ghazalKuch Alfaaz

ہم اپنے آپ ہے وہ ہے وہ رہتے ہیں دم ہے وہ ہے وہ دم چنو ہمارے ساتھ ہوں دو چار بھی جو ہم چنو کسے دماغ جنوں کی مزاج پرسی کا سنے گا کون گزرتی ہے شام غم چنو بھلا ہوا کہ ترا نقش پا نظر آیا خرد کو راستہ سمجھے ہوئے تھے ہم چنو مری مثال تو ایسی ہے چنو خواب کوئی میرا وجود سمجھ لیجیے عدم چنو اب آپ خود ہی بتائیں یہ زندگی کیا ہے کرم بھی ا سے نے کیے ہیں م گر ستم چنو

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

More from Ajmal Siraj

دیوار یاد آ گئی در یاد آ گیا تو دو گام ہی چلے تھے کہ گھر یاد آ گیا تو کچھ کہنا چاہتے تھے کہ خاموش ہوں گئے دستار یاد آ گئی سر یاد آ گیا تو دنیا کی بے رکھ کا گلہ کر رہے تھے لوگ ہم کو ترا تپاک م گر یاد آ گیا تو پھروں تیرگی گھبرائیے یاد آ گئی پھروں حقیقت چراغ گھبرائیے یاد آ گیا تو اجمل' سراج ہم اسے بھول ہوئے تو ہیں کیا جانے کیا کریںگے ا گر یاد آ گیا تو

Ajmal Siraj

2 likes

بجھ گیا تو رات حقیقت ستارہ بھی حال اچھا نہیں ہمارا بھی یہ جو ہم شاعر فطرت شاعر فطرت رہتے ہیں ا سے ہے وہ ہے وہ کچھ دخل ہے تمہارا بھی ڈوبنا ذات کے سمندر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے یہ طوفان بھی کنارہ بھی اب مجھے نیند ہی نہیں آتی خواب ہے خواب کا سہارا بھی لوگ جیتے ہیں ک سے طرح اجمل ہم سے ہوتا نہیں گزارا بھی

Ajmal Siraj

4 likes

तेरे सिवा किसी की तमन्ना करूँँगा मैं ऐसा कभी हुआ है जो ऐसा करूँँगा मैं गो ग़म अज़ीज़ है मुझे तेरे फ़िराक़ का फिर भी इस इम्तिहान का शिकवा करूँँगा मैं आँखों को अश्क ओ ख़ूँ भी फ़राहम करूँँगा मैं दिल के लिए भी दर्द मुहय्या करूँँगा मैं राहत भी रंज, रंज भी राहत हो जब तो फिर क्या एतिबार-ए-ख़्वाहिश-ए-दुनिया करूँँगा मैं रक्खा है क्या जहान में ये और बात है ये और बात है कि तक़ाज़ा करूँँगा मैं ये रहगुज़र कि जा-ए-क़याम-ओ-क़रार थी या'नी अब उस गली से भी गुज़रा करूँँगा मैं या'नी कुछ इस तरह कि तुझे भी ख़बर न हो इस एहतियात से तुझे देखा करूँँगा मैं है देखने की चीज़ तो ये इल्तिफ़ात भी देखोगे तुम गुरेज़ भी ऐसा करूँँगा मैं हैरान ओ दिल-शिकस्ता हूँ इस हाल-ए-ज़ार पर कब जानता था अपना तमाशा करूँँगा मैं हाँ खींच लूँगा वक़्त की ज़ंजीर पाँव से अब के बहार आई तो ऐसा करूँँगा मैं

Ajmal Siraj

1 likes

मैं ने ऐ दिल तुझे सीने से लगाया हुआ है और तू है कि मिरी जान को आया हुआ है बस इसी बोझ से दोहरी हुई जाती है कमर ज़िंदगी का जो ये एहसान उठाया हुआ है क्या हुआ गर नहीं बादल ये बरसने वाला ये भी कुछ कम तो नहीं है जो ये आया हुआ है राह चलती हुई इस राह-गुज़र पर 'अजमल' हम समझते हैं क़दम हम ने जमाया हुआ है हम ये समझे थे कि हम भूल गए हैं उस को आज बे-तरह हमें याद जो आया हुआ है वो किसी रोज़ हवाओं की तरह आएगा राह में जिस की दिया हम ने जलाया हुआ है कौन बतलाए उसे अपना यक़ीं है कि नहीं वो जिसे हम ने ख़ुदा अपना बनाया हुआ है यूँँही दीवाना बना फिरता है वर्ना 'अजमल' दिल में बैठा हुआ है ज़ेहन पे छाया हुआ है

Ajmal Siraj

2 likes

شام اپنی بے مزہ جاتی ہے روز اور ستم یہ ہے کہ آ جاتی ہے روز کوئی دن آساں نہیں جاتا میرا کوئی مشکل آزما جاتی ہے روز مجھ سے پوچھے کوئی کیا ہے زندگی مری سر سے یہ بلا جاتی ہے روز جانے ک سے کی سرخ روی کے لیے خوں ہے وہ ہے وہ یہ دھرتی نہا جاتی ہے روز گیت گاتے ہیں پرندے صبح و شام یا سماعت چہچہا جاتی ہے روز دیکھنے والوں کو اجمل زندگی رنگ کتنے ہی دکھا جاتی ہے روز

Ajmal Siraj

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ajmal Siraj.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ajmal Siraj's ghazal.