ghazalKuch Alfaaz

حقیقت دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگا م گر زمانے کی باتوں سے ڈر گیا تو ہوگا اسے تھا شوق بے حد مجھ کو اچھا رکھنے کا یہ شوق اوروں کو شاید برا لگا ہوگا کبھی لگ حد ادب سے بڑھے تھے دیدہ و دل حقیقت مجھ سے ک سے لیے کسی بات پر خفا ہوگا مجھے گمان ہے یہ بھی یقین کی حد تک کسی سے بھی لگ حقیقت مری طرح ملا ہوگا کبھی کبھی تو ستاروں کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ حقیقت بھی مری خیال ہے وہ ہے وہ کچھ دیر جاگتا ہوگا حقیقت ا سے کا سادہ و معصوم والہا لگ پن کسی بھی جگ ہے وہ ہے وہ کوئی دیوتا بھی کیا ہوگا نہیں حقیقت آیا تو جالب گلہ لگ کر ا سے کا لگ جانے کیا اسے در سانحے مسئلہ ہوگا

Related Ghazal

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے

Jaun Elia

113 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Habib Jalib

آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ بد دعائیں ہیں لبوں پر اب دعاؤں کی جگہ انتخاب اہل گلشن پر بے حد روتا ہے دل دیکھ کر زاغ و زغن کو خوش نواوں کی جگہ کچھ بھی ہوتا پر لگ ہوتے پارہ پارہ جسم و جاں راہزن ہوتے ا گر ان رہنماؤں کی جگہ لٹ گئی ا سے دور ہے وہ ہے وہ اہل کی رکھ بک رہے ہیں اب صحافی بے سواوں کی جگہ کچھ تو آتا ہم کو بھی جاں سے گزرنے کا مزہ غیر ہوتے کاش جالب آشناؤں کی جگہ

Habib Jalib

1 likes

ا سے نے جب ہن سے کے نمسکار کیا مجھ کو انسان سے اوتار کیا دشت غربت ہے وہ ہے وہ دل ویراں نے یاد جمنا کو کئی بار کیا پیار کی بات لگ پوچھو یاروں ہم نے ک سے ک سے سے نہیں پیار کیا کتنی خوابیدہ تمناؤں کو ا سے کی آواز نے منجملہ و اسباب ماتم کیا ہم پجاری ہیں بتوں کے جالب ہم نے کعبہ ہے وہ ہے وہ بھی اقرار کیا

Habib Jalib

1 likes

ہم نے دل سے تجھے صدا مانا تو بڑا تھا تجھے بڑا مانا میر و غالب کے بعد انی سے کے بعد تجھ کو مانا بڑا بجا مانا تو کہ دیوا لگ صداقت تھا تو نے بندے کو کب خدا مانا تجھ کو پروا لگ تھی زمانے کی تو نے دل ہی کا ہر کہا مانا تجھ کو خود پہ تھا اعتماد اتنا خود ہی کو تو لگ رہنما مانا کی لگ شب کی کبھی پذیرائی صبح کو جائیں گے ثنا مانا ہن سے دیا سطح ذہن عالم پر جب کسی بات کا برا مانا یوں تو شاعر تھے اور بھی اے خون تمنا ہم نے تجھ سا لگ دوسرا مانا

Habib Jalib

0 likes

فیض اور فیض کا غم بھولنے والا ہے کہی موت یہ تیرا ستم بھولنے والا ہے کہی ہم سے ج سے سمے نے حقیقت شاہ سخن چھین لیا ہم کو حقیقت سمے الم بھولنے والا ہے کہی تری خوشی اور بھی چمکائیں گی یادیں ا سے کی ہم کو حقیقت دیدہ نم بھولنے والا ہے کہی کبھی زندان ہے وہ ہے وہ کبھی دور وطن سے اے دوست جو کیا ا سے نے رقم بھولنے والا ہے کہی آخری بار اسے دیکھ لگ پائے جالب یہ مقدر کا ستم بھولنے والا ہے کہی

Habib Jalib

0 likes

کہی آہ بن کے لب پر ترا نام آ لگ جائے تجھے بےوفا ک ہوں ہے وہ ہے وہ حقیقت مقام آ لگ جائے ذرا زلف کو سنبھالو میرا دل دھڑک رہا ہے کوئی اور طائر دل تہ دام آ لگ جائے جسے سن کے ٹوٹ جائے میرا آرزو بھرا دل تری صورت آشنا سے مجھ کو حقیقت پیام آ لگ جائے حقیقت جو منزلوں پہ لا کر کسی ہم سفر کو لوٹیں انہی رہزنوں ہے وہ ہے وہ تیرا کہی نام آ لگ جائے اسی فکر ہے وہ ہے وہ ہیں غلطاں یہ وشق زر کے بندے جو تمام زندگی ہے حقیقت نصرت آ لگ جائے یہ مہ و نجوم ہن سے لیں مری آنسوؤں پہ جالب میرا ماہتاب جب تک لب بام آ لگ جائے

Habib Jalib

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Habib Jalib.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Habib Jalib's ghazal.