ہم لوٹتے ہیں حقیقت سو رہے ہیں کیا ناز و نیاز ہوں رہے ہیں کیا رنگ ج ہاں ہے وہ ہے وہ ہوں رہے ہیں دو ہنستے ہیں چار رو رہے ہیں دنیا سے ا پیش جو ہوں رہے ہیں ت کیوں ہے وہ ہے وہ مزے سے سو رہے ہیں پہنچی ہے ہماری اب یہ حالت جو ہنستے تھے حقیقت بھی رو رہے ہیں تنہا تہ خاک بھی نہیں ہم حسرت کے ساتھ سو رہے ہیں سوتے ہیں لحد ہے وہ ہے وہ سونے والے جو جاگتے ہیں حقیقت رو رہے ہیں ارباب غصہ چل بسے سب سو ہے وہ ہے وہ کہی ایک دو رہے ہیں پلکوں کی جھپک دکھا کے یہ بت دل ہے وہ ہے وہ چشم مے فروش چبھو رہے ہیں مجھ داغ نصیب کی لحد پر لالے کا حقیقت بیج بو رہے ہیں پیری ہے وہ ہے وہ بھی ہم ہزار افسو سے بچپن کی نیند سو رہے ہیں دامن سے ہم اپنے داغ ہستی آب خنجر سے دو رہے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاگ رہا ہوں اے شب غم پر مری نصیب سو رہے ہیں روئیںگے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ رلانے والے ڈوبیں گے حقیقت جو ڈبو رہے ہیں اے حشر مدینے ہے وہ ہے وہ لگ کر شور چپ چپ سرکار سو رہے ہیں آئینے پہ بھی کڑی نگاہیں
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
More from Ameer Minai
تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر ک سے کا ہے سینا ک سے کا ہے مری جان ج گر ک سے کا ہے خوف میزان قیامت نہیں مجھ کو اے دوست تو ا گر ہے مری پلے ہے وہ ہے وہ تو ڈر ک سے کا ہے کوئی آتا ہے عدم سے تو کوئی جاتا ہے سخت دونوں ہے وہ ہے وہ خدا جانے سفر ک سے کا ہے چھپ رہا ہے قفص تن ہے وہ ہے وہ جو ہر طائر دل آنکھ کھولے ہوئے شاہین نظر ک سے کا ہے نام شاعر لگ صحیح شعر کا مضمون ہوں خوب پھل سے زار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کام شجر ک سے کا ہے دام نا رسائی کرنے سے جو ہے طائر دل کے منکر اے کماں دار تری تیر ہے وہ ہے وہ پر ک سے کا ہے مری حیرت کا شب وصل یہ باعث ہے امیر سر ب زانو ہوں کہ زانو پہ یہ سر ک سے کا ہے
Ameer Minai
0 likes
ہے وہ ہے وہ رو کے آہ کروں گا ج ہاں رہے لگ رہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہے لگ رہے آ سماں رہے لگ رہے رہے حقیقت جان ج ہاں یہ ج ہاں رہے لگ رہے جلوے کی خیر ہوں یا رب مکان رہے لگ رہے ابھی مزار پر احباب فاتحہ پڑھ لیں پھروں ا سے دودمان بھی ہمارا نشان رہے لگ رہے خدا کے واسطے کلمہ بتوں کا پڑھ زاہد پھروں اختیار ہے وہ ہے وہ غافل زبان رہے لگ رہے اڑائے تو خیر سے گزری چمن ہے وہ ہے وہ بلبل کی بہار آئی ہے اب آشیاں رہے لگ رہے چلا تو ہوں پئے اظہار غزلوں حضور یار دیکھوں مجال بیاں التفات دل دوستان رہے لگ رہے امیر جمع ہیں احباب غزلوں کہ لے پھروں افشاں رہے لگ رہے
Ameer Minai
1 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ یا تو یا رب حقیقت پ سے مرگ ہوتا یہ لگ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا وصل یار کاش یوں ہی مجھے خیرو ہوتا حقیقت سر مزار ہوتا ہے وہ ہے وہ تہ مزار ہوتا ترا مے کدہ سلامت تری خم کی خیر ساقی میرا نشہ کیوں اترتا مجھے کیوں خمار ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں نامراد ایسا کہ بلک کے یا سے روتی کہی پا کے آسرا کچھ جو امید وار ہوتا نہیں پوچھتا ہے مجھ کو کوئی پھول ا سے چمن ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل داغ دار ہوتا تو گلے کا ہار ہوتا حقیقت مزہ دیا تڑپ نے کہ یہ آرزو ہے یا رب مری دونوں پہلوؤں ہے وہ ہے وہ دل بے قرار ہوتا دم نہزع بھی جو حقیقت بت مجھے آ کے منا دکھاتا تو خدا کے منا سے اتنا لگ ہے وہ ہے وہ شرمسار ہوتا لگ ملک سوال کرتے لگ لحد فشار دیتی سر راہ کوئے قاتل جو میرا مزار ہوتا جو نگاہ کی تھی ظالم تو پھروں آنکھ کیوں چرائی وہی تیر کیوں لگ مارا جو ج گر کے پار ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ زبان سے جاناں کو سچا کہو لاکھ بار کہ دوں اسے کیا کروں کہ دل کو نہیں اعتبار ہوتا مری خاک بھی لحد ہے وہ ہے وہ لگ رہی
Ameer Minai
0 likes
جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے ٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لیے ہے جوانی خود جوانی کا سنگار سادگی گہنا ہے ا سے سن کے لیے کون ویرانے ہے وہ ہے وہ دیکھےگا بہار پھول جنگل ہے وہ ہے وہ کھلے کن کے لیے ساری دنیا کے ہیں حقیقت مری سوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے باغباں مصروف ہوں ہلکے رنگ کی بھیجنی ہے ایک کم سن کے لیے سب حسین ہیں غم ہستی کو نا پسند اب کوئی حور آوےگی عشق دل ان کے لیے وصل کا دن اور اتنا بڑھوا دن گنے جاتے تھے ا سے دن کے لیے صبح کا سونا جو ہاتھ آتا امیر بھیجتے تحفہ موذن کے لیے
Ameer Minai
1 likes
چپ بھی ہوں بک رہا ہے کیا واعظ مغز رندوں کا کھا گیا تو واعظ تری کہنے سے رند جائیں گے یہ تو ہے خا لگ خدا واعظ اللہ اللہ یہ کبر اور یہ غرور کیا خدا کا ہے دوسرا واعظ بے اعتباری مے کشوں پہ چشم غضب حشر ہونے دے دیکھنا واعظ ہم ہیں قحط شراب سے بیمار ک سے مرض کی ہے تو دوا واعظ رہ چکا مختلف ہے وہ ہے وہ ساری عمر کبھی مے خانے ہے وہ ہے وہ بھی آ واعظ ہجو مے کر رہا تھا منبر پر ہم جو پہنچے تو پی گیا تو واعظ دختر رز کو برا مری آگے پھروں لگ کہنا کبھی سنا واعظ آج کرتا ہوں وصف مے ہے وہ ہے وہ امیر دیکھوں کہتا ہے ا سے ہے وہ ہے وہ کیا واعظ
Ameer Minai
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ameer Minai.
Similar Moods
More moods that pair well with Ameer Minai's ghazal.







