کیا کہےگا کبھی ملنے بھی ا گر آئےگا حقیقت اب وفاداری کی ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو نہیں کھائےگا حقیقت ہم سمجھتے تھے کہ ہم اس کا کو بھلا سکتے ہیں حقیقت سمجھتا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھول نہیں پائے گا حقیقت کتنا سوچا تھا پر اتنا تو نہیں سوچا تھا یاد بن جائےگا حقیقت خواب نظر آئےگا حقیقت سب کے ہوتے ہوئے اک روز حقیقت تنہا ہوگا پھروں حقیقت ڈھونڈےگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور نہیں پائے گا حقیقت اتفاقاً جو کبھی سامنے آیا اجمل اب حقیقت تنہا تو لگ ہوگا جو ٹھہر جائےگا حقیقت
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
More from Ajmal Siraj
دیوار یاد آ گئی در یاد آ گیا تو دو گام ہی چلے تھے کہ گھر یاد آ گیا تو کچھ کہنا چاہتے تھے کہ خاموش ہوں گئے دستار یاد آ گئی سر یاد آ گیا تو دنیا کی بے رکھ کا گلہ کر رہے تھے لوگ ہم کو ترا تپاک م گر یاد آ گیا تو پھروں تیرگی گھبرائیے یاد آ گئی پھروں حقیقت چراغ گھبرائیے یاد آ گیا تو اجمل' سراج ہم اسے بھول ہوئے تو ہیں کیا جانے کیا کریںگے ا گر یاد آ گیا تو
Ajmal Siraj
2 likes
तेरे सिवा किसी की तमन्ना करूँँगा मैं ऐसा कभी हुआ है जो ऐसा करूँँगा मैं गो ग़म अज़ीज़ है मुझे तेरे फ़िराक़ का फिर भी इस इम्तिहान का शिकवा करूँँगा मैं आँखों को अश्क ओ ख़ूँ भी फ़राहम करूँँगा मैं दिल के लिए भी दर्द मुहय्या करूँँगा मैं राहत भी रंज, रंज भी राहत हो जब तो फिर क्या एतिबार-ए-ख़्वाहिश-ए-दुनिया करूँँगा मैं रक्खा है क्या जहान में ये और बात है ये और बात है कि तक़ाज़ा करूँँगा मैं ये रहगुज़र कि जा-ए-क़याम-ओ-क़रार थी या'नी अब उस गली से भी गुज़रा करूँँगा मैं या'नी कुछ इस तरह कि तुझे भी ख़बर न हो इस एहतियात से तुझे देखा करूँँगा मैं है देखने की चीज़ तो ये इल्तिफ़ात भी देखोगे तुम गुरेज़ भी ऐसा करूँँगा मैं हैरान ओ दिल-शिकस्ता हूँ इस हाल-ए-ज़ार पर कब जानता था अपना तमाशा करूँँगा मैं हाँ खींच लूँगा वक़्त की ज़ंजीर पाँव से अब के बहार आई तो ऐसा करूँँगा मैं
Ajmal Siraj
1 likes
بجھ گیا تو رات حقیقت ستارہ بھی حال اچھا نہیں ہمارا بھی یہ جو ہم شاعر فطرت شاعر فطرت رہتے ہیں ا سے ہے وہ ہے وہ کچھ دخل ہے تمہارا بھی ڈوبنا ذات کے سمندر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے یہ طوفان بھی کنارہ بھی اب مجھے نیند ہی نہیں آتی خواب ہے خواب کا سہارا بھی لوگ جیتے ہیں ک سے طرح اجمل ہم سے ہوتا نہیں گزارا بھی
Ajmal Siraj
4 likes
شام اپنی بے مزہ جاتی ہے روز اور ستم یہ ہے کہ آ جاتی ہے روز کوئی دن آساں نہیں جاتا میرا کوئی مشکل آزما جاتی ہے روز مجھ سے پوچھے کوئی کیا ہے زندگی مری سر سے یہ بلا جاتی ہے روز جانے ک سے کی سرخ روی کے لیے خوں ہے وہ ہے وہ یہ دھرتی نہا جاتی ہے روز گیت گاتے ہیں پرندے صبح و شام یا سماعت چہچہا جاتی ہے روز دیکھنے والوں کو اجمل زندگی رنگ کتنے ہی دکھا جاتی ہے روز
Ajmal Siraj
1 likes
मैं ने ऐ दिल तुझे सीने से लगाया हुआ है और तू है कि मिरी जान को आया हुआ है बस इसी बोझ से दोहरी हुई जाती है कमर ज़िंदगी का जो ये एहसान उठाया हुआ है क्या हुआ गर नहीं बादल ये बरसने वाला ये भी कुछ कम तो नहीं है जो ये आया हुआ है राह चलती हुई इस राह-गुज़र पर 'अजमल' हम समझते हैं क़दम हम ने जमाया हुआ है हम ये समझे थे कि हम भूल गए हैं उस को आज बे-तरह हमें याद जो आया हुआ है वो किसी रोज़ हवाओं की तरह आएगा राह में जिस की दिया हम ने जलाया हुआ है कौन बतलाए उसे अपना यक़ीं है कि नहीं वो जिसे हम ने ख़ुदा अपना बनाया हुआ है यूँँही दीवाना बना फिरता है वर्ना 'अजमल' दिल में बैठा हुआ है ज़ेहन पे छाया हुआ है
Ajmal Siraj
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ajmal Siraj.
Similar Moods
More moods that pair well with Ajmal Siraj's ghazal.







