ghazalKuch Alfaaz

جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے ٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لیے ہے جوانی خود جوانی کا سنگار سادگی گہنا ہے ا سے سن کے لیے کون ویرانے ہے وہ ہے وہ دیکھےگا بہار پھول جنگل ہے وہ ہے وہ کھلے کن کے لیے ساری دنیا کے ہیں حقیقت مری سوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے باغباں مصروف ہوں ہلکے رنگ کی بھیجنی ہے ایک کم سن کے لیے سب حسین ہیں غم ہستی کو نا پسند اب کوئی حور آوےگی عشق دل ان کے لیے وصل کا دن اور اتنا بڑھوا دن گنے جاتے تھے ا سے دن کے لیے صبح کا سونا جو ہاتھ آتا امیر بھیجتے تحفہ موذن کے لیے

Related Ghazal

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو

Fazil Jamili

73 likes

More from Ameer Minai

چپ بھی ہوں بک رہا ہے کیا واعظ مغز رندوں کا کھا گیا تو واعظ تری کہنے سے رند جائیں گے یہ تو ہے خا لگ خدا واعظ اللہ اللہ یہ کبر اور یہ غرور کیا خدا کا ہے دوسرا واعظ بے اعتباری مے کشوں پہ چشم غضب حشر ہونے دے دیکھنا واعظ ہم ہیں قحط شراب سے بیمار ک سے مرض کی ہے تو دوا واعظ رہ چکا مختلف ہے وہ ہے وہ ساری عمر کبھی مے خانے ہے وہ ہے وہ بھی آ واعظ ہجو مے کر رہا تھا منبر پر ہم جو پہنچے تو پی گیا تو واعظ دختر رز کو برا مری آگے پھروں لگ کہنا کبھی سنا واعظ آج کرتا ہوں وصف مے ہے وہ ہے وہ امیر دیکھوں کہتا ہے ا سے ہے وہ ہے وہ کیا واعظ

Ameer Minai

0 likes

جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے ٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لیے ہے جوانی خود جوانی کا سنگار سادگی گہنا ہے ا سے سن کے لیے کون ویرانے ہے وہ ہے وہ دیکھےگا بہار پھول جنگل ہے وہ ہے وہ کھلے کن کے لیے ساری دنیا کے ہیں حقیقت مری سوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے باغباں مصروف ہوں ہلکے رنگ کی بھیجنی ہے ایک کم سن کے لیے سب حسین ہیں غم ہستی کو نا پسند اب کوئی حور آوےگی عشق دل ان کے لیے وصل کا دن اور اتنا بڑھوا دن گنے جاتے تھے ا سے دن کے لیے صبح کا سونا جو ہاتھ آتا امیر بھیجتے تحفہ موذن کے لیے

Ameer Minai

0 likes

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر ک سے کا ہے سینا ک سے کا ہے مری جان ج گر ک سے کا ہے خوف میزان قیامت نہیں مجھ کو اے دوست تو ا گر ہے مری پلے ہے وہ ہے وہ تو ڈر ک سے کا ہے کوئی آتا ہے عدم سے تو کوئی جاتا ہے سخت دونوں ہے وہ ہے وہ خدا جانے سفر ک سے کا ہے چھپ رہا ہے قفص تن ہے وہ ہے وہ جو ہر طائر دل آنکھ کھولے ہوئے شاہین نظر ک سے کا ہے نام شاعر لگ صحیح شعر کا مضمون ہوں خوب پھل سے زار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کام شجر ک سے کا ہے دام نا رسائی کرنے سے جو ہے طائر دل کے منکر اے کماں دار تری تیر ہے وہ ہے وہ پر ک سے کا ہے مری حیرت کا شب وصل یہ باعث ہے امیر سر ب زانو ہوں کہ زانو پہ یہ سر ک سے کا ہے

Ameer Minai

0 likes

ہے وہ ہے وہ رو کے آہ کروں گا ج ہاں رہے لگ رہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہے لگ رہے آ سماں رہے لگ رہے رہے حقیقت جان ج ہاں یہ ج ہاں رہے لگ رہے جلوے کی خیر ہوں یا رب مکان رہے لگ رہے ابھی مزار پر احباب فاتحہ پڑھ لیں پھروں ا سے دودمان بھی ہمارا نشان رہے لگ رہے خدا کے واسطے کلمہ بتوں کا پڑھ زاہد پھروں اختیار ہے وہ ہے وہ غافل زبان رہے لگ رہے اڑائے تو خیر سے گزری چمن ہے وہ ہے وہ بلبل کی بہار آئی ہے اب آشیاں رہے لگ رہے چلا تو ہوں پئے اظہار غزلوں حضور یار دیکھوں مجال بیاں التفات دل دوستان رہے لگ رہے امیر جمع ہیں احباب غزلوں کہ لے پھروں افشاں رہے لگ رہے

Ameer Minai

1 likes

سرکتی جائے ہے رکھ سے نقاب آہستہ آہستہ نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ جواں ہونے لگے جب حقیقت تو ہم سے کر لیا پردہ حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ شب فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو کبھی فرصت ہے وہ ہے وہ کر لینا حساب آہستہ آہستہ سوال وصل پر ان کو عدو کا خوف ہے اتنا دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ حقیقت بےدر گرا سے سر کاٹیں امیر اور ہے وہ ہے وہ ک ہوں ان سے حضور آہستہ آہستہ جناب آہستہ آہستہ

Ameer Minai

10 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ameer Minai.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ameer Minai's ghazal.