hua jo khatm mira sim-o-zar gae ahbab isi sabab mire dil se utar gae ahbab yuun kaat di miri shah-rag mujhe khabar na hui bade hunar se mira qatl kar gae ahbab kabhi tha vaqt ki thi dosti 'aziz az-jan guzar gai vo sadi vo guzar gae ahbab unhen nikal do dil se rakho na soch men bhi 'mudassir' aise hi samjho ki mar gae ahbab hua jo khatm mera sim-o-zar gae ahbab isi sabab mere dil se utar gae ahbab yun kat di meri shah-rag mujhe khabar na hui bade hunar se mera qatl kar gae ahbab kabhi tha waqt ki thi dosti 'aziz az-jaan guzar gai wo sadi wo guzar gae ahbab unhen nikal do dil se rakho na soch mein bhi 'mudassir' aise hi samjho ki mar gae ahbab
Related Ghazal
جام سگریٹ کش اور ب سے کچھ دھواں آخرش اور ب سے موت تک زندگی کا سفر رات دن کش مکش اور ب سے پی گیا تو پیڑ آندھی م گر گر پڑا کھا کے نور صفا اور ب سے زندگی جلتی سگریٹ ہے صرف دو چار کش اور ب سے سوختے پیڑ کی لکڑیاں آخری پیشکش اور ب سے
Sandeep Thakur
50 likes
مجھ ایسے بے وجہ سے رشتہ نہیں نکال سکا حقیقت اپنے حسن کا صدقہ نہیں نکال سکا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مل رہا تھا اسے بعد ایک مدت کے سو ا سے سے کوئی بھی رشتہ نہیں نکال سکا تری لیے تو مجھے زندگی بھی کم تھی م گر مری لیے تو تو لمحہ نہیں نکال سکا تو دیکھ پائی نہیں مجھ کو ختم ہوتے ہوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری آنکھ کا کچرا نہیں نکال سکا اک ایسی بات کا غصہ ہے مری لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت بات جس کا ہے وہ ہے وہ غصہ نہیں نکال سکا
Vikram Gaur Vairagi
33 likes
سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی
Jaun Elia
77 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
سچ بتائیں تو شرم آتی ہے اور مطابق تو شرم آتی ہے ہم پہ احسان ہیں اداسی کے مسکرائیں تو شرم آتی ہے ہار کی ایسی عادتیں ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جیت جائیں تو شرم آتی ہے ا سے کے آگے ہی ا سے کا بخشش ہوا سر اٹھائیں تو شرم آتی ہے عیش اوقات سے زیادہ کی اب مہلکہ تو شرم آتی ہے دھمکیاں خود کشی کی دیتے ہیں کر لگ پائیں تو شرم آتی ہے
Varun Anand
36 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mudassir Husain Mudassir.
Similar Moods
More moods that pair well with Mudassir Husain Mudassir's ghazal.







