یہ سوچ کر لگ مائل فریاد ہم ہوئے آباد کب ہوئے تھے کہ برباد ہم ہوئے ہوتا ہے شاد کام ی ہاں کون با ضمیر ناشاد ہم ہوئے تو بے حد شاد ہم ہوئے پرویز کے جلال سے ٹکرائے ہم بھی ہیں یہ اور بات ہے کہ لگ فرہاد ہم ہوئے کچھ ایسے بھا گئے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دنیا کے درد و غم کوئے بتاں ہے وہ ہے وہ بھولی ہوئی یاد ہم ہوئے جالب تمام عمر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ گماں رہا ا سے زلف کے خیال سے آزاد ہم ہوئے
Related Ghazal
چھوڑ کر جانے کا جھمکے نہیں ہوتا تھا کوئی بھی زخم ہوں ناسور نہیں ہوتا تھا میرے بھی ہونٹ پہ سگریٹ نہیں ہوتی تھی ا سے کی بھی مانگ ہے وہ ہے وہ سندور نہیں ہوتا تھا عورتیں پیار ہے وہ ہے وہ تب شوق نہیں رکھتی تھی آدمی عشق ہے وہ ہے وہ مزدور نہیں ہوتا تھا
Kushal Dauneria
54 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
More from Habib Jalib
ا سے نے جب ہن سے کے نمسکار کیا مجھ کو انسان سے اوتار کیا دشت غربت ہے وہ ہے وہ دل ویراں نے یاد جمنا کو کئی بار کیا پیار کی بات لگ پوچھو یاروں ہم نے ک سے ک سے سے نہیں پیار کیا کتنی خوابیدہ تمناؤں کو ا سے کی آواز نے منجملہ و اسباب ماتم کیا ہم پجاری ہیں بتوں کے جالب ہم نے کعبہ ہے وہ ہے وہ بھی اقرار کیا
Habib Jalib
1 likes
آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ بد دعائیں ہیں لبوں پر اب دعاؤں کی جگہ انتخاب اہل گلشن پر بے حد روتا ہے دل دیکھ کر زاغ و زغن کو خوش نواوں کی جگہ کچھ بھی ہوتا پر لگ ہوتے پارہ پارہ جسم و جاں راہزن ہوتے ا گر ان رہنماؤں کی جگہ لٹ گئی ا سے دور ہے وہ ہے وہ اہل کی رکھ بک رہے ہیں اب صحافی بے سواوں کی جگہ کچھ تو آتا ہم کو بھی جاں سے گزرنے کا مزہ غیر ہوتے کاش جالب آشناؤں کی جگہ
Habib Jalib
1 likes
پھروں دل سے آ رہی ہے صدا ا سے گلی ہے وہ ہے وہ چل شاید ملے غزل کا پتا ا سے گلی ہے وہ ہے وہ چل کب سے نہیں ہوا ہے کوئی شعر کام کا یہ شعر کی نہیں ہے فضا ا سے گلی ہے وہ ہے وہ چل حقیقت بام و در حقیقت لوگ حقیقت رسوائیوں کے زخم ہیں سب کے سب عزیز جدا ا سے گلی ہے وہ ہے وہ چل ا سے پھول کے بغیر بے حد جی ادا سے ہے مجھ کو بھی ساتھ لے کے صبا ا سے گلی ہے وہ ہے وہ چل دنیا تو چاہتی ہے یوںہی فاصلے رہیں دنیا کے مشوروں پہ لگ جا ا سے گلی ہے وہ ہے وہ چل بے نور و نبھے گی ہے ی ہاں کی صدا ساز تھا ا سے سکوت ہے وہ ہے وہ بھی مزہ ا سے گلی ہے وہ ہے وہ چل جالب پکارتی ہیں حقیقت شعلہ نوائیاں یہ سرد رت یہ سرد ہوا ا سے گلی ہے وہ ہے وہ چل
Habib Jalib
2 likes
میر و غالب بنے یکتا بنے آدمی اے خدا خدا نہ بنے موت کی دسترسی ہے وہ ہے وہ کب سے ہیں زندگی کا کوئی بہانا بنے اپنا شاید یہی تھا جرم اے دوست با وفا بن کے بے وفا نہ بنے ہم پہ اک اعتراض یہ بھی ہے بے نوا ہوں کے بے نوا نہ بنے یہ بھی اپنا قصور کیا کم ہے کسی قاتل کے ب پاس طرز نوا نہ بنے کیا گلہ سنگ دل زمانے کا آشنا ہی جب آشنا نہ بنے چھوڑ کر اس کا گلی کو اے جالب اک حقیقت سے ہم فسانہ بنے
Habib Jalib
0 likes
حقیقت دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگا م گر زمانے کی باتوں سے ڈر گیا تو ہوگا اسے تھا شوق بے حد مجھ کو اچھا رکھنے کا یہ شوق اوروں کو شاید برا لگا ہوگا کبھی لگ حد ادب سے بڑھے تھے دیدہ و دل حقیقت مجھ سے ک سے لیے کسی بات پر خفا ہوگا مجھے گمان ہے یہ بھی یقین کی حد تک کسی سے بھی لگ حقیقت مری طرح ملا ہوگا کبھی کبھی تو ستاروں کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ حقیقت بھی مری خیال ہے وہ ہے وہ کچھ دیر جاگتا ہوگا حقیقت ا سے کا سادہ و معصوم والہا لگ پن کسی بھی جگ ہے وہ ہے وہ کوئی دیوتا بھی کیا ہوگا نہیں حقیقت آیا تو جالب گلہ لگ کر ا سے کا لگ جانے کیا اسے در سانحے مسئلہ ہوگا
Habib Jalib
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Habib Jalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Habib Jalib's ghazal.







