ghazalKuch Alfaaz

ho jaegi jab tum se shanasai zara aur badh jaegi shayad miri tanhai zara aur kyuun khul gae logon pe miri zaat ke asrar ai kaash ki hoti miri gahrai zara aur phir haath pe zakhmon ke nishan gin na sakoge ye uljhi hui dor jo suljhai zara aur tardid to kar sakta tha phailegi magar baat is taur bhi hogi tiri rusvai zara aur kyuun tark-e-taalluq bhi kiya laut bhi aya? achchha tha ki hota jo vo harjai zara aur hai diip tiri yaad ka raushan abhi dil men ye khauf hai lekin jo hava aai zara aur ladna vahin dushman se jahan gher sako tum jitoge tabhi hogi jo paspai zara aur badh jaenge kuchh aur lahu bechne vaale ho jaae agar shahr men mahngai zara aur ik dubti dhadkan ki sada log na sun len kuchh der ko bajne do ye shahnai zara aur ho jaegi jab tum se shanasai zara aur badh jaegi shayad meri tanhai zara aur kyun khul gae logon pe meri zat ke asrar ai kash ki hoti meri gahrai zara aur phir hath pe zakhmon ke nishan gin na sakoge ye uljhi hui dor jo suljhai zara aur tardid to kar sakta tha phailegi magar baat is taur bhi hogi teri ruswai zara aur kyun tark-e-talluq bhi kiya laut bhi aaya? achchha tha ki hota jo wo harjai zara aur hai dip teri yaad ka raushan abhi dil mein ye khauf hai lekin jo hawa aai zara aur ladna wahin dushman se jahan gher sako tum jitoge tabhi hogi jo paspai zara aur badh jaenge kuchh aur lahu bechne wale ho jae agar shahr mein mahngai zara aur ek dubti dhadkan ki sada log na sun len kuchh der ko bajne do ye shahnai zara aur

Related Ghazal

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

More from Aanis Moin

وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرایا بھی عجیب شخص ہے اپنا بھی ہے پرایا بھی یہ انتظار سحر کا تھا یا تمہارا تھا دیا جلایا بھی میں نے دیا بجھایا بھی میں چاہتا ہوں ٹھہر جائے چشم دریا میں لرزتا عکس تمہارا بھی میرا سایہ بھی بہت مہین تھا پردہ لرزتی آنکھوں کا مجھے دکھایا بھی تو نے مجھے چھپایا بھی بیاض بھر بھی گئی اور پھروں بھی سادہ ہے تمہارے نام کو لکھا بھی اور مٹایا بھی

Aanis Moin

5 likes

حقیقت کچھ گہری سوچ ہے وہ ہے وہ ایسے ڈوب گیا تو ہے بیٹھے بیٹھے ن گرا کنارے ڈوب گیا تو ہے آج کی رات لگ جانے کتنی لمبی ہوں گی آج کا سورج شام سے پہلے ڈوب گیا تو ہے حقیقت جو پیاسا لگتا تھا سیلاب زدہ تھا پانی پانی کہتے کہتے ڈوب گیا تو ہے مری اپنے اندر ایک بھنور تھا ج سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا سب کچھ ساتھ ہی مری ڈوب گیا تو ہے شور تو یوں دل گیر تھا چنو اک طوفاں ہوں سناٹے ہے وہ ہے وہ جانے کیسے ڈوب گیا تو ہے آخری خواہش پوری کر کے جینا کیسا آن سے بھی ساحل تک آ کے ڈوب گیا تو ہے

Aanis Moin

0 likes

باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے دریا کے ا سے پار بھی گہرا سناٹا ہے شور تھمے تو شاید صدیاں بیت چکی ہیں اب تک لیکن سہما سہما سناٹا ہے ک سے سے بولوں یہ تو اک صحرا ہے ج ہاں پر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں یا پھروں گونگا بہرا سناٹا ہے چنو اک طوفان سے پہلے کی خموشی آج مری بستی ہے وہ ہے وہ ایسا سناٹا ہے نئی سحر کی چاپ لگ جانے کب ابھرے گی چاروں جانب رات کا گہرا سناٹا ہے سوچ رہے ہوں سوچو لیکن بول لگ کھائےگی دیکھ رہے ہوں شہر ہے وہ ہے وہ کتنا سناٹا ہے محو خواب ہیں ساری دیکھنے والی آنکھیں جاگنے والا ب سے اک اندھا سناٹا ہے ڈرنا ہے تو ان جانی آواز سے ڈرنا یہ تو آن سے دیکھا بھالا سناٹا ہے

Aanis Moin

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Aanis Moin.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Aanis Moin's ghazal.