لگے ہے مجھے لگ جانے سمے کی رفتار کیا مہ لقا ہے کبھی کبھی تو بڑا خوف سا لگے ہے مجھے بکھر گیا تو ہے کچھ ا سے طرح آدمی کا وجود ہر ایک فرد کوئی سانحہ لگے ہے مجھے اب ایک آدھ قدم کا حساب کیا رکھیے ابھی تلک تو وہی فاصلہ لگے ہے مجھے حکایت غم دل کچھ کشش تو رکھتی ہے زما لگ غور سے سنتا ہوا لگے ہے مجھے

Jaan Nisar Akhtar

0 likes

تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہا یہ کم نہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جینے کا حوصلہ تو رہا گزر ہی آئی کسی طرح تری دیوانے قدم قدم پہ کوئی سخت مرحلہ تو رہا چلو لگ عشق ہی جیتا لگ عقل ہار سکی تمام سمے مزے کا مقابلہ تو رہا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری ذات ہے وہ ہے وہ گم ہوں سکا لگ تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد قریب تھے ہم پھروں بھی فاصلہ تو رہا یہ اور بات کہ ہر چھیڑ لا ابالی تھی تری نظر کا دلوں سے معاملہ تو رہا

Jaan Nisar Akhtar

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jaan Nisar Akhtar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jaan Nisar Akhtar's ghazal.