ghazalKuch Alfaaz

بجھ گیا تو رات حقیقت ستارہ بھی حال اچھا نہیں ہمارا بھی یہ جو ہم شاعر فطرت شاعر فطرت رہتے ہیں ا سے ہے وہ ہے وہ کچھ دخل ہے تمہارا بھی ڈوبنا ذات کے سمندر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے یہ طوفان بھی کنارہ بھی اب مجھے نیند ہی نہیں آتی خواب ہے خواب کا سہارا بھی لوگ جیتے ہیں ک سے طرح اجمل ہم سے ہوتا نہیں گزارا بھی

Related Ghazal

ہر اندھیرا روشنی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ج سے کو دیکھو شاعری ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ہم کو مر جانے کی فرصت کب ملی سمے سارا زندگی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو اپنا مے خا لگ بنا سکتے تھے ہم اتنا بڑھانے میکشی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو خود سے اتنی دور جا نکلے تھے ہم اک زما لگ واپسی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو

Mehshar Afridi

53 likes

حقیقت تو اچھا ہے غزل تیرا سہارا ہے مجھے ور لگ فکروں نے تو ب سے گھیر کے مارا ہے مجھے ج سے کی تصویر ہے وہ ہے وہ کاغذ پہ بنا بھی لگ سکا ا سے نے مہن گرا سے ہتھیلی پہ اتارا ہے مجھے غیر کے ہاتھ سے مرہم مجھے جھمکے نہیں جاناں م گر زخم بھی دے دو تو بے شرط ہے مجھے

Abrar Kashif

54 likes

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی

Jaun Elia

77 likes

More from Ajmal Siraj

دیوار یاد آ گئی در یاد آ گیا تو دو گام ہی چلے تھے کہ گھر یاد آ گیا تو کچھ کہنا چاہتے تھے کہ خاموش ہوں گئے دستار یاد آ گئی سر یاد آ گیا تو دنیا کی بے رکھ کا گلہ کر رہے تھے لوگ ہم کو ترا تپاک م گر یاد آ گیا تو پھروں تیرگی گھبرائیے یاد آ گئی پھروں حقیقت چراغ گھبرائیے یاد آ گیا تو اجمل' سراج ہم اسے بھول ہوئے تو ہیں کیا جانے کیا کریںگے ا گر یاد آ گیا تو

Ajmal Siraj

2 likes

तेरे सिवा किसी की तमन्ना करूँँगा मैं ऐसा कभी हुआ है जो ऐसा करूँँगा मैं गो ग़म अज़ीज़ है मुझे तेरे फ़िराक़ का फिर भी इस इम्तिहान का शिकवा करूँँगा मैं आँखों को अश्क ओ ख़ूँ भी फ़राहम करूँँगा मैं दिल के लिए भी दर्द मुहय्या करूँँगा मैं राहत भी रंज, रंज भी राहत हो जब तो फिर क्या एतिबार-ए-ख़्वाहिश-ए-दुनिया करूँँगा मैं रक्खा है क्या जहान में ये और बात है ये और बात है कि तक़ाज़ा करूँँगा मैं ये रहगुज़र कि जा-ए-क़याम-ओ-क़रार थी या'नी अब उस गली से भी गुज़रा करूँँगा मैं या'नी कुछ इस तरह कि तुझे भी ख़बर न हो इस एहतियात से तुझे देखा करूँँगा मैं है देखने की चीज़ तो ये इल्तिफ़ात भी देखोगे तुम गुरेज़ भी ऐसा करूँँगा मैं हैरान ओ दिल-शिकस्ता हूँ इस हाल-ए-ज़ार पर कब जानता था अपना तमाशा करूँँगा मैं हाँ खींच लूँगा वक़्त की ज़ंजीर पाँव से अब के बहार आई तो ऐसा करूँँगा मैं

Ajmal Siraj

1 likes

کیا کہےگا کبھی ملنے بھی ا گر آئےگا حقیقت اب وفاداری کی ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو نہیں کھائےگا حقیقت ہم سمجھتے تھے کہ ہم اس کا کو بھلا سکتے ہیں حقیقت سمجھتا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھول نہیں پائے گا حقیقت کتنا سوچا تھا پر اتنا تو نہیں سوچا تھا یاد بن جائےگا حقیقت خواب نظر آئےگا حقیقت سب کے ہوتے ہوئے اک روز حقیقت تنہا ہوگا پھروں حقیقت ڈھونڈےگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور نہیں پائے گا حقیقت اتفاقاً جو کبھی سامنے آیا اجمل اب حقیقت تنہا تو لگ ہوگا جو ٹھہر جائےگا حقیقت

Ajmal Siraj

50 likes

ہم اپنے آپ ہے وہ ہے وہ رہتے ہیں دم ہے وہ ہے وہ دم چنو ہمارے ساتھ ہوں دو چار بھی جو ہم چنو کسے دماغ جنوں کی مزاج پرسی کا سنے گا کون گزرتی ہے شام غم چنو بھلا ہوا کہ ترا نقش پا نظر آیا خرد کو راستہ سمجھے ہوئے تھے ہم چنو مری مثال تو ایسی ہے چنو خواب کوئی میرا وجود سمجھ لیجیے عدم چنو اب آپ خود ہی بتائیں یہ زندگی کیا ہے کرم بھی ا سے نے کیے ہیں م گر ستم چنو

Ajmal Siraj

1 likes

شام اپنی بے مزہ جاتی ہے روز اور ستم یہ ہے کہ آ جاتی ہے روز کوئی دن آساں نہیں جاتا میرا کوئی مشکل آزما جاتی ہے روز مجھ سے پوچھے کوئی کیا ہے زندگی مری سر سے یہ بلا جاتی ہے روز جانے ک سے کی سرخ روی کے لیے خوں ہے وہ ہے وہ یہ دھرتی نہا جاتی ہے روز گیت گاتے ہیں پرندے صبح و شام یا سماعت چہچہا جاتی ہے روز دیکھنے والوں کو اجمل زندگی رنگ کتنے ہی دکھا جاتی ہے روز

Ajmal Siraj

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ajmal Siraj.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ajmal Siraj's ghazal.