ghazalKuch Alfaaz

ik baar phir vatan men gaya ja ke aa gaya lakht-e-jigar ko khaak men dafna ke aa gaya har ham-safar pe khizr ka dhoka hua mujhe ab-e-baqa ki raah se katra ke aa gaya hur-e-lahad ne chhin liya tujh ko aur main apna sa munh liye hue sharma ke aa gaya dil le gaya mujhe tiri turbat pe baar baar avaz de ke baith ke ukta ke aa gaya roya ki tha jahez tira vajib-ul-ada menh motiyon ka qabr pe barsa ke aa gaya meri bisat kya thi huzur-e-raza-e-dost tinka sa ek samne dariya ke aa gaya ab ke bhi raas aai na hubb-e-vatan 'hafiz' ab ke bhi ek tir-e-qaza kha ke aa gaya ek bar phir watan mein gaya ja ke aa gaya lakht-e-jigar ko khak mein dafna ke aa gaya har ham-safar pe khizr ka dhoka hua mujhe aab-e-baqa ki rah se katra ke aa gaya hur-e-lahad ne chhin liya tujh ko aur main apna sa munh liye hue sharma ke aa gaya dil le gaya mujhe teri turbat pe bar bar aawaz de ke baith ke ukta ke aa gaya roya ki tha jahez tera wajib-ul-ada meinh motiyon ka qabr pe barsa ke aa gaya meri bisat kya thi huzur-e-raza-e-dost tinka sa ek samne dariya ke aa gaya ab ke bhi ras aai na hubb-e-watan 'hafiz' ab ke bhi ek tir-e-qaza kha ke aa gaya

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

More from Hafeez Jalandhari

آخر ایک دن شاد کروگے میرا گھر آباد کروگے پیار کی باتیں وصل کی راتیں یاد کروگے یاد کروگے ک سے دل سے آباد کیا تھا ک سے دل سے برباد کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اپنی قیمت کہ دی جاناں بھی کچھ ارشاد کروگے زر کے بندو عقل کے اندھو جاناں کیا مجھ کو شاد کروگے جب مجھ کو چپ لگ جائے گی پھروں جاناں بھی پڑنا کروگے اور تمہیں آتا ہی کیا ہے کوئی ستم ایجاد کروگے تنگ آ کر اے بندہ پرور بندے کو آزاد کروگے مری دل ہے وہ ہے وہ بسنے والو جاناں مجھ کو برباد کروگے حسن کو رسوا کر کے مرونہگا آخر جاناں کیا یاد کروگے حشر کے دن امید ہے ناصح جاناں مری امداد کروگے

Hafeez Jalandhari

1 likes

ہم ہی ہے وہ ہے وہ تھی لگ کوئی بات یاد لگ جاناں کو آ سکے جاناں نے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھلا دیا ہم لگ تمہیں بھلا سکے جاناں ہی لگ سن سکے ا گر قصہ غم سنے گا کون ک سے کی زبان کھلےگی پھروں ہم لگ ا گر سنا سکے ہوش ہے وہ ہے وہ آ چکے تھے ہم خون تمنا ہے وہ ہے وہ آ چکے تھے ہم بزم کا رنگ دیکھ کر سر لگ م گر اٹھا سکے رونق بزم بن گئے لب پہ حکایتیں رہیں دل ہے وہ ہے وہ شکایتیں رہیں لب لگ م گر ہلا سکے شوق وصال ہے ی ہاں لب پہ سوال ہے ی ہاں ک سے کی مجال ہے ی ہاں ہم سے نظر ملا سکے ایسا ہوں کوئی نامہ بر بات پہ کان دھر سکے سن کے یقین کر سکے جا کے ا نہیں سنا سکے عزت سے اور بڑھ گئی برہمی مزاج دوست اب حقیقت کرے علاج دوست ج سے کی سمجھ ہے وہ ہے وہ آ سکے اہل زبان تو ہیں بے حد کوئی نہیں ہے اہل دل کون تری طرح عرو سے بہار درد کے گیت گا سکے

Hafeez Jalandhari

0 likes

دوستی کا چلن رہا ہی نہیں اب زمانے کی حقیقت ہوا ہی نہیں سچ تو یہ ہے صنم کدے والو دل خدا نے تمہیں دیا ہی نہیں پلٹ آنے سے ہوں گیا تو ثابت نامہ بر تو و ہاں گیا تو ہی نہیں حال یہ ہے کہ ہم غریبوں کا حال جاناں نے کبھی سنا ہی نہیں کیا چلے زور دشت وحشت کا ہم نے دامن کبھی سیا ہی نہیں غیر بھی ایک دن مرینگے ضرور ان کے حصے ہے وہ ہے وہ کیا قضا ہی نہیں ا سے کی صورت کو دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری سیرت حقیقت دیکھتا ہی نہیں عشق میرا ہے شہر ہے وہ ہے وہ مشہور اور جاناں نے ابھی سنا ہی نہیں قصہ قی سے سن کے فرمایا جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں واسطہ ک سے کا دیں عرو سے بہار ان کو ان بتوں کا کوئی خدا ہی نہیں

Hafeez Jalandhari

0 likes

مٹنے والی حسرتیں ایجاد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب بھی چاہوں اک جہاں آباد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ کو ان مجبوریوں پر بھی ہے اتنا اختیار آہ بھر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ پڑنا کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حسن بے چارہ تو ہوں جاتا ہے 9 مہرباں پھروں اسے سراپا محبت کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو نہیں کہتا مگر دیکھ و وفا نا آشنا اپنی ہستی کہ سے دودمان برباد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں یہ ویرانہ یہ دل یہ آرزوؤں کا مزار جاناں کہو تو پھروں اسے آباد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب کوئی تازہ مصیبت ٹوٹتی ہے اے عروس بہار ایک عادت ہے خدا کو یاد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ

Hafeez Jalandhari

0 likes

کوئی دوا لگ دے سکے مشورہ دعا دیا چارگروں نے اور بھی غزلوں کا بڑھا دیا دونوں کو دے کے صورتیں ساتھ ہی آئی لگ دیا عشق بیسورنے لگا حسن نے مسکرا دیا ذوق نگاہ کے سوا شوق گناہ کے سوا مجھ کو بتوں سے کیا ملا مجھ کو خدا نے کیا دیا تھی لگ اڑائے کی روک تھام دامن اختیار ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم نے بھری بہار ہے وہ ہے وہ اپنا چمن لٹا دیا حسن نظر کی رکھ صنعت برہمن سے ہے ج سے کو صنم بنا لیا ا سے کو خدا بنا دیا داغ ہے مجھ پہ عشق کا میرا گناہ بھی تو دیکھ ا سے کی نگاہ بھی تو دیکھ ج سے نے یہ گل کھلا دیا عشق کی مملکت ہے وہ ہے وہ ہے شورش عقل نا مراد ابھرا کہی جو یہ فساد دل نے وہیں دبا دیا نقش وفا تو ہے وہ ہے وہ ہی تھا اب مجھے ہوں کیا حرف غلط نظر پڑا جاناں نے مجھے مٹا دیا خوب سے دروں دکھا دیا ہر دہن غلیظ نے کچھ لگ کہا عرو سے بہار نے ہن سے دیا مسکرا دیا

Hafeez Jalandhari

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Hafeez Jalandhari.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Hafeez Jalandhari's ghazal.