ghazalKuch Alfaaz

ہم نے دل سے تجھے صدا مانا تو بڑا تھا تجھے بڑا مانا میر و غالب کے بعد انی سے کے بعد تجھ کو مانا بڑا بجا مانا تو کہ دیوا لگ صداقت تھا تو نے بندے کو کب خدا مانا تجھ کو پروا لگ تھی زمانے کی تو نے دل ہی کا ہر کہا مانا تجھ کو خود پہ تھا اعتماد اتنا خود ہی کو تو لگ رہنما مانا کی لگ شب کی کبھی پذیرائی صبح کو جائیں گے ثنا مانا ہن سے دیا سطح ذہن عالم پر جب کسی بات کا برا مانا یوں تو شاعر تھے اور بھی اے خون تمنا ہم نے تجھ سا لگ دوسرا مانا

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

بات کرنی ہے بات کون کرے درد سے دو دو ہاتھ کون کرے ہم ستارے تم تمہیں بلاتے ہیں چاند لگ ہوں تو رات کون کرے اب تجھے رب کہی یا بت سمجھیں عشق ہے وہ ہے وہ ذات پات کون کرے زندگی بھر کی تھے کمائی جاناں ا سے سے زیادہ زکات کون کرے

Kumar Vishwas

56 likes

چل دیے پھیر کر نظر جاناں بھی غیر تو غیر تھے م گر جاناں بھی یہ گلی مری دلربا کی ہے دوستوں خیریت ادھر جاناں بھی مجھ پہ لوگوں کے ساتھ ہنستے ہوں لوگ روئیںگے خاص کر جاناں بھی مجھ کو ٹھکرا دیا ہے دنیا نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو مر جاؤں گا ا گر جاناں بھی ا سے کی گاڑی تو جا چکی تابش اب اٹھو جاؤ اپنے گھر جاناں بھی

Zubair Ali Tabish

58 likes

تیرا چپ رہنا مری ذہن ہے وہ ہے وہ کیا بیٹھ گیا تو اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلہ بیٹھ گیا تو یوں نہیں ہے کہ فقط ہے وہ ہے وہ ہی اسے چاہتا ہوں جو بھی ا سے پیڑ کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ گیا تو بیٹھ گیا تو اتنا میٹھا تھا حقیقت نبھائیے بھرا لہجہ مت پوچھ ا سے نے ج سے کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا تو اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیں چیختی جاناں رہی اور میرا گلہ بیٹھ گیا تو ا سے کی مرضی حقیقت جسے پا سے بٹھا لے اپنے ا سے پہ کیا لڑنا شہر خاموشاں مری جگہ بیٹھ گیا تو بات دریاؤں کی سورج کی لگ تیری ہے ی ہاں دو قدم جو بھی مری ساتھ چلا بیٹھ گیا تو بزم جاناں ہے وہ ہے وہ نشستیں نہیں ہوتیں مخصوص جو بھی اک بار ج ہاں بیٹھ گیا تو بیٹھ گیا تو

Tehzeeb Hafi

203 likes

More from Habib Jalib

میر و غالب بنے یکتا بنے آدمی اے خدا خدا نہ بنے موت کی دسترسی ہے وہ ہے وہ کب سے ہیں زندگی کا کوئی بہانا بنے اپنا شاید یہی تھا جرم اے دوست با وفا بن کے بے وفا نہ بنے ہم پہ اک اعتراض یہ بھی ہے بے نوا ہوں کے بے نوا نہ بنے یہ بھی اپنا قصور کیا کم ہے کسی قاتل کے ب پاس طرز نوا نہ بنے کیا گلہ سنگ دل زمانے کا آشنا ہی جب آشنا نہ بنے چھوڑ کر اس کا گلی کو اے جالب اک حقیقت سے ہم فسانہ بنے

Habib Jalib

0 likes

فیض اور فیض کا غم بھولنے والا ہے کہی موت یہ تیرا ستم بھولنے والا ہے کہی ہم سے ج سے سمے نے حقیقت شاہ سخن چھین لیا ہم کو حقیقت سمے الم بھولنے والا ہے کہی تری خوشی اور بھی چمکائیں گی یادیں ا سے کی ہم کو حقیقت دیدہ نم بھولنے والا ہے کہی کبھی زندان ہے وہ ہے وہ کبھی دور وطن سے اے دوست جو کیا ا سے نے رقم بھولنے والا ہے کہی آخری بار اسے دیکھ لگ پائے جالب یہ مقدر کا ستم بھولنے والا ہے کہی

Habib Jalib

0 likes

یہ سوچ کر لگ مائل فریاد ہم ہوئے آباد کب ہوئے تھے کہ برباد ہم ہوئے ہوتا ہے شاد کام ی ہاں کون با ضمیر ناشاد ہم ہوئے تو بے حد شاد ہم ہوئے پرویز کے جلال سے ٹکرائے ہم بھی ہیں یہ اور بات ہے کہ لگ فرہاد ہم ہوئے کچھ ایسے بھا گئے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دنیا کے درد و غم کوئے بتاں ہے وہ ہے وہ بھولی ہوئی یاد ہم ہوئے جالب تمام عمر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ گماں رہا ا سے زلف کے خیال سے آزاد ہم ہوئے

Habib Jalib

1 likes

آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ بد دعائیں ہیں لبوں پر اب دعاؤں کی جگہ انتخاب اہل گلشن پر بے حد روتا ہے دل دیکھ کر زاغ و زغن کو خوش نواوں کی جگہ کچھ بھی ہوتا پر لگ ہوتے پارہ پارہ جسم و جاں راہزن ہوتے ا گر ان رہنماؤں کی جگہ لٹ گئی ا سے دور ہے وہ ہے وہ اہل کی رکھ بک رہے ہیں اب صحافی بے سواوں کی جگہ کچھ تو آتا ہم کو بھی جاں سے گزرنے کا مزہ غیر ہوتے کاش جالب آشناؤں کی جگہ

Habib Jalib

1 likes

زرے ہی صحیح کوہ سے ٹکرا تو گئے ہم دل لے کے سر عرصہ غم آ تو گئے ہم اب نام رہے یا لگ رہے عشق ہے وہ ہے وہ اپنا روداد وفا دار پہ دوہرا تو گئے ہم کہتے تھے جو اب کوئی نہیں جاں سے گزرتا لو جاں سے گزر کر ا نہیں جھٹلا تو گئے ہم جاں اپنی گنوا کر کبھی گھر اپنا جلا کر دل ان کا ہر اک طور سے بہلا تو گئے ہم کچھ اور ہی عالم تھا پ سے چہرہ یاراں رہتا جو یوںہی راز اسے پا تو گئے ہم اب سوچ رہے ہیں کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے پھروں ان سے لگ ملنے کی قسم کھا تو گئے ہم اٹھیں کہ لگ اٹھیں یہ رضا ان کی ہے جالب لوگوں کو سر دار نظر آ تو گئے ہم

Habib Jalib

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Habib Jalib.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Habib Jalib's ghazal.