ghazalKuch Alfaaz

سرکتی جائے ہے رکھ سے نقاب آہستہ آہستہ نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ جواں ہونے لگے جب حقیقت تو ہم سے کر لیا پردہ حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ شب فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو کبھی فرصت ہے وہ ہے وہ کر لینا حساب آہستہ آہستہ سوال وصل پر ان کو عدو کا خوف ہے اتنا دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ حقیقت بےدر گرا سے سر کاٹیں امیر اور ہے وہ ہے وہ ک ہوں ان سے حضور آہستہ آہستہ جناب آہستہ آہستہ

Ameer Minai10 Likes

Related Ghazal

ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے

Tehzeeb Hafi

220 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

عقل نے اچھے اچھوں کو بہکایا تھا شکر ہے ہم پر کچھ وحشت کا سایہ تھا جاناں نے اپنی گردن اونچی ہی رکھی ورنا ہے وہ ہے وہ تو جپا لے کر آیا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب تک ا سے کے ہی رنگ ہے وہ ہے وہ رنگا ہوں ج سے نے سب سے پہلے رنگ لگایا تھا مری رائے سب سے پہلے لی جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سب سے پہلے دھوکہ کھایا تھا سب کو علم ہے پھول اور خوشبو دونوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب سے پہلے ک سے نے ہاتھ چھڑایا تھا اک لڑکی نے پھروں مجھ کو بہکایا ہے اک لڑکی نے اچھے سے سمجھایا تھا

Zubair Ali Tabish

48 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے

Yasir Khan

92 likes

More from Ameer Minai

چپ بھی ہوں بک رہا ہے کیا واعظ مغز رندوں کا کھا گیا تو واعظ تری کہنے سے رند جائیں گے یہ تو ہے خا لگ خدا واعظ اللہ اللہ یہ کبر اور یہ غرور کیا خدا کا ہے دوسرا واعظ بے اعتباری مے کشوں پہ چشم غضب حشر ہونے دے دیکھنا واعظ ہم ہیں قحط شراب سے بیمار ک سے مرض کی ہے تو دوا واعظ رہ چکا مختلف ہے وہ ہے وہ ساری عمر کبھی مے خانے ہے وہ ہے وہ بھی آ واعظ ہجو مے کر رہا تھا منبر پر ہم جو پہنچے تو پی گیا تو واعظ دختر رز کو برا مری آگے پھروں لگ کہنا کبھی سنا واعظ آج کرتا ہوں وصف مے ہے وہ ہے وہ امیر دیکھوں کہتا ہے ا سے ہے وہ ہے وہ کیا واعظ

Ameer Minai

0 likes

جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے ٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لیے ہے جوانی خود جوانی کا سنگار سادگی گہنا ہے ا سے سن کے لیے کون ویرانے ہے وہ ہے وہ دیکھےگا بہار پھول جنگل ہے وہ ہے وہ کھلے کن کے لیے ساری دنیا کے ہیں حقیقت مری سوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے باغباں مصروف ہوں ہلکے رنگ کی بھیجنی ہے ایک کم سن کے لیے سب حسین ہیں غم ہستی کو نا پسند اب کوئی حور آوےگی عشق دل ان کے لیے وصل کا دن اور اتنا بڑھوا دن گنے جاتے تھے ا سے دن کے لیے صبح کا سونا جو ہاتھ آتا امیر بھیجتے تحفہ موذن کے لیے

Ameer Minai

0 likes

ہم لوٹتے ہیں حقیقت سو رہے ہیں کیا ناز و نیاز ہوں رہے ہیں کیا رنگ ج ہاں ہے وہ ہے وہ ہوں رہے ہیں دو ہنستے ہیں چار رو رہے ہیں دنیا سے ا پیش جو ہوں رہے ہیں ت کیوں ہے وہ ہے وہ مزے سے سو رہے ہیں پہنچی ہے ہماری اب یہ حالت جو ہنستے تھے حقیقت بھی رو رہے ہیں تنہا تہ خاک بھی نہیں ہم حسرت کے ساتھ سو رہے ہیں سوتے ہیں لحد ہے وہ ہے وہ سونے والے جو جاگتے ہیں حقیقت رو رہے ہیں ارباب غصہ چل بسے سب سو ہے وہ ہے وہ کہی ایک دو رہے ہیں پلکوں کی جھپک دکھا کے یہ بت دل ہے وہ ہے وہ چشم مے فروش چبھو رہے ہیں مجھ داغ نصیب کی لحد پر لالے کا حقیقت بیج بو رہے ہیں پیری ہے وہ ہے وہ بھی ہم ہزار افسو سے بچپن کی نیند سو رہے ہیں دامن سے ہم اپنے داغ ہستی آب خنجر سے دو رہے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاگ رہا ہوں اے شب غم پر مری نصیب سو رہے ہیں روئیںگے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ رلانے والے ڈوبیں گے حقیقت جو ڈبو رہے ہیں اے حشر مدینے ہے وہ ہے وہ لگ کر شور چپ چپ سرکار سو رہے ہیں آئینے پہ بھی کڑی نگاہیں

Ameer Minai

0 likes

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر ک سے کا ہے سینا ک سے کا ہے مری جان ج گر ک سے کا ہے خوف میزان قیامت نہیں مجھ کو اے دوست تو ا گر ہے مری پلے ہے وہ ہے وہ تو ڈر ک سے کا ہے کوئی آتا ہے عدم سے تو کوئی جاتا ہے سخت دونوں ہے وہ ہے وہ خدا جانے سفر ک سے کا ہے چھپ رہا ہے قفص تن ہے وہ ہے وہ جو ہر طائر دل آنکھ کھولے ہوئے شاہین نظر ک سے کا ہے نام شاعر لگ صحیح شعر کا مضمون ہوں خوب پھل سے زار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کام شجر ک سے کا ہے دام نا رسائی کرنے سے جو ہے طائر دل کے منکر اے کماں دار تری تیر ہے وہ ہے وہ پر ک سے کا ہے مری حیرت کا شب وصل یہ باعث ہے امیر سر ب زانو ہوں کہ زانو پہ یہ سر ک سے کا ہے

Ameer Minai

0 likes

جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے ٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لیے ہے جوانی خود جوانی کا سنگار سادگی گہنا ہے ا سے سن کے لیے کون ویرانے ہے وہ ہے وہ دیکھےگا بہار پھول جنگل ہے وہ ہے وہ کھلے کن کے لیے ساری دنیا کے ہیں حقیقت مری سوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے باغباں مصروف ہوں ہلکے رنگ کی بھیجنی ہے ایک کم سن کے لیے سب حسین ہیں غم ہستی کو نا پسند اب کوئی حور آوےگی عشق دل ان کے لیے وصل کا دن اور اتنا بڑھوا دن گنے جاتے تھے ا سے دن کے لیے صبح کا سونا جو ہاتھ آتا امیر بھیجتے تحفہ موذن کے لیے

Ameer Minai

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ameer Minai.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ameer Minai's ghazal.